پاکستان کے دو مختلف سرحدی علاقوں میں فتنہ الخوارج کی جانب سے بزدلانہ کاروائیاں سامنے آئی ہیں، جن میں باجوڑ میں شہری آبادی پر گولہ باری کے نتیجے میں خواتین اور بچوں سمیت 6 افراد زخمی ہو گئے، جبکہ میانوالی کی بین الصوبائی چیک پوسٹ پر ڈرون کے ذریعے کیا گیا حملہ پولیس کی مستعدی کے باعث ناکام بنا دیا گیا۔
پہلا افسوسناک واقعہ ضلع باجوڑ میں حدود تھانہ لوئی سم کی حدود میں پیش آیا۔ ذرائع کے مطابق سرحد پار سے خوارج کی جانب سے داغا گیا ایک گولہ رہائشی آبادی میں شیر افسر ولد شیر افضل کے گھر کے اندر جا گرا۔ گولہ گرنے سے زوردار دھماکہ ہوا، جس کے نتیجے میں گھر میں موجود 6 افراد شدید زخمی ہو گئے اور مکان کی چھت پر نصب سولر پینلز کو شدید نقصان پہنچا۔ دھماکے کی زد میں آ کر گھر میں موجود مال مویشی، جن میں ایک گائے اور بکری شامل ہیں، بھی متاثر ہوئے۔
مقامی انتظامیہ اور امدادی ٹیموں نے فوری کاروائی کرتے ہوئے تمام زخمیوں کو علاج معالجے کے لیے ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال خار منتقل کر دیا ہے۔ زخمیوں میں شیر افسر ولد شیر افضل، پروین بی بی زوجہ جہان افسر، شہاب ولد شیر افسر، گلالی بی بی دختر شیر افسر، ماریہ بی بی دختر شیر افضل اور نازیہ بی بی زوجہ جنت گل شامل ہیں۔
دوسری جانب پنجاب اور خیبر پختونخوا کے سرحدی علاقے میں میانوالی پولیس نے دہشت گردوں کی ایک اور مذموم کوشش کو ناکام بنا دیا۔ ترجمان میانوالی پولیس کے مطابق لکی مروت کی سرحد سے متصل میانوالی کی اہم بین الصوبائی بارڈر چیک پوسٹ درہ تنگ کے قریب شام کے وقت ایک مشکوک ڈرون سرگرمی دیکھی گئی۔
فتنہ الخوارج کے دہشت گردوں نے ڈرون کے ذریعے پولیس چوکی کو نشانہ بنانے کی کوشش کی اور ایک گرنیڈ گرایا، تاہم چوکی سے فاصلے پر گرنے کے باعث کوئی جانی یا مالی نقصان نہیں ہوا اور تمام اہلکار محفوظ رہے۔
اس حملے کے تقریباً 10 منٹ بعد خیبر پختونخوا کی حدود میں مزید تین گرنیڈ ڈرون کے ذریعے گرائے گئے، جن میں سے دو درہ تنگ پولیس چوکی لکی مروت اور ایک بلند قلعہ (فورٹ پوسٹ) کے قریب گرا، لیکن وہاں بھی کوئی نقصان نہیں ہوا۔ واقعے کی اطلاع ملتے ہی ڈی پی او میانوالی وقار عظیم کھرل پولیس اور ایلیٹ فورس کی بھاری نفری کے ہمراہ فوری طور پر موقع پر پہنچے اور جوانوں کے حوصلے بلند کیے۔ سرحدی علاقوں میں ڈرون سرویلنس، زمینی نگرانی اور سرچ آپریشن کا سلسلہ تیز کر کے سکیورٹی کو ہائی الرٹ کر دیا گیا ہے۔