عالمی امن اور علاقائی استحکام اس وقت ایک ایسے نازک ترین موڑ پر کھڑے ہیں جہاں سرحد پار عسکریت پسندی اور ڈیجیٹل انتہا پسندی نے روایتی دفاعی مفروضوں کو یکسر بدل کر رکھ دیا ہے۔ حالیہ دنوں میں خیبر پختونخوا، بالخصوص ضلع باجوڑ میں ڈمانگی کیمپ پر ہونے والے ہلاکت خیز خودکش حملے کی سنگین تفاصیل اور دوسری جانب یورپی یونین کی خفیہ “تھریٹ اسیسمنٹ رپورٹ” نے بیک وقت ان حقائق پر مہرِ تصدیق ثبت کر دی ہے جن کی نشاندہی پاکستان طویل عرصے سے عالمی فورمز پر کرتا آ رہا ہے۔ یہ شواہد ثابت کرتے ہیں کہ افغان طالبان کے زیرِ سایہ افغانستان اس وقت نہ صرف جنوبی ایشیا کے امن کو دیمک کی طرح چاٹ رہا ہے بلکہ بین الاقوامی عسکریت پسندی اور سرحد پار نیٹ ورکس کا سب سے بڑا گڑھ بن کر ابھرا ہے، جس کا دائرہ اثر اب خطے سے نکل کر یورپ کی دہلیز تک جا پہنچا ہے۔
باجوڑ کے ڈمانگی کیمپ پر رات کی تاریکی میں ہونے والے بزدلانہ شب خون کی تحقیقاتی دستاویزات اس تلخ حقیقت کا بین ثبوت ہیں کہ پاکستان میں ہونے والے پے در پے حملوں، نہتے شہریوں کے خون اور سیکیورٹی فورسز کو نشانہ بنانے کی ہر کڑی کے تانے بانے براہِ راست افغان سر زمین سے جڑے ہوئے ہیں۔ تحقیقات سے یہ ہولناک حقیقت عیاں ہوئی ہے کہ کیمپ پر حملہ کرنے والے خودکش بمبار جلال الدین عرف سجاد کا تعلق افغانستان کے صوبہ وردک کے ضلع نرکھ کے گاؤں دادل سے تھا، جبکہ فورسز کی بھرپور جوابی کاروائی میں مارے جانے والے اس کے دیگر تمام ساتھی جنگجو بھی افغان شہری ہی ثابت ہوئے۔
اس سے بھی زیادہ تشویشناک امر یہ ہے کہ افغانستان میں اس ہلاک شدہ خودکش بمبار کی باقاعدہ تعزیتی تقاریب اور غائبانہ نمازِ جنازہ کا انعقاد کیا گیا، جو افغان رجیم کی جانب سے دہشت گرد عناصر کی دانستہ یا غیر دانستہ سرپرستی کا کھلا اعتراف ہے۔ پڑوسی ملک کی سرزمین سے مروجہ شواہد کے ساتھ دہشت گردوں کا پاکستان میں داخل ہونا کابل انتظامیہ کے ان دعووں کی قلعی کھول دیتا ہے کہ ان کی دھرتی کسی دوسرے ملک کے خلاف استعمال نہیں ہو رہی۔
یہ بحران اب صرف پاکستان یا جنوبی ایشیا تک محدود نہیں رہا، بلکہ یورپی یونین کی 23 صفحات پر مشتمل انتہائی حساس اور خفیہ رپورٹ نے عالمی برادری کے ایوانوں میں ہلچل مچا دی ہے۔ رپورٹ کے مطابق افغانستان میں محفوظ پناہ گاہوں کی حامل تنظیم داعش خراسان اس وقت براعظم یورپ کے لیے سب سے بڑا اور ہولناک ترین بیرونی خطرہ بن چکی ہے، جس کے تخریبی نیٹ ورکس یورپی ممالک میں بڑے پیمانے پر کاروائیاں کرنے کی صلاحیت حاصل کر رہے ہیں۔
اس سے بھی زیادہ ہولناک انکشاف ڈیجیٹل دہشت گردی کے حوالے سے ہوا ہے، جہاں افغانستان میں موجود عسکری گروہ ‘ٹیلی گرام’ اور ‘ٹک ٹاک’ جیسے مقبول سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کو ہتھیار بنا کر محض 12 سال کے کم عمر بچوں کی آن لائن ذہن سازی کر رہے ہیں تاکہ انہیں سرحد پار دہشت گردی کے لیے بھرتی کیا جا سکے۔ یہ صورتحال واضح کرتی ہے کہ افغان رجیم کی کمزور گرفت یا ملی بھگت کے باعث وہاں پنپنے والا انتہا پسندی کا یہ ناسور اب پوری دنیا کے مستقبل کو تاریک کرنے پر تلا ہوا ہے۔
عالمی دفاعی ماہرین کے مطابق یورپی یونین کی اس لیک شدہ خفیہ دستاویز نے بین الاقوامی سطح پر پاکستان کے اس دیرینہ اور اصولی مؤقف کی سو فیصد تائید کی ہے کہ افغانستان کا موجودہ ڈھانچہ ہی عالمی انتہا پسندی، ڈیجیٹل ریڈیکلائزیشن اور بین الاقوامی منشیات فروشی کی اصل جڑ بن چکا ہے۔ آئے روز خیبر پختونخوا میں شہریوں کے قتلِ عام، سکیورٹی تنصیبات پر حملوں اور معاشی منصوبوں کو سبوتاژ کرنے کی کوششوں کا تدارک اس وقت تک ممکن نہیں، جب تک بین الاقوامی برادری کابل انتظامیہ پر دباؤ بڑھا کر ان محفوظ پناہ گاہوں کا مستقل خاتمہ نہیں کرواتی۔
پاکستان اپنی خودمختاری کے تحفظ اور دھرتی کے دفاع کے لیے پرعزم ہے، لیکن اب وقت آ گیا ہے کہ عالمی دنیا جاگے؛ اگر آج افغانستان سے اٹھنے والے ان سرحد پار خطرات کے خلاف کثیر الجہتی اور دوٹوک تادیبی اقدامات نہ کیے گئے، تو یہ فتنہ نہ صرف جنوبی ایشیا کے امن کو یکسر تباہ کر دے گا بلکہ عالمی سلامتی کے پورے ڈھانچے کو راکھ کے ڈھیر میں تبدیل کر دے گا۔