باجوڑ حملے میں افغان عسکریت پسندوں کی شمولیت اور یورپی یونین کی لیک شدہ خفیہ رپورٹ نے ثابت کر دیا ہے کہ افغان طالبان رجیم کے زیرِ سایہ افغانستان اس وقت نہ صرف جنوبی ایشیا کے امن کو دیمک کی طرح چاٹ رہا ہے۔

May 18, 2026

یورپی یونین کی خفیہ رپورٹ کے مطابق افغان طالبان رجیم کے زیرِ سایہ افغانستان سرحد پار دہشت گردی اور ڈیجیٹل ریڈیکلائزیشن کا مرکز بن چکا ہے، جہاں داعش خراسان پورے یورپ کے لیے سنگین ترین خطرہ بن گئی ہے۔

May 18, 2026

سعودی عرب کی ایئر ڈیفنس فورسز نے عراقی سرحد سے فضائی حدود میں داخل ہونے والے 3 مسلح ڈرونز کو کامیابی سے تباہ کر دیا ہے، جبکہ سعودی عرب نے یو اے ای کے جوہری پلانٹ کے قریب ڈرون حملے کی بھی شدید مذمت کی ہے۔

May 18, 2026

بلوچستان کے علاقے منگلہ زرغون غر میں 13 مئی سے جاری سکیورٹی فورسز کے انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن میں فتنہ ہندوستان کے 35 سے زائد عسکریت پسند مارے گئے اور 3 کمانڈرز کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔

May 18, 2026

سائفر کا معاملہ غیر سفارتی زبان اور امریکی دباؤ کو تو ظاہر کرتا ہے، لیکن شواہد اور اتحادیوں کی علیحدگی کے پارلیمانی حقائق یہ ثابت کرتے ہیں کہ عمران خان کی حکومت کسی بیرونی سازش سے نہیں بلکہ داخلی عددی بحران کے باعث آئینی طریقے سے ختم ہوئی۔

May 18, 2026

باجوڑ کے دمنگی کیمپ پر حملہ کرنے والے خودکش بمبار کی شناخت جلال الدین عرف سجاد کے نام سے ہوئی ہے جو افغان صوبے وردک کا رہائشی تھا، جبکہ محاذ کے مطابق حملے میں ہلاک دیگر جنگجو بھی افغان شہری تھے۔

May 18, 2026

باجوڑ حملہ: خودکش بمبار افغان شہری نکلا، تعلق صوبہ وردک سے ہونے کی تصدیق

باجوڑ کے دمنگی کیمپ پر حملہ کرنے والے خودکش بمبار کی شناخت جلال الدین عرف سجاد کے نام سے ہوئی ہے جو افغان صوبے وردک کا رہائشی تھا، جبکہ محاذ کے مطابق حملے میں ہلاک دیگر جنگجو بھی افغان شہری تھے۔
باجوڑ کے دمنگی کیمپ پر حملہ کرنے والے خودکش بمبار کی شناخت جلال الدین عرف سجاد کے نام سے ہوئی ہے جو افغان صوبے وردک کا رہائشی تھا، جبکہ محاذ کے مطابق حملے میں ہلاک دیگر جنگجو بھی افغان شہری تھے۔

محاذ کی رپورٹ کے مطابق باجوڑ کے دمنگی کیمپ پر حملہ کرنے والے خودکش بمبار جلال الدین کا تعلق افغان صوبے وردک سے تھا۔ ہلاک ہونے والے دیگر جنگجو بھی افغان شہری نکلے۔

May 18, 2026

خیبر پختونخوا کے سرحدی ضلع باجوڑ کے دمنگی کیمپ پر گزشتہ دنوں ہونے والے مہلک دہشت گردانہ حملے کی تحقیقات میں اہم ترین پیش رفت سامنے آئی ہے، جہاں حملے میں ملوث خودکش بمبار اور دیگر ہلاک جنگجوؤں کا تعلق افغانستان سے ہونے کی تصدیق ہو گئی ہے۔

محاذ کی جاری کردہ رپورٹ کے مطابق دمنگی کیمپ پر حملہ کرنے والے خودکش بمبار کی باقاعدہ شناخت جلال الدین عرف سجاد کے نام سے ہوئی ہے۔ تحقیقاتی رپورٹس سے معلوم ہوا ہے کہ ہلاک ہونے والا خودکش حملہ آور جلال الدین افغان شہری تھا، جس کا تعلق افغانستان کے صوبہ وردک کے ضلع نرکھ کے گاؤں دادل سے تھا۔

ذرائع ابلاغ کے مطابق خودکش بمبار جلال الدین کی شناخت منظرِ عام پر آنے کے بعد افغانستان میں اس کے آبائی گاؤں دادل میں گزشتہ روز غائبانہ نمازِ جنازہ اور ایک تعزیتی تقریب بھی منعقد کی گئی، جس سے اس کی ہلاکت اور حملے میں ملوث ہونے کی مزید تصدیق ہوتی ہے۔

محاذ کی رپورٹ کے مطابق باجوڑ کے دمنگی کیمپ پر گزشتہ رات ہونے والے اس مہلک حملے کے دوران سکیورٹی فورسز کی جوابی کاروائی میں مارے جانے والے دیگر تمام دہشت گرد اور جنگجو بھی افغان شہری ہی تھے.

دہشت گردوں کے قبضے سے ملنے والے شواہد اور نیٹ ورک کی کڑیاں سرحد پار افغانستان سے ملنے کے بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں نے تحقیقات کا دائرہ وسیع کر دیا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس نیٹ ورک کے حوالے سے مزید اہم اور تفصیلی معلومات جلد ہی میڈیا کے ساتھ شیئر کی جائیں گی۔

متعلقہ مضامین

باجوڑ حملے میں افغان عسکریت پسندوں کی شمولیت اور یورپی یونین کی لیک شدہ خفیہ رپورٹ نے ثابت کر دیا ہے کہ افغان طالبان رجیم کے زیرِ سایہ افغانستان اس وقت نہ صرف جنوبی ایشیا کے امن کو دیمک کی طرح چاٹ رہا ہے۔

May 18, 2026

یورپی یونین کی خفیہ رپورٹ کے مطابق افغان طالبان رجیم کے زیرِ سایہ افغانستان سرحد پار دہشت گردی اور ڈیجیٹل ریڈیکلائزیشن کا مرکز بن چکا ہے، جہاں داعش خراسان پورے یورپ کے لیے سنگین ترین خطرہ بن گئی ہے۔

May 18, 2026

سعودی عرب کی ایئر ڈیفنس فورسز نے عراقی سرحد سے فضائی حدود میں داخل ہونے والے 3 مسلح ڈرونز کو کامیابی سے تباہ کر دیا ہے، جبکہ سعودی عرب نے یو اے ای کے جوہری پلانٹ کے قریب ڈرون حملے کی بھی شدید مذمت کی ہے۔

May 18, 2026

بلوچستان کے علاقے منگلہ زرغون غر میں 13 مئی سے جاری سکیورٹی فورسز کے انٹیلی جنس بیسڈ آپریشن میں فتنہ ہندوستان کے 35 سے زائد عسکریت پسند مارے گئے اور 3 کمانڈرز کو گرفتار کر لیا گیا ہے۔

May 18, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *