اورکزئی میں امن کمیٹی کی کارروائی کے بعد سکیورٹی فورسز نے علاقے کا گھیراؤ کر کے سرچ آپریشن شروع کر دیا۔

August 22, 2026

پی ٹی آئی نے سپریم کورٹ میں حکومت کے خلاف توہینِ عدالت کی درخواست دائر کر دی، عمران خان کی فوری ہسپتال منتقلی کا بھی مطالبہ۔

August 22, 2026

زیک گولڈ اسمتھ کا برطانوی حکومت کو خط عمران خان کی حمایت میں عالمی اور اسرائیلی لابی کے متحرک ہونے کا کھلا ثبوت ہے۔

August 22, 2026

مولانا فضل الرحمن کا متحدہ اپوزیشن کا اعلان عوامی مسائل سے زیادہ اپنی سیاسی اہمیت بچانے کی کوشش ہے۔

August 22, 2026

صدر پزشکیان کا کہنا ہے ایران طاقت کی پوزیشن میں ہے، اب جنگ ختم کرنا بہتر ہو گا۔

August 22, 2026

وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا ہے کہ بلوچستان کے مسائل کا حل گرینڈ ڈائیلاگ میں ہے، فتنہ الخوارج دشمن ملک سے وسائل حاصل کر رہا ہے۔

August 21, 2026

باجوڑ حملہ: خودکش بمبار افغان شہری نکلا، تعلق صوبہ وردک سے ہونے کی تصدیق

باجوڑ کے دمنگی کیمپ پر حملہ کرنے والے خودکش بمبار کی شناخت جلال الدین عرف سجاد کے نام سے ہوئی ہے جو افغان صوبے وردک کا رہائشی تھا، جبکہ محاذ کے مطابق حملے میں ہلاک دیگر جنگجو بھی افغان شہری تھے۔
باجوڑ کے دمنگی کیمپ پر حملہ کرنے والے خودکش بمبار کی شناخت جلال الدین عرف سجاد کے نام سے ہوئی ہے جو افغان صوبے وردک کا رہائشی تھا، جبکہ محاذ کے مطابق حملے میں ہلاک دیگر جنگجو بھی افغان شہری تھے۔

محاذ کی رپورٹ کے مطابق باجوڑ کے دمنگی کیمپ پر حملہ کرنے والے خودکش بمبار جلال الدین کا تعلق افغان صوبے وردک سے تھا۔ ہلاک ہونے والے دیگر جنگجو بھی افغان شہری نکلے۔

May 18, 2026

خیبر پختونخوا کے سرحدی ضلع باجوڑ کے دمنگی کیمپ پر گزشتہ دنوں ہونے والے مہلک دہشت گردانہ حملے کی تحقیقات میں اہم ترین پیش رفت سامنے آئی ہے، جہاں حملے میں ملوث خودکش بمبار اور دیگر ہلاک جنگجوؤں کا تعلق افغانستان سے ہونے کی تصدیق ہو گئی ہے۔

محاذ کی جاری کردہ رپورٹ کے مطابق دمنگی کیمپ پر حملہ کرنے والے خودکش بمبار کی باقاعدہ شناخت جلال الدین عرف سجاد کے نام سے ہوئی ہے۔ تحقیقاتی رپورٹس سے معلوم ہوا ہے کہ ہلاک ہونے والا خودکش حملہ آور جلال الدین افغان شہری تھا، جس کا تعلق افغانستان کے صوبہ وردک کے ضلع نرکھ کے گاؤں دادل سے تھا۔

ذرائع ابلاغ کے مطابق خودکش بمبار جلال الدین کی شناخت منظرِ عام پر آنے کے بعد افغانستان میں اس کے آبائی گاؤں دادل میں گزشتہ روز غائبانہ نمازِ جنازہ اور ایک تعزیتی تقریب بھی منعقد کی گئی، جس سے اس کی ہلاکت اور حملے میں ملوث ہونے کی مزید تصدیق ہوتی ہے۔

محاذ کی رپورٹ کے مطابق باجوڑ کے دمنگی کیمپ پر گزشتہ رات ہونے والے اس مہلک حملے کے دوران سکیورٹی فورسز کی جوابی کاروائی میں مارے جانے والے دیگر تمام دہشت گرد اور جنگجو بھی افغان شہری ہی تھے.

دہشت گردوں کے قبضے سے ملنے والے شواہد اور نیٹ ورک کی کڑیاں سرحد پار افغانستان سے ملنے کے بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں نے تحقیقات کا دائرہ وسیع کر دیا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس نیٹ ورک کے حوالے سے مزید اہم اور تفصیلی معلومات جلد ہی میڈیا کے ساتھ شیئر کی جائیں گی۔

متعلقہ مضامین

اورکزئی میں امن کمیٹی کی کارروائی کے بعد سکیورٹی فورسز نے علاقے کا گھیراؤ کر کے سرچ آپریشن شروع کر دیا۔

August 22, 2026

پی ٹی آئی نے سپریم کورٹ میں حکومت کے خلاف توہینِ عدالت کی درخواست دائر کر دی، عمران خان کی فوری ہسپتال منتقلی کا بھی مطالبہ۔

August 22, 2026

زیک گولڈ اسمتھ کا برطانوی حکومت کو خط عمران خان کی حمایت میں عالمی اور اسرائیلی لابی کے متحرک ہونے کا کھلا ثبوت ہے۔

August 22, 2026

مولانا فضل الرحمن کا متحدہ اپوزیشن کا اعلان عوامی مسائل سے زیادہ اپنی سیاسی اہمیت بچانے کی کوشش ہے۔

August 22, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *