خیبر پختونخوا کے سرحدی ضلع باجوڑ کے دمنگی کیمپ پر گزشتہ دنوں ہونے والے مہلک دہشت گردانہ حملے کی تحقیقات میں اہم ترین پیش رفت سامنے آئی ہے، جہاں حملے میں ملوث خودکش بمبار اور دیگر ہلاک جنگجوؤں کا تعلق افغانستان سے ہونے کی تصدیق ہو گئی ہے۔
محاذ کی جاری کردہ رپورٹ کے مطابق دمنگی کیمپ پر حملہ کرنے والے خودکش بمبار کی باقاعدہ شناخت جلال الدین عرف سجاد کے نام سے ہوئی ہے۔ تحقیقاتی رپورٹس سے معلوم ہوا ہے کہ ہلاک ہونے والا خودکش حملہ آور جلال الدین افغان شہری تھا، جس کا تعلق افغانستان کے صوبہ وردک کے ضلع نرکھ کے گاؤں دادل سے تھا۔
Update: The suicide bomber, Jalaluddin, who was killed in Bajaur, was from Dadal Village in Narkh District, Wardak Province, Afghanistan. A condolence ceremony for Jalaluddin was held yesterday in his village. https://t.co/91GqDwWwnm
— Mahaz (@MahazOfficial1) May 18, 2026
ذرائع ابلاغ کے مطابق خودکش بمبار جلال الدین کی شناخت منظرِ عام پر آنے کے بعد افغانستان میں اس کے آبائی گاؤں دادل میں گزشتہ روز غائبانہ نمازِ جنازہ اور ایک تعزیتی تقریب بھی منعقد کی گئی، جس سے اس کی ہلاکت اور حملے میں ملوث ہونے کی مزید تصدیق ہوتی ہے۔
محاذ کی رپورٹ کے مطابق باجوڑ کے دمنگی کیمپ پر گزشتہ رات ہونے والے اس مہلک حملے کے دوران سکیورٹی فورسز کی جوابی کاروائی میں مارے جانے والے دیگر تمام دہشت گرد اور جنگجو بھی افغان شہری ہی تھے.
دہشت گردوں کے قبضے سے ملنے والے شواہد اور نیٹ ورک کی کڑیاں سرحد پار افغانستان سے ملنے کے بعد قانون نافذ کرنے والے اداروں نے تحقیقات کا دائرہ وسیع کر دیا ہے۔ حکام کا کہنا ہے کہ اس نیٹ ورک کے حوالے سے مزید اہم اور تفصیلی معلومات جلد ہی میڈیا کے ساتھ شیئر کی جائیں گی۔