"> افغانستان شدت پسند گروہوں کا مرکز، داعش یورپ کے لیے سنگین خطرہ قرار: یورپی یونین کی رپورٹ - HTN Urdu
مولانا فضل الرحمان کی سیاست، مذہب کا سیاسی استعمال

اصولوں کی سیاست یا مفادات کا کھیل

مذہب، عسکری پالیسی اور جمہوریت کو اقتدار کی سیڑھی بنانے والے مولانا فضل الرحمان کی سیاست میں دوہرے معیار، سیاسی یوٹرنز اور مفاد پرستی کے تضادات نمایاں ہیں۔

افغانستان شدت پسند گروہوں کا مرکز، داعش یورپ کے لیے سنگین خطرہ قرار: یورپی یونین کی رپورٹ

یورپی یونین کی خفیہ رپورٹ کے مطابق افغان طالبان رجیم کے زیرِ سایہ افغانستان سرحد پار دہشت گردی اور ڈیجیٹل ریڈیکلائزیشن کا مرکز بن چکا ہے، جہاں داعش خراسان پورے یورپ کے لیے سنگین ترین خطرہ بن گئی ہے۔
یورپی یونین کی خفیہ رپورٹ کے مطابق افغان طالبان رجیم کے زیرِ سایہ افغانستان سرحد پار دہشت گردی اور ڈیجیٹل ریڈیکلائزیشن کا مرکز بن چکا ہے، جہاں داعش خراسان پورے یورپ کے لیے سنگین ترین خطرہ بن گئی ہے۔

یورپی یونین کی 23 صفحات پر مشتمل خفیہ تھریٹ اسیسمنٹ رپورٹ کے مطابق افغانستان میں سرگرم داعش خراسان یورپ کے لیے سنگین خطرہ ہے جبکہ دہشت گرد گروہ ٹک ٹاک اور ٹیلی گرام سے کم عمر بچوں کو بھرتی کر رہے ہیں۔

May 18, 2026

طالبان رجیم کے زیرِ سایہ افغانستان ایک بار پھر بین الاقوامی شدت پسند نیٹ ورکس اور سرحد پار دہشت گردی کا گڑھ بن چکا ہے، جہاں پروان چڑھنے والی انتہا پسندی اب محض علاقائی خطرہ نہیں رہی بلکہ یورپ کی دہلیز تک پہنچ گئی ہے۔ یورپی یونین کی ایک 23 صفحات پر مشتمل انتہائی حساس “تھریٹ اسیسمنٹ رپورٹ” میں یہ ہوشربا انکشافات منظرِ عام پر آئے ہیں۔

رپورٹ کے مطابق یورپی یونین کی اس خفیہ دستاویز میں واضح کیا گیا ہے کہ افغانستان سے ابھرتے ہوئے سکیورٹی خطرات کے باعث یورپی ممالک کو پرتشدد انتہا پسندی اور دہشت گردی کے سنگین چیلنجز کا سامنا ہے۔ رپورٹ کے مطابق افغانستان میں محفوظ پناہ گاہوں کا حامل عسکریت پسند گروہ ‘داعش خراسان’ اس وقت پورے یورپ کے لیے سب سے بڑا اور سنگین ترین بیرونی خطرہ بن کر ابھرا ہے، جس کے نیٹ ورکس براعظم یورپ میں بڑے پیمانے پر تخریب کاری کی صلاحیت حاصل کر رہے ہیں۔

خفیہ رپورٹ میں ڈیجیٹل دہشت گردی کے حوالے سے انتہائی تشویشناک حقائق بیان کرتے ہوئے بتایا گیا ہے کہ افغانستان میں موجود دہشت گرد تنظیمیں نئی نسل کو گمراہ کرنے کے لیے انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا کا بے دریغ استعمال کر رہی ہیں۔ یہ گروہ ‘ٹیلی گرام’ اور ‘ٹک ٹاک’ جیسے مقبول سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کے ذریعے پروپیگنڈا پھیلا رہے ہیں اور محض 12 سال تک کے کم عمر بچوں کی آن لائن ذہن سازی کر کے انہیں اپنے نیٹ ورکس میں بھرتی کر رہے ہیں۔

عالمی و دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ یورپی یونین کی اس لیک شدہ خفیہ دستاویز نے عالمی سطح پر پاکستان کے اس اصولی مؤقف کی مکمل تائید کر دی ہے کہ افغانستان میں موجود موجودہ رجیم ہی خطے اور دنیا بھر میں انتہا پسندی اور منشیات کی ترسیل کی اصل جڑ ہے۔ ماہرین کے مطابق، افغان طالبان کی سرپرستی اور کمزور گرفت کے باعث افغانستان اس وقت ڈیجیٹل ریڈیکلائزیشن، منشیات فروشی اور سرحد پار دہشت گردی کا سب سے بڑا مرکز بن چکا ہے، جس کا بروقت تدارک نہ کیا گیا تو یہ عالمی امن کو یکسر تباہ کر دے گا۔

متعلقہ مضامین

وادی تیراہ میں 4 دہشت گرد ہلاک اور 8 زخمی ہو گئے، جبکہ لکی مروت میں کوہاٹ پولیس لائنز حملے کا ماسٹر مائنڈ زاہد گل مارا گیا۔

October 16, 2026

روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے افغانستان میں دہشت گرد گروہوں کی موجودگی کو خطے کے لیے خطرہ قرار دے کر افغان طالبان کے پاکستان مخالف الزامات کو مسترد کر دیا۔

October 16, 2026

محسن نقوی کا دعویٰ ہے کہ گورنر راج میں حصہ اور گورنر شپ نہ ملنے پر ایک سیاسی جماعت کے سربراہ ناراض ہیں۔ انہوں نے سابق فاٹا کے وسائل اور خیبرپختونخوا کی سکیورٹی صورت حال پر بھی بات کی۔

October 16, 2026

دفاعی تجزیہ کار میجر جنرل ریٹائرڈ طارق رشید کا کہنا ہے کہ افغانستان میں چھوڑے گئے اربوں روپے کے امریکی ہتھیار پاکستان میں دہشت گردی پھیلانے کے لیے استعمال ہو رہے ہیں۔

October 16, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *