"> بدخشاں میں طالبان مخالف عوامی ابھار؛ فریڈم فرنٹ کا وادی خوستک پر قبضے اور طالبان کی پسپائی کا دعویٰ، داؤد ناجی کے انکشافات - HTN Urdu
مولانا فضل الرحمان کی سیاست، مذہب کا سیاسی استعمال

اصولوں کی سیاست یا مفادات کا کھیل

مذہب، عسکری پالیسی اور جمہوریت کو اقتدار کی سیڑھی بنانے والے مولانا فضل الرحمان کی سیاست میں دوہرے معیار، سیاسی یوٹرنز اور مفاد پرستی کے تضادات نمایاں ہیں۔

بدخشاں میں طالبان مخالف عوامی ابھار؛ فریڈم فرنٹ کا وادی خوستک پر قبضے اور طالبان کی پسپائی کا دعویٰ، داؤد ناجی کے انکشافات

انہوں نے واضح کیا کہ بدخشاں تاریخی طور پر ہمیشہ سے آزادی کی جدوجہد اور مزاحمت کا گہوارہ رہا ہے، اور اب طالبان کے رویوں نے چھری ہڈی تک پہنچا دی ہے جس کے نتیجے میں عوام سڑکوں پر نکلنے پر مجبور ہوئے ہیں۔
داؤد ناجی کا بیان

میڈیا میں بدخشاں کے حالیہ عوامی ابھار کو محض پوست کی کاشت کی تباہی کا شاخسانہ قرار دیا جا رہا ہے، جبکہ حقیقت اس کے برعکس ہے۔

May 18, 2026

کابل: افغانستان کے صوبے بدخشاں میں طالبان مخالف عوامی احتجاج اور بڑھتی ہوئی عسکری سرگرمیوں نے ملک کی تزویراتی صورتحال کو ایک نیا رخ دے دیا ہے۔ افغانستان فریڈم فرنٹ کی پولیٹیکل کمیٹی کے سربراہ داؤد ناجی نے ایک بین الاقوامی نشریاتی ادارے کو انٹرویو دیتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ فرنٹ کے جنگجوؤں نے بدخشاں میں داخل ہو کر تزویراتی طور پر انتہائی اہم مقام ‘وادی خوستک’ سے طالبان افواج کو پیچھے ہٹنے پر مجبور کر دیا ہے۔ یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب خطے میں مقامی آبادی کی جانب سے طالبان کے خلاف شدید عوامی احتجاجی تحریک جاری ہے۔

داؤد ناجی کے مطابق، میڈیا میں بدخشاں کے حالیہ عوامی ابھار کو محض پوست کی کاشت کی تباہی کا شاخسانہ قرار دیا جا رہا ہے، جبکہ حقیقت اس کے برعکس ہے۔ اصل وجہ گزشتہ تین سالوں سے جاری طالبان کا وہ غیر آئینی، غیر شرعی اور غیر انسانی جبر ہے جس کے تحت مقامی آبادی کو مسلسل تذلیل، تشدد، قید اور غیر مقامی طالبان کمانڈروں کے ہاتھوں گھروں کی پامالی کا سامنا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ بدخشاں تاریخی طور پر ہمیشہ سے آزادی کی جدوجہد اور مزاحمت کا گہوارہ رہا ہے، اور اب طالبان کے رویوں نے چھری ہڈی تک پہنچا دی ہے جس کے نتیجے میں عوام سڑکوں پر نکلنے پر مجبور ہوئے ہیں۔

فریڈم فرنٹ کی عسکری قیادت کا کہنا ہے کہ فرنٹ ایک منظم عسکری کیلنڈر کے تحت کام کر رہا ہے اور اس نے اپنے تزویراتی منصوبے کے مطابق “موسمِ بہار کی کارروائیوں کا باضابطہ آغاز کر دیا ہے۔ ان کارروائیوں کا مقصد عوامی غم و غصے اور اس نازک صورتحال کا فائدہ اٹھاتے ہوئے طالبان کے جبری تسلط کو پیچھے دھکیلنا ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق، وادی خوستک جیسے اسٹریٹجک خطے میں طالبان کی پسپائی اور مقامی عوام کی بغاوت اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ طاقت اور خوف کے بل بوتے پر چلنے والا نظام اب اندرونی طور پر شدید کمزوری کا شکار ہو رہا ہے۔

دیکھئیے:باجوڑ حملہ: خودکش بمبار افغان شہری نکلا، تعلق صوبہ وردک سے ہونے کی تصدیق

متعلقہ مضامین

وادی تیراہ میں 4 دہشت گرد ہلاک اور 8 زخمی ہو گئے، جبکہ لکی مروت میں کوہاٹ پولیس لائنز حملے کا ماسٹر مائنڈ زاہد گل مارا گیا۔

October 16, 2026

روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے افغانستان میں دہشت گرد گروہوں کی موجودگی کو خطے کے لیے خطرہ قرار دے کر افغان طالبان کے پاکستان مخالف الزامات کو مسترد کر دیا۔

October 16, 2026

محسن نقوی کا دعویٰ ہے کہ گورنر راج میں حصہ اور گورنر شپ نہ ملنے پر ایک سیاسی جماعت کے سربراہ ناراض ہیں۔ انہوں نے سابق فاٹا کے وسائل اور خیبرپختونخوا کی سکیورٹی صورت حال پر بھی بات کی۔

October 16, 2026

دفاعی تجزیہ کار میجر جنرل ریٹائرڈ طارق رشید کا کہنا ہے کہ افغانستان میں چھوڑے گئے اربوں روپے کے امریکی ہتھیار پاکستان میں دہشت گردی پھیلانے کے لیے استعمال ہو رہے ہیں۔

October 16, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *