کابل: افغانستان کے صوبے بدخشاں میں طالبان مخالف عوامی احتجاج اور بڑھتی ہوئی عسکری سرگرمیوں نے ملک کی تزویراتی صورتحال کو ایک نیا رخ دے دیا ہے۔ افغانستان فریڈم فرنٹ کی پولیٹیکل کمیٹی کے سربراہ داؤد ناجی نے ایک بین الاقوامی نشریاتی ادارے کو انٹرویو دیتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ فرنٹ کے جنگجوؤں نے بدخشاں میں داخل ہو کر تزویراتی طور پر انتہائی اہم مقام ‘وادی خوستک’ سے طالبان افواج کو پیچھے ہٹنے پر مجبور کر دیا ہے۔ یہ پیش رفت ایک ایسے وقت میں سامنے آئی ہے جب خطے میں مقامی آبادی کی جانب سے طالبان کے خلاف شدید عوامی احتجاجی تحریک جاری ہے۔
داؤد ناجی کے مطابق، میڈیا میں بدخشاں کے حالیہ عوامی ابھار کو محض پوست کی کاشت کی تباہی کا شاخسانہ قرار دیا جا رہا ہے، جبکہ حقیقت اس کے برعکس ہے۔ اصل وجہ گزشتہ تین سالوں سے جاری طالبان کا وہ غیر آئینی، غیر شرعی اور غیر انسانی جبر ہے جس کے تحت مقامی آبادی کو مسلسل تذلیل، تشدد، قید اور غیر مقامی طالبان کمانڈروں کے ہاتھوں گھروں کی پامالی کا سامنا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ بدخشاں تاریخی طور پر ہمیشہ سے آزادی کی جدوجہد اور مزاحمت کا گہوارہ رہا ہے، اور اب طالبان کے رویوں نے چھری ہڈی تک پہنچا دی ہے جس کے نتیجے میں عوام سڑکوں پر نکلنے پر مجبور ہوئے ہیں۔
فریڈم فرنٹ کی عسکری قیادت کا کہنا ہے کہ فرنٹ ایک منظم عسکری کیلنڈر کے تحت کام کر رہا ہے اور اس نے اپنے تزویراتی منصوبے کے مطابق “موسمِ بہار کی کارروائیوں کا باضابطہ آغاز کر دیا ہے۔ ان کارروائیوں کا مقصد عوامی غم و غصے اور اس نازک صورتحال کا فائدہ اٹھاتے ہوئے طالبان کے جبری تسلط کو پیچھے دھکیلنا ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق، وادی خوستک جیسے اسٹریٹجک خطے میں طالبان کی پسپائی اور مقامی عوام کی بغاوت اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ طاقت اور خوف کے بل بوتے پر چلنے والا نظام اب اندرونی طور پر شدید کمزوری کا شکار ہو رہا ہے۔
دیکھئیے:باجوڑ حملہ: خودکش بمبار افغان شہری نکلا، تعلق صوبہ وردک سے ہونے کی تصدیق