اقوام متحدہ میں پاکستان کے مستقل مندوب سفیر عاصم افتخار احمد نے سلامتی کونسل میں مشرقِ وسطیٰ کی صورتحال پر منعقدہ خصوصی بریفنگ کے دوران پاکستان کا موقف پیش کیا ہے۔ انٹرنیشنل اٹامک انرجی ایجنسی کے ڈائریکٹر جنرل رافیل گروسی کی بریفنگ کے بعد اظہارِ خیال کرتے ہوئے پاکستانی مندوب نے خطے میں بڑھتی ہوئی کشیدگی اور حالیہ حملوں پر شدید تشویش کا اظہار کیا، اور بین الاقوامی برادری کی توجہ ان کے تباہ کن اثرات کی جانب مبذول کروائی۔
امارات اور سعودی عرب پر حملے
سفیر عاصم افتخار احمد نے 17 مئی کو متحدہ عرب امارات کے “باراکاہ نیوکلیئر پاور پلانٹ” پر ہونے والے ڈرون حملے کی سخت ترین الفاظ میں مذمت کی۔ انہوں نے اس بزدلانہ کارروائی کے تناظر میں متحدہ عرب امارات کی حکومت اور برادر عوام کے ساتھ مکمل یکجہتی کا اظہار کیا اور خطے کے تمام دوست ممالک کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کے لیے پاکستان کی غیر متزلزل حمایت کا اعادہ کیا۔
اس کے ساتھ ہی، انہوں نے مملکتِ سعودی عرب پر کیے جانے والے ڈرون حملوں کی بھی شدید مذمت کی اور انہیں سعودی خودمختاری کی سنگین خلاف ورزی اور علاقائی امن و استحکام کو سبوتاژ کرنے کی کوشش قرار دیتے ہوئے سعودی عرب کی سلامتی اور خوشحالی کے لیے پاکستان کے پختہ عزم کو دہرایا۔
جوہری تنصیبات اور عالمی قوانین
پاکستانی مندوب نے سلامتی کونسل کو یاد دلایا کہ کسی بھی جوہری تنصیب کو نشانہ بنانا بین الاقوامی قانون، بشمول بین الاقوامی انسانی قانون، اقوام متحدہ کے چارٹر، اور آئی اے ای اے (IAEA) کے قوانین کے تحت جوہری سلامتی کے بنیادی اصولوں کی سنگین خلاف ورزی ہے۔ انہوں نے پاکستان کے دیرینہ موقف کا اعادہ کرتے ہوئے واضح کیا کہ سویلین نیوکلیئر انفراسٹرکچر کی حرمت ایک مسلمہ بین الاقوامی اصول ہے اور کسی بھی صورت حال میں جوہری تنصیبات کو نشانہ نہیں بنایا جانا چاہیے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ ایسے اقدامات کے انسانی زندگی، ماحول، اور علاقائی و عالمی امن پر ناقابلِ تلافی اور تباہ کن اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔
سفارت کاری اور پاکستان کا تعمیری کردار
سفیر عاصم افتخار احمد نے یو اے ای اور سعودی عرب پر ہونے والے ان ڈرون حملوں کو خطے میں جاری کشیدگی کے فوری خاتمے کے لیے ایک انتباہ قرار دیا۔ انہوں نے تمام متعلقہ فریقین پر زور دیا کہ وہ زیادہ سے زیادہ تحمل کا مظاہرہ کریں، بین الاقوامی قوانین کے تحت اپنی ذمہ داریاں پوری کریں اور کشیدگی بڑھانے والے اقدامات سے گریز کریں۔ ا
نہوں نے واضح کیا کہ اقوام متحدہ کے چارٹر کے مطابق صرف مذاکرات اور سفارت کاری ہی خطے میں مستقل امن اور استحکام کا واحد راستہ ہیں۔ انہوں نے اس عزم کا بھی اظہار کیا کہ پاکستان متعلقہ فریقین کے مابین سفارتی روابط کو آسان بنانے کے لیے اپنی مخلصانہ کوششیں جاری رکھے گا اور تنازعات کے پرامن حل کے لیے اپنا تعمیری کردار ادا کرتا رہے گا۔
دیکھیے: عراقی سرحد سے ڈرون حملہ ناکام: سعودی ایئر ڈیفنس نے 3 ڈرونز فضا میں تباہ کر دیے