مغربی بنگال میں پندرہ سالہ آل انڈیا ترنمول کانگریس (ٹی ایم سی) کے اقتدار کے خاتمے اور نئی حکومت کی تشکیل کے بعد تزویراتی طور پر انتہائی حساس اور اہم ترین چکن نیک کے علاقے میں اراضی کی منتقلی کے معاملے نے ایک نیا تنازع کھڑا کر دیا ہے۔ ذرائع کے مطابق نئی ریاستی حکومت نے اسٹریٹجک اہمیت کے حامل چکن نیک علاقے میں 120 ایکڑ اراضی مرکزی حکومت کے سپرد کر دی ہے، جسے بظاہر دفاعی مقاصد اور شاہراہوں کے بنیادی ڈھانچے کی ترقی کا نام دیا گیا ہے، تاہم اس پورے عمل کا بنیادی فائدہ اٹھانے والے کے طور پر اڈانی گروپ کا نام سامنے آیا ہے۔
سیاسی مبصرین اور ناقدین کا کہنا ہے کہ بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) نے مغربی بنگال میں طاقت، مالی وسائل اور سیاسی جوڑ توڑ کے ذریعے اپنا راستہ بنایا، جس کے دوران مبینہ طور پر الیکشن کمیشن نے بھی سرمایہ دارانہ اثر و رسوخ کے سامنے آنکھیں بند کیے رکھیں۔ اب ریاست میں حکومت کی تبدیلی کے بعد اس کا مبینہ صلہ اڈانی گروپ کو دیا جا رہا ہے۔
مرکز کو منتقل کی جانے والی اس اراضی کے بعد توقع ہے کہ اڈانی گروپ نہ صرف ان ترقیاتی منصوبوں کے بڑے حصے کے ٹھیکے حاصل کرنے میں کامیاب رہے گا بلکہ مغربی بنگال میں بھارتی فوج کی نقل و حرکت سے وابستہ لاجسٹکس اور انفراسٹرکچر سپورٹ پر بھی مکمل کنٹرول حاصل کر لے گا۔
اس پیش رفت کو عوامی اور سیاسی حلقوں میں شدید تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ مبصرین کا مؤقف ہے کہ مودی حکومت نے ملک کے قومی انفراسٹرکچر، ریاستی وسائل اور انتہائی حساس سرحدی کوریڈورز کو کارپوریٹ اشرافیہ کے قدموں میں ڈھیر کر دیا ہے، جس کے نتیجے میں عام بھارتی شہری آنے والی کئی دہائیوں تک جدید معاشی غلامی کا شکار ہو جائے گا۔
بندرگاہوں اور ہوائی اڈوں کے بعد اب ملک کے حساس ترین سرحدی کوریڈورز تک اڈانی گروپ کے بڑھتے ہوئے قدم اس بات کا واضح ثبوت ہیں کہ بھارت کی ہر اہم ترین شریان پر کارپوریٹ اجارہ داری قائم کی جا رہی ہے، اور یہ اقدامات مغربی بنگال کے وسائل پر عملاً کارپوریٹ تسلط قائم کرنے کے مترادف ہیں۔
دیکھیے: میاں نواز شریف اور ازبک سفیر کی ملاقات؛ باہمی تعاون اور اسٹریٹجک شراکت داری مضبوط بنانے پر اتفاق