اورکزئی میں امن کمیٹی کی کارروائی کے بعد سکیورٹی فورسز نے علاقے کا گھیراؤ کر کے سرچ آپریشن شروع کر دیا۔

August 22, 2026

پی ٹی آئی نے سپریم کورٹ میں حکومت کے خلاف توہینِ عدالت کی درخواست دائر کر دی، عمران خان کی فوری ہسپتال منتقلی کا بھی مطالبہ۔

August 22, 2026

زیک گولڈ اسمتھ کا برطانوی حکومت کو خط عمران خان کی حمایت میں عالمی اور اسرائیلی لابی کے متحرک ہونے کا کھلا ثبوت ہے۔

August 22, 2026

مولانا فضل الرحمن کا متحدہ اپوزیشن کا اعلان عوامی مسائل سے زیادہ اپنی سیاسی اہمیت بچانے کی کوشش ہے۔

August 22, 2026

صدر پزشکیان کا کہنا ہے ایران طاقت کی پوزیشن میں ہے، اب جنگ ختم کرنا بہتر ہو گا۔

August 22, 2026

وزیراعظم شہباز شریف کا کہنا ہے کہ بلوچستان کے مسائل کا حل گرینڈ ڈائیلاگ میں ہے، فتنہ الخوارج دشمن ملک سے وسائل حاصل کر رہا ہے۔

August 21, 2026

چکن نیک کی 120 ایکڑ اراضی مرکز کے حوالے؛ مودی حکومت اور اڈانی گٹھ جوڑ پر سوالات

مغربی بنگال میں نئی حکومت کے قیام کے بعد چکن نیک کے اہم ترین تزویراتی علاقے میں 120 ایکڑ اراضی مرکز کے حوالے کر دی گئی، جس کا بنیادی فائدہ مبینہ طور پر اڈانی گروپ کو پہنچنے کا انکشاف ہوا ہے۔
مغربی بنگال میں نئی حکومت کے قیام کے بعد چکن نیک کے اہم ترین تزویراتی علاقے میں 120 ایکڑ اراضی مرکز کے حوالے کر دی گئی، جس کا بنیادی فائدہ مبینہ طور پر اڈانی گروپ کو پہنچنے کا انکشاف ہوا ہے۔

مغربی بنگال کے حساس ’چکن نیک‘ کوریڈور میں 120 ایکڑ اراضی مرکز کے حوالے کیے جانے پر اڈانی گروپ کو فائدہ پہنچانے کے الزامات نے مودی حکومت اور کارپوریٹ گٹھ جوڑ پر نئی بحث چھیڑ دی ہے۔

May 20, 2026

مغربی بنگال میں پندرہ سالہ آل انڈیا ترنمول کانگریس (ٹی ایم سی) کے اقتدار کے خاتمے اور نئی حکومت کی تشکیل کے بعد تزویراتی طور پر انتہائی حساس اور اہم ترین چکن نیک کے علاقے میں اراضی کی منتقلی کے معاملے نے ایک نیا تنازع کھڑا کر دیا ہے۔ ذرائع کے مطابق نئی ریاستی حکومت نے اسٹریٹجک اہمیت کے حامل چکن نیک علاقے میں 120 ایکڑ اراضی مرکزی حکومت کے سپرد کر دی ہے، جسے بظاہر دفاعی مقاصد اور شاہراہوں کے بنیادی ڈھانچے کی ترقی کا نام دیا گیا ہے، تاہم اس پورے عمل کا بنیادی فائدہ اٹھانے والے کے طور پر اڈانی گروپ کا نام سامنے آیا ہے۔

سیاسی مبصرین اور ناقدین کا کہنا ہے کہ بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) نے مغربی بنگال میں طاقت، مالی وسائل اور سیاسی جوڑ توڑ کے ذریعے اپنا راستہ بنایا، جس کے دوران مبینہ طور پر الیکشن کمیشن نے بھی سرمایہ دارانہ اثر و رسوخ کے سامنے آنکھیں بند کیے رکھیں۔ اب ریاست میں حکومت کی تبدیلی کے بعد اس کا مبینہ صلہ اڈانی گروپ کو دیا جا رہا ہے۔

مرکز کو منتقل کی جانے والی اس اراضی کے بعد توقع ہے کہ اڈانی گروپ نہ صرف ان ترقیاتی منصوبوں کے بڑے حصے کے ٹھیکے حاصل کرنے میں کامیاب رہے گا بلکہ مغربی بنگال میں بھارتی فوج کی نقل و حرکت سے وابستہ لاجسٹکس اور انفراسٹرکچر سپورٹ پر بھی مکمل کنٹرول حاصل کر لے گا۔

اس پیش رفت کو عوامی اور سیاسی حلقوں میں شدید تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔ مبصرین کا مؤقف ہے کہ مودی حکومت نے ملک کے قومی انفراسٹرکچر، ریاستی وسائل اور انتہائی حساس سرحدی کوریڈورز کو کارپوریٹ اشرافیہ کے قدموں میں ڈھیر کر دیا ہے، جس کے نتیجے میں عام بھارتی شہری آنے والی کئی دہائیوں تک جدید معاشی غلامی کا شکار ہو جائے گا۔

بندرگاہوں اور ہوائی اڈوں کے بعد اب ملک کے حساس ترین سرحدی کوریڈورز تک اڈانی گروپ کے بڑھتے ہوئے قدم اس بات کا واضح ثبوت ہیں کہ بھارت کی ہر اہم ترین شریان پر کارپوریٹ اجارہ داری قائم کی جا رہی ہے، اور یہ اقدامات مغربی بنگال کے وسائل پر عملاً کارپوریٹ تسلط قائم کرنے کے مترادف ہیں۔

دیکھیے: میاں نواز شریف اور ازبک سفیر کی ملاقات؛ باہمی تعاون اور اسٹریٹجک شراکت داری مضبوط بنانے پر اتفاق

متعلقہ مضامین

اورکزئی میں امن کمیٹی کی کارروائی کے بعد سکیورٹی فورسز نے علاقے کا گھیراؤ کر کے سرچ آپریشن شروع کر دیا۔

August 22, 2026

پی ٹی آئی نے سپریم کورٹ میں حکومت کے خلاف توہینِ عدالت کی درخواست دائر کر دی، عمران خان کی فوری ہسپتال منتقلی کا بھی مطالبہ۔

August 22, 2026

زیک گولڈ اسمتھ کا برطانوی حکومت کو خط عمران خان کی حمایت میں عالمی اور اسرائیلی لابی کے متحرک ہونے کا کھلا ثبوت ہے۔

August 22, 2026

مولانا فضل الرحمن کا متحدہ اپوزیشن کا اعلان عوامی مسائل سے زیادہ اپنی سیاسی اہمیت بچانے کی کوشش ہے۔

August 22, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *