اقوام متحدہ کے کاؤنٹر ٹیررازم سینٹر کے ڈائریکٹر مورو میڈیکو نے انتہائی تشویشناک انتباہ جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ دنیا میں ایٹمی دہشت گردی کا خطرہ اس وقت تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ چکا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ انتہا پسند تنظیموں اور افراد کی جانب سے ڈرونز، آرٹیفیشل انٹیلیجنس، تابکار مواد اور جدید ترین ٹیکنالوجیز تک رسائی نے اس خطرے کو بے حد آسان بنا دیا ہے۔ اقوام متحدہ کے مطابق اگرچہ گزشتہ 80 برسوں میں اب تک کوئی ایٹمی یا تابکار حملہ نہیں ہوا اور یہ خطرہ “کم امکانی لیکن شدید ترین اثرات” کی فہرست میں آتا ہے، تاہم اس کے انسانی، ماحولیاتی اور اقتصادی نقصانات عالمی نوعیت کے ہوں گے، جو بین الاقوامی امن کو تباہ اور جوہری ٹیکنالوجی کے پرامن استعمال پر عالمی اعتماد کو شدید نقصان پہنچا سکتے ہیں۔
دہشت گردوں کی پناہ گاہیں
اقوام متحدہ کی یہ وارننگ اس وقت مزید سنگین صورت حال اختیار کر جاتی ہے جب اسے طالبان کے زیرِ اقتدار افغانستان کے تناظر میں دیکھا جائے۔ افغانستان اس وقت 20 سے زائد دہشت گرد تنظیموں اور 20 ہزار سے 23 ہزار کے قریب دہشت گردوں کی آماجگاہ بن چکا ہے۔ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی مانیٹرنگ ٹیم کی پے در پے رپورٹس اس بات کی تصدیق کرتی ہیں کہ افغانستان میں انتہا پسندوں کی محفوظ پناہ گاہیں موجود ہیں، جہاں یہ تنظیمیں بھرتیوں، تربیت اور اپنے آپریشنل انفراسٹرکچر کو برقرار رکھے ہوئے ہیں۔
اس وقت افغان سرزمیں پر تحریک طالبان پاکستان کے 6,000 سے 7,000 اور داعش خراسان کے 2,000 سے 3,000 دہشت گردوں کی موجودگی طالبان کی نگرانی میں انتہا پسندی کے پھیلاؤ کا واضح ثبوت ہے۔ طالبان انتظامیہ مسلسل یہ دعویٰ کرتی آ رہی ہے کہ اس کا افغان سرزمیں پر مکمل کنٹرول ہے اور وہ استحکام کا بیانیہ پیش کرتی ہے، لیکن بین الاقوامی طور پر نامزد دہشت گرد تنظیمیں افغان سرزمین پر اپنا آپریشنل وجود برقرار رکھے ہوئے ہیں۔
القاعدہ اور جدید ٹیکنالوجی
اقوام متحدہ نے خصوصی طور پر القاعدہ کا ذکر کرتے ہوئے کہا ہے کہ نیویارک کے جڑواں ٹاورز پر ستمبر 11 کے حملوں کی ذمہ دار اس تنظیم نے بارہا ایٹمی دہشت گردی کے عزم کا اظہار کیا ہے۔ طالبان کے کنٹرول والے علاقوں میں القاعدہ کی مسلسل موجودگی اور دوبارہ منظم ہونے کی صلاحیت نے عالمی برادری کو چوکنا کر دیا ہے۔ افغانستان میں القاعدہ، داعش خراسان، تحریک طالبان پاکستان، اور ایسٹ ترکستان اسلامک موومنٹ جیسی بین الاقوامی دہشت گرد تنظیموں کی موجودگی نے انتہا پسندانہ عزائم، آپریشنل آزادی اور ابھرتی ہوئی ٹیکنالوجی کا ایک خطرناک گٹھ جوڑ پیدا کر دیا ہے۔
ڈائریکٹر مورو میڈیکو کے مطابق دہشت گرد تنظیموں نے اب روایتی طریقوں سے آگے بڑھ کر تکنیکی ماہرین اور آرٹیفیشل انٹیلیجنس کے ماہرین کو بھرتی کرنا شروع کر دیا ہے۔ ڈرونز کی مدد سے کسی ایٹمی پلانٹ پر حملہ کرنے یا ‘ڈرٹی بم’ گرانے کی صلاحیت اب محض مفروضہ نہیں رہی بلکہ ایک حقیقی خطرہ بن چکی ہے۔ یہ محفوظ پناہ گاہیں ان گروہوں کو روایتی حملوں سے ہٹ کر تجربات کرنے, نیٹ ورکنگ اور باہمی ہم آہنگی قائم کرنے کی سہولت فراہم کرتی ہیں، جس سے غیر متوازن جنگ اور ریڈیو ایکٹو تخریب کاری کے خطرات بڑھ رہے ہیں۔
تاجکستان اور اسمگلنگ نیٹ ورک
رپورٹ کے مطابق سال 2021 میں تاجکستان میں یورینیئم ڈائی آکسائیڈ کی 133 گولیوں کی چوری کا واقعہ سامنے آیا تھا، جس نے خطے میں جوہری مواد کی غیر قانونی منتقلی کے حوالے سے تشویش کو شدید کر دیا ہے۔ تحقیقات کے مطابق، ان چوری شدہ گولیوں کو افغانستان میں سرگرم اسمگلنگ اور انتہا پسند نیٹ ورکس کے ذریعے منتقل کیا جانا تھا، جہاں القاعدہ کا مضبوط اثر و رسوخ ہے۔ افغانستان کی غیر محفوظ اور کمزور سرحدی نگرانی، جانچ پڑتال کے ناقص نظام اور وسیع انتہا پسند ماحولیاتی نظام کے باعث خطے میں ریڈیو ایکٹو مواد کی غیر قانونی نقل و حرکت کے امکانات بے حد بڑھ گئے ہیں۔
افغانستان سے جڑا یہ علاقائی عدم استحکام اب صرف جنوبی ایشیا تک محدود نہیں رہا، بلکہ انتہا پسندوں کی گھس پیٹھ، سرحد پار حملے اور اسمگلنگ کے معاملات وسطی ایشیا اور وسیع تر خطے کو متاثر کر رہے ہیں۔ طالبان حکومت کی جانب سے دہشت گردوں کے بنیادی ڈھانچے کو تباہ کرنے میں مسلسل ناکامی ان تنظیموں کو طویل مدتی آپریشنل تسلسل اور نقل و حرکت کی آزادی فراہم کر رہی ہے۔
عالمی قوانین اور ترجیحات
اقوام متحدہ کے آفس آف کاؤنٹر ٹیررازم اور یورپی یونین اس وقت قومی حکومتوں کی تکنیکی صلاحیتوں کو بڑھانے کے لیے تعاون فراہم کر رہے ہیں تاکہ “بین الاقوامی کنونشن برائے انسدادِ ایٹمی دہشت گردی” پر مکمل عملدرآمد یقینی بنایا جا سکے۔ مئی 2026 میں نیوکلیئر نان پرولیفریشن ٹریٹی کی جائزہ کانفرنس کے موقع پر منعقدہ ایک اجلاس میں مورو میڈیکو اور دیگر مقررین نے اقوام متحدہ کے تمام رکن ممالک پر زور دیا کہ وہ جلد از جلد اس کنونشن کا حصہ بنیں۔ یہ کنونشن عالمی سطح پر جوہری سلامتی کے ڈھانچے کا ایک بنیادی ستون ہے، جو ایٹمی دہشت گردی کے اقدامات کو جرم قرار دینے اور اس کے خلاف بین الاقوامی تعاون کو بڑھانے کے لیے قانونی بنیاد فراہم کرتا ہے۔
اگرچہ 21 سال قبل اپنائے جانے کے بعد اسے وسیع حمایت حاصل ہوئی ہے، لیکن اب بھی تقریباً 66 ممالک اس کا حصہ نہیں بن سکے۔ مورو میڈیکو کے مطابق، اس کی وجہ سیاسی عزم کی کمی نہیں بلکہ تکنیکی صلاحیتوں کا فقدان ہے۔ سب سے پہلی ضرورت ایک مضبوط قانونی فریم ورک کا قیام ہے، جس میں دوسرے ممالک کے ساتھ تعاون، تحقیقات کرنے، عدالتی معلومات کا تبادلہ کرنے اور حفاظتی تدابیر اختیار کرنے کی مضبوط صلاحیت موجود ہو۔ اقوام متحدہ کا کہنا ہے کہ اب تک دنیا ایٹمی دہشت گردی کے کسی واقعے سے محفوظ رہی ہے تو یہ موجودہ حفاظتی نظام کی بدولت ہے، لیکن اس سلسلے کو ہمیشہ کے لیے برقرار رکھنے کے لیے رکن ممالک کی کوششوں کو مزید مضبوط کرنا ناگزیر ہو چکا ہے
دیکھیے: سلامتی کونسل میں پاکستان نے جوہری تنصیبات اور سعودی عرب پر حملوں کی مذمت کر دی