پاکستان کی سیاست میں طویل عرصے سے زیرِ بحث سائفر معاملے کو سوشل میڈیا کے لیے دوبارہ نئے رنگ میں پیش کرنے کی کوششوں کو دفاعی اور سیاسی ماہرین نے مسترد کرتے ہوئے اسے محض ایک پرانی سیاسی کہانی اور پروپیگنڈا قرار دیا ہے جو کسی “ناقابلِ تردید ثبوت” پر نہیں بلکہ سیاسی ضرورتوں پر مبنی ہے۔ مبصرین کے مطابق، سفارتی سائفر کے وجود سے کبھی کسی نے انکار نہیں کیا، تاہم اصل سوال ہمیشہ یہ تھا کہ کیا یہ دستاویز کسی حکومت کو گرانے کی غیر ملکی سازش کا ثبوت ہے؟ قومی سلامتی کمیٹی (این ایس سی) نے اپنے اعلیٰ ترین اجلاسوں میں سفارتی زبان پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے ڈیمارش ضرور جاری کیا تھا، لیکن بعد کے اجلاس میں واضح طور پر یہ نتیجہ اخذ کیا گیا کہ پی ٹی آئی حکومت کو ہٹانے کے لیے کسی بیرونی سازش کے کوئی شواہد موجود نہیں ہیں۔
پی ٹی آئی کا سیاسی فرار
سیاسی تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ پاکستان تحریکِ انصاف جان بوجھ کر تین بالکل الگ الگ معاملات یعنی سفارتی گفتگو، پارلیمانی تحریکِ عدم اعتماد اور اپنی سیاسی ناکامی کو آپس میں ملا کر ایک من گھڑت کہانی بنا رہی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ تحریکِ عدم اعتماد ایک خالص آئینی اور جمہوری عمل تھا، کوئی بغاوت نہیں تھی۔
عمران خان اقتدار سے اس لیے بے دخل ہوئے کیونکہ ان کے سیاسی اتحادی ان کا ساتھ چھوڑ گئے تھے، ان کے نمبرز ختم ہو گئے تھے اور وہ پارلیمنٹ کے فلور پر اپنی حکومت کی اکثریت برقرار رکھنے میں ناکام رہے تھے۔ اس واضح سیاسی شکست کو “غیر ملکی رجیم چینج” کا نام دینا محض اپنی ناکامیوں سے سیاسی فرار اختیار کرنا ہے، جو کسی بھی طرح ثابت نہیں ہوتا۔
“کور اپ” کے دعوے کی حقیقت
اس پورے معاملے کو دبانے یا “کور اپ” کرنے کا دعویٰ بھی اپنی ہی کمزوری کی وجہ سے دم توڑ جاتا ہے۔ یہ معاملہ ملک کے اعلیٰ ترین قومی سلامتی فورم پر زیرِ بحث آیا، ریاستی سطح پر ڈیمارش جاری ہوا، عدالتوں نے سائفر سے متعلق تمام قانونی کارروائیاں باقاعدہ سنیں، اور بعد میں اسلام آباد ہائی کورٹ نے عمران خان اور شاہ محمود قریشی کو سائفر کیس میں باقاعدہ بری بھی کیا۔ یہ تمام اقدامات معاملے کو دبانا نہیں بلکہ ملکی اداروں کے شفاف، آزادانہ اور آئینی عمل کو ظاہر کرتے ہیں جس کے تحت پورا معاملہ قانون کے مطابق منطقی انجام کو پہنچا۔
معاشی مسائل کو اپریل 2022 سے جوڑنا
تجزیہ کاروں کے مطابق ملک کے موجودہ تمام معاشی، عدالتی، سکیورٹی اور سماجی مسائل کو اپریل 2022 کے واقعات اور حکومت کی تبدیلی سے جوڑنا حقیقت پسندانہ تجزیہ نہیں بلکہ سراسر سیاسی پروپیگنڈا ہے۔ پاکستان کے معاشی چیلنجز ساختی اور دہائیوں پرانے ہیں، جو خراب حکمرانی، مالی بے ضابطگیوں، سیاسی عدم استحکام اور عالمی معاشی جھٹکوں کی وجہ سے وقت کے ساتھ سنگین ہوئے۔ پی ٹی آئی اپنے دورِ حکومت کا معاشی ریکارڈ عوام کے حافظے سے مٹانے کے لیے ہر قومی اور ساختی مسئلے کو ایک سازشی نعرے کے کھاتے میں ڈالنا چاہتی ہے تاکہ وہ اپنی ذمہ داریوں سے بچ سکے۔
خارجہ پالیسی اور ٹک ٹاک اسکرپٹ
سب سے زیادہ بددیانتی یہ ہے کہ ایک خفیہ سفارتی مراسلے کو ملک میں مستقل سیاسی انتشار اور تماشے کا لائسنس بنانے کی کوشش کی جا رہی ہے۔ پی ٹی آئی نے پہلے سائفر کو سیاسی فائدے کے لیے لہرایا اور جب اس کے سنگین قانونی نتائج سامنے آئے تو مظلومیت کا شور مچانا شروع کر دیا۔ ماہرین نے واضح کیا ہے کہ کوئی بھی خوددار ریاست لیک شدہ کیبلز، سڑکوں پر لگنے والے نعروں اور منتخب غصے کی بنیاد پر نہیں چلائی جا سکتی۔ خارجہ پالیسی کوئی ٹک ٹاک اسکرپٹ نہیں ہوتی اور نہ ہی قومی سلامتی کی حساس دستاویزات انتخابی پوسٹرز ہوتے ہیں جنہیں سیاسی مقاصد کے لیے گلی کوچوں میں اچھالا جائے۔
استحکام کی ضرورت
حاصلِ کلام یہ ہے کہ سائفر نے سفارتی سطح پر ایک ناراضی اور تلخی ضرور ظاہر کی تھی، لیکن اس سے کوئی غیر ملکی رجیم چینج یا سازش ہرگز ثابت نہیں ہوتی۔ پی ٹی آئی پارلیمنٹ میں نمبرز کی گیم ہاری، حکومت سے ہاتھ دھو بیٹھی اور پھر اس شکست کو ایک معجزاتی سیاسی دیومالائی کہانی میں بدلنے کی ناکام کوشش کی گئی۔ پاکستان پہلے ہی بہت سے چیلنجز کا سامنا کر رہا ہے اور اسے اس وقت کسی ایسی دستاویز کے گرد نئے مصنوعی بحران کھڑا کرنے کی بالکل ضرورت نہیں جو پہلے ہی سیاسی طور پر استعمال ہو چکی ہے، بلکہ ملک کو اس وقت استحکام، معاشی و ساختی اصلاحات اور آئینی نظم و ضبط کی سخت ضرورت ہے۔
دیکھیے: سائفر تنازع: غیر ملکی مداخلت کے دعوے یا داخلی سیاسی بحران؟