ممبئی: بالی وڈ کے سمارٹ اسٹار سلمان خان ممبئی کے ایک اسپتال کے باہر پاپارازیز (فوٹوگرافرز) کے نامناسب رویے پر شدید برہم ہو گئے۔ سخت سکیورٹی کے حصار میں اسپتال سے باہر آتے ہوئے جب فوٹوگرافرز نے اونچی آوازوں میں تصویر کشی کے لیے دباؤ ڈالنے کی کوشش کی، تو اداکار نے نہ صرف موقع پر اپنے غصے کا اظہار کیا بلکہ بعد میں سوشل میڈیا پر پے در پے پوسٹس شیئر کرتے ہوئے میڈیا انڈسٹری کو کھری کھری سنا دیں۔
سوشل میڈیا پر وائرل ہونے والی ویڈیو میں دیکھا جا سکتا ہے کہ اسپتال کی حساس حدود کے باہر فوٹوگرافرز سلمان خان کو تصاویر کے لیے مسلسل پکار رہے تھے، جس پر اداکار نے سخت ناپسندیدگی کا اظہار کرتے ہوئے غصے کے اشارے کیے۔
اس واقعے کے بعد سلمان خان نے اپنے انسٹاگرام اکاؤنٹ پر انتہائی جذباتی اور غصیلی پوسٹس کیں۔ انہوں نے لکھا کہ میں نے ہمیشہ اس پریس کا ساتھ دیا، ان سے بات چیت کی اور ان کے روزگار کا خیال رکھا، لیکن اگر یہ لوگ میرے درد اور نقصان سے پیسہ کمانا چاہتے ہیں تو یہ شرمناک ہے۔
انہوں نے سوال اٹھایا کہ کیا کسی انسان کی زندگی سے زیادہ ایک تصویر اہم ہوتی ہے؟ انہوں نے مزید کہا کہ اگر آپ کے گھر کا کوئی فرد اسپتال میں ہو تو کیا میں وہاں آ کر ایسا تماشا لگاؤں گا؟
اپنی آخری پوسٹ میں بالی وڈ اسٹار نے پاپارازیز کو سخت وارننگ دیتے ہوئے لکھا کہ ‘میں 60 سال کا ہو گیا ہوں لیکن لڑنا نہیں بھولا، یہ بات اچھی طرح یاد رکھ لینا۔’ انہوں نے غصے اور طنز کے ملے جلے انداز میں مزید لکھا کہ ‘زیادہ سے زیادہ کیا کرو گے، جیل میں ڈالو گے؟ ہا ہا!’
سلمان خان کی ان پوسٹس نے سوشل میڈیا پر ایک نئی بحث چھیڑ دی ہے جہاں مداحوں کی بڑی تعداد اسپتال جیسے حساس مقامات پر شوبز شخصیات کی پرائیویسی کا احترام نہ کرنے پر پاپارازیز کو شدید تنقید کا نشانہ بنا رہی ہے۔
دیکھئیے:ٹک ٹاکر ثنا یوسف قتل کیس کا فیصلہ؛ ملزم عمر حیات کو سزائے موت اور 24 لاکھ روپے جرمانے کا حکم