ایران اور امریکہ کے مابین طویل عرصے سے جاری سفارتی تعطل کو توڑنے کے لیے ایک تاریخی معاہدے کے مسودے کو حتمی شکل دے دی گئی ہے، جس کا باقاعدہ اعلان جلد متوقع ہے۔ عرب میڈیا کی رپورٹ کے مطابق، دونوں ممالک کے مابین بالواسطہ مذاکرات کو منطقی انجام تک پہنچانے کے لیے اس وقت انتہائی سنجیدہ کوششیں کی جا رہی ہیں، اور اس اہم عالمی پیشرفت میں پاکستان ایک کلیدی ثالث کے طور پر سامنے آیا ہے۔
رپورٹ کے مطابق، پاکستان کی ایک اہم ترین شخصیت کل ایران کا دورہ کر سکتی ہے، جس کے دوران یہ باقاعدہ اعلان کیے جانے کا قوی امکان ہے کہ دونوں طاقتوں کے مابین معاہدے کا حتمی مسودہ مکمل ہو چکا ہے۔ عرب میڈیا کا مزید کہنا ہے کہ اس سفارتی عمل کا اگلا اور اہم ترین دور حج سیزن کے فوری بعد پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں منعقد ہو گا۔
اس پورے عمل میں پاکستان کی سفارتی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ وفاقی وزیرِ داخلہ محسن نقوی گزشتہ 24 گھنٹوں کے دوران دوسری بار تہران پہنچے ہیں، جہاں انہوں نے امریکہ اور ایران کے مابین جاری پسِ پردہ مذاکرات سے متعلق ایرانی قیادت سے انتہائی اہم ملاقاتیں کی ہیں۔
یاد رہے کہ اس سے قبل بھی اپنے دورہ ایران کے دوران محسن نقوی نے ایرانی صدر مسعود پزشکیان، چیف مذاکرات کار محمد باقر قالیباف اور وزیرِ خارجہ عباس عراقچی سے تفصیلی ملاقاتیں کی تھیں۔ تہران میں ان اہم ترین ملاقاتوں کے فوری بعد وفاقی وزیرِ داخلہ براہِ راست بلوچستان پہنچے تھے، جہاں انہوں نے وزیرِ اعظم شہباز شریف اور آرمی چیف جنرل عاصم منیر سے ملاقات کر کے انہیں سفارتی پیشرفت اور ایرانی قیادت کے پیغامات پر اعتماد میں لیا تھا۔
عالمی و علاقائی تزویراتی مبصرین کا کہنا ہے کہ ایران اور امریکہ کے مابین ممکنہ معاہدہ اور اس میں اسلام آباد کا بطورِ میزبان و ثالث کردار خطے میں پائیدار امن، سکیورٹی اور معاشی استحکام کے لیے ایک اہم سنگِ میل ثابت ہو سکتا ہے۔
دیکھئیے:مشرقِ وسطیٰ میں جنگ بندی اور مذاکرات ناگزیر ہیں: چینی صدر