تہران: پاکستان کے وفاقی وزیرِ داخلہ محسن نقوی محض 24 گھنٹے کے اندر اپنے دوسرے ہنگامی اور اہم دورے پر تہران پہنچ گئے ہیں، جہاں انہوں نے ایرانی صدر مسعود پزشکیان سمیت ملک کی اعلیٰ ترین قیادت سے دوبارہ تفصیلی ملاقاتیں کی ہیں۔
ایک ہفتے کے دوران پاکستانی وزیرِ داخلہ کی ایرانی صدر سے یہ دوسری براہِ راست ملاقات ہے، جسے خطے کی موجودہ صورتحال اور پسِ پردہ سفارت کاری کے لحاظ سے انتہائی غیر معمولی قرار دیا جا رہا ہے۔
تہران سے موصول ہونے والی تفصیلات کے مطابق، وزیرِ داخلہ محسن نقوی نے اس بار ایرانی صدر مسعود پزشکیان کے علاوہ ایران کے وزیرِ داخلہ اسکندر مومنی اور پاسدارانِ انقلاب کے کمانڈر انچیف جنرل احمد وحیدی سے بھی اہم ملاقاتیں کیں۔
ان اعلیٰ سطحی بیٹھکوں میں دو طرفہ سکیورٹی تعاون، سرحدی انتظام اور مشرقِ وسطیٰ کی تیزی سے بدلتی ہوئی تازہ ترین صورتحال پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ سکیورٹی اور عسکری قیادت کے ساتھ ان ملاقاتوں کو خطے میں جاری تزویراتی پیشرفت کے تناظر میں انتہائی اہمیت کا حامل سمجھا جا رہا ہے۔
سفارتی منظرنامے پر یہ پیشرفت اس لحاظ سے دلچسپ ہے کہ محسن نقوی نے ٹھیک پانچ روز قبل بھی ایران کا تفصیلی دورہ کیا تھا، جس میں انہوں نے ایرانی وزیرِ خارجہ عباس عراقچی، پارلیمنٹ کے اسپیکر محمد باقر قالیباف اور صدر مسعود پزشکیان سے ملاقاتیں کی تھیں۔
وہ یہ دورہ مکمل کر کے ابھی 24 گھنٹے قبل ہی پاکستان واپس پہنچے تھے کہ انہیں فوری طور پر دوبارہ تہران روانہ ہونا پڑا۔ سفارتی مبصرین کا کہنا ہے کہ اتنے مختصر وقت میں اعلیٰ ترین سطح پر ان پے در پے رابطوں اور ملاقاتوں سے واضح ہوتا ہے کہ پسِ پردہ کوئی بڑی علاقائی یا عالمی سفارتی پیشرفت جاری ہے، جس میں پاکستان ایک انتہائی اہم اور کلیدی کردار ادا کر رہا ہے۔
دیکھئیے: مشرقِ وسطیٰ میں جنگ بندی اور مذاکرات ناگزیر ہیں: چینی صدر