اقوام متحدہ نے طالبان حکومت کی جانب سے نافذ کیے گئے نئے عائلی قانون پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس سے خواتین اور بچیوں کے حقوق مزید محدود ہوں گے۔ اقوام متحدہ کے مطابق طالبان کے حالیہ 31 نکاتی ضابطے سے ملک میں صنفی امتیاز کو قانونی اور عملی تحفظ ملے گا اور افغان خواتین کو خودمختاری، مواقع اور انصاف تک رسائی سے محروم کر دیا جائے گا۔ طالبان کے سپریم لیڈر ہیبت اللہ اخوندزادہ کی منظوری سے جاری ہونے والے اس قانون کو اقوام متحدہ کی سیکریٹری جنرل کی نائب خصوصی نمائندہ جورجیٹ گیگنن نے خواتین کے حقوق سلب کرنے کے تشویشناک سلسلے کی کڑی قرار دیا ہے۔
سرکاری گزٹ میں شائع ہونے والے اس فرمان میں ازدواجی علیحدگی کے لیے خواتین کے مقابلے میں مردوں کو زیادہ آسانیاں دی گئی ہیں، جبکہ خواتین کو پیچیدہ سے پیچیدہ تر قانونی مراحل سے گزرنا پڑے گا۔ عائلی قانون کی دفعہ 5 پر سب سے زیادہ تنقید کی جا رہی ہے، جس کے تحت والد، دادا یا دیگر رشتہ داروں کی جانب سے نابالغ بچوں کے طے کیے گئے نکاح کو جائز قرار دیا گیا ہے۔
اگرچہ بلوغت کے بعد عدالت کے ذریعے اسے منسوخ کرنے کا اختیار دیا گیا ہے، تاہم لڑکوں اور لڑکیوں کے حقوق میں واضح فرق رکھا گیا ہے۔ قانون کے مطابق اگر کوئی ’کنواری لڑکی‘ خاموش رہے تو اس کا نکاح ختم کرنے کا حق عملاً ختم تصور ہوگا، جبکہ لڑکوں کے لیے ایسی کوئی شرط عائد نہیں کی گئی۔ اس شق سے عالمی سطح پر یہ تاثر ابھرا ہے کہ افغانستان میں کم عمری کی شادی کو قانونی تحفظ دیا جا رہا ہے، جبکہ طالبان کے اقتدار سے قبل وہاں لڑکیوں کی شادی کی قانونی عمر 16 سال مقرر تھی۔
قانون میں لاپتا شوہروں کی بیویاں ہونے کی صورت میں خواتین کے دوبارہ نکاح پر بھی سخت شرائط عائد کی گئی ہیں۔ جنگ کے دوران لاپتا ہونے والے شوہر کی زوجہ کو اس وقت تک انتظار کرنا ہوگا جب تک شوہر کی موت یقینی نہ ہو جائے یا اس کے ہم عمر تمام افراد وفات پا جائیں۔ مزید برآں، اگر لاپتا شوہر بعد میں واپس آ جائے اور خاتون دوسری شادی کر چکی ہو، تو اس دوسری شادی کا مستقبل مکمل طور پر پہلے شوہر کے اختیار میں ہوگا کہ وہ بیوی کو اپنے پاس رکھنا چاہتا ہے یا طلاق دینا چاہتا ہے۔
دوسری جانب طالبان رجیم کے مرکزی ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے ان عالمی اعتراضات کو مسترد کرتے ہوئے انہیں اسلام دشمن عناصر کا پروپیگنڈا قرار دیا ہے۔ سرکاری ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے والدین اور دادا کو بچوں کے نکاح کا اختیار دینے کا دفاع کیا اور دعویٰ کیا کہ طالبان لڑکی کی رضامندی کے بغیر شادی کی اجازت نہیں دیتے، اس لیے کم عمری کی شادیوں کے ایسے معاملات بہت کم ہوں گے۔
واضح رہے کہ 2021 میں اقتدار سنبھالنے کے بعد سے طالبان کی جانب سے لڑکیوں کی سیکنڈری و اعلیٰ تعلیم، ملازمتوں، اور پارکس، جم و بیوٹی پارلرز جانے پر پہلے ہی پابندیاں عائد کی جا چکی ہیں۔
دیکھیے: ایٹمی دہشت گردی کا سنگین خطرہ؛ افغانستان میں محفوظ پناہ گاہوں پر اقوام متحدہ کی تشویش