"> طالبان کا نیا عائلی قانون؛ خواتین اور بچیوں کے حقوق مزید سلب ہونے کا خدشہ - HTN Urdu
مولانا فضل الرحمان کی سیاست، مذہب کا سیاسی استعمال

اصولوں کی سیاست یا مفادات کا کھیل

مذہب، عسکری پالیسی اور جمہوریت کو اقتدار کی سیڑھی بنانے والے مولانا فضل الرحمان کی سیاست میں دوہرے معیار، سیاسی یوٹرنز اور مفاد پرستی کے تضادات نمایاں ہیں۔

طالبان کا نیا عائلی قانون؛ خواتین اور بچیوں کے حقوق مزید سلب ہونے کا خدشہ

اقوام متحدہ نے طالبان کے نئے عائلی قانون کو صنفی امتیاز کا ذریعہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس سے کم عمری کی شادی کو فروغ ملے گا اور خواتین کے حقوق مزید سلب ہوں گے۔
اقوام متحدہ نے طالبان کے نئے عائلی قانون کو صنفی امتیاز کا ذریعہ قرار دیتے ہوئے کہا ہے کہ اس سے کم عمری کی شادی کو شہ ملے گی اور خواتین کے حقوق مزید سلب ہوں گے۔

افغانستان میں طالبان کے نئے عائلی قانون پر اقوام متحدہ نے شدید تنقید کی ہے۔ 31 نکاتی ضابطے میں نابالغ بچوں کے نکاح اور لاپتا شوہر کی واپسی سے متعلق متنازع شقیں شامل کی گئی ہیں۔

May 22, 2026

اقوام متحدہ نے طالبان حکومت کی جانب سے نافذ کیے گئے نئے عائلی قانون پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اس سے خواتین اور بچیوں کے حقوق مزید محدود ہوں گے۔ اقوام متحدہ کے مطابق طالبان کے حالیہ 31 نکاتی ضابطے سے ملک میں صنفی امتیاز کو قانونی اور عملی تحفظ ملے گا اور افغان خواتین کو خودمختاری، مواقع اور انصاف تک رسائی سے محروم کر دیا جائے گا۔ طالبان کے سپریم لیڈر ہیبت اللہ اخوندزادہ کی منظوری سے جاری ہونے والے اس قانون کو اقوام متحدہ کی سیکریٹری جنرل کی نائب خصوصی نمائندہ جورجیٹ گیگنن نے خواتین کے حقوق سلب کرنے کے تشویشناک سلسلے کی کڑی قرار دیا ہے۔

سرکاری گزٹ میں شائع ہونے والے اس فرمان میں ازدواجی علیحدگی کے لیے خواتین کے مقابلے میں مردوں کو زیادہ آسانیاں دی گئی ہیں، جبکہ خواتین کو پیچیدہ سے پیچیدہ تر قانونی مراحل سے گزرنا پڑے گا۔ عائلی قانون کی دفعہ 5 پر سب سے زیادہ تنقید کی جا رہی ہے، جس کے تحت والد، دادا یا دیگر رشتہ داروں کی جانب سے نابالغ بچوں کے طے کیے گئے نکاح کو جائز قرار دیا گیا ہے۔

اگرچہ بلوغت کے بعد عدالت کے ذریعے اسے منسوخ کرنے کا اختیار دیا گیا ہے، تاہم لڑکوں اور لڑکیوں کے حقوق میں واضح فرق رکھا گیا ہے۔ قانون کے مطابق اگر کوئی ’کنواری لڑکی‘ خاموش رہے تو اس کا نکاح ختم کرنے کا حق عملاً ختم تصور ہوگا، جبکہ لڑکوں کے لیے ایسی کوئی شرط عائد نہیں کی گئی۔ اس شق سے عالمی سطح پر یہ تاثر ابھرا ہے کہ افغانستان میں کم عمری کی شادی کو قانونی تحفظ دیا جا رہا ہے، جبکہ طالبان کے اقتدار سے قبل وہاں لڑکیوں کی شادی کی قانونی عمر 16 سال مقرر تھی۔

قانون میں لاپتا شوہروں کی بیویاں ہونے کی صورت میں خواتین کے دوبارہ نکاح پر بھی سخت شرائط عائد کی گئی ہیں۔ جنگ کے دوران لاپتا ہونے والے شوہر کی زوجہ کو اس وقت تک انتظار کرنا ہوگا جب تک شوہر کی موت یقینی نہ ہو جائے یا اس کے ہم عمر تمام افراد وفات پا جائیں۔ مزید برآں، اگر لاپتا شوہر بعد میں واپس آ جائے اور خاتون دوسری شادی کر چکی ہو، تو اس دوسری شادی کا مستقبل مکمل طور پر پہلے شوہر کے اختیار میں ہوگا کہ وہ بیوی کو اپنے پاس رکھنا چاہتا ہے یا طلاق دینا چاہتا ہے۔

دوسری جانب طالبان رجیم کے مرکزی ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے ان عالمی اعتراضات کو مسترد کرتے ہوئے انہیں اسلام دشمن عناصر کا پروپیگنڈا قرار دیا ہے۔ سرکاری ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے والدین اور دادا کو بچوں کے نکاح کا اختیار دینے کا دفاع کیا اور دعویٰ کیا کہ طالبان لڑکی کی رضامندی کے بغیر شادی کی اجازت نہیں دیتے، اس لیے کم عمری کی شادیوں کے ایسے معاملات بہت کم ہوں گے۔

واضح رہے کہ 2021 میں اقتدار سنبھالنے کے بعد سے طالبان کی جانب سے لڑکیوں کی سیکنڈری و اعلیٰ تعلیم، ملازمتوں، اور پارکس، جم و بیوٹی پارلرز جانے پر پہلے ہی پابندیاں عائد کی جا چکی ہیں۔

دیکھیے: ایٹمی دہشت گردی کا سنگین خطرہ؛ افغانستان میں محفوظ پناہ گاہوں پر اقوام متحدہ کی تشویش

متعلقہ مضامین

وادی تیراہ میں 4 دہشت گرد ہلاک اور 8 زخمی ہو گئے، جبکہ لکی مروت میں کوہاٹ پولیس لائنز حملے کا ماسٹر مائنڈ زاہد گل مارا گیا۔

October 16, 2026

روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے افغانستان میں دہشت گرد گروہوں کی موجودگی کو خطے کے لیے خطرہ قرار دے کر افغان طالبان کے پاکستان مخالف الزامات کو مسترد کر دیا۔

October 16, 2026

محسن نقوی کا دعویٰ ہے کہ گورنر راج میں حصہ اور گورنر شپ نہ ملنے پر ایک سیاسی جماعت کے سربراہ ناراض ہیں۔ انہوں نے سابق فاٹا کے وسائل اور خیبرپختونخوا کی سکیورٹی صورت حال پر بھی بات کی۔

October 16, 2026

دفاعی تجزیہ کار میجر جنرل ریٹائرڈ طارق رشید کا کہنا ہے کہ افغانستان میں چھوڑے گئے اربوں روپے کے امریکی ہتھیار پاکستان میں دہشت گردی پھیلانے کے لیے استعمال ہو رہے ہیں۔

October 16, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *