سابق وفاقی وزیرِ اطلاعات فواد چوہدری کی جانب سے سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس) پر کیے گئے ایک حالیہ ٹویٹ نے نیا تنازع کھڑا کر دیا ہے۔ فواد چوہدری نے اپنے پیغام میں سینئر صحافی طلعت حسین اور اینکر شفیع جان کو نشانہ بناتے ہوئے دعویٰ کیا کہ پی ٹی وی کی ری ویمپنگ اور کنسلٹنسی کے نام پر لاکھوں روپے کے معاوضے دیے گئے اور ٹیکس دہندگان کے پیسوں سے سرکاری ٹی وی پر نوازا گیا۔ تاہم یہ ٹویٹ سامنے آتے ہی سوشل میڈیا صارفین اور ناقدین نے فواد چوہدری کے اپنے ماضی کے بیانات اور ‘سیاسی کامیڈی’ کو نشانہ بناتے ہوئے انہیں آڑے ہاتھوں لیا ہے۔
حقائق اور بلا معاوضہ خدمات
ذرائع اور دستاویزی حقائق کے مطابق فواد چوہدری کی جانب سے لگائے گئے الزامات سراسر بے بنیاد ثابت ہوئے ہیں۔ حقیقت یہ ہے کہ پی ٹی وی اور پاکستان ٹیلی ویژن کے اصلاحاتی عمل (ری ویمپنگ) کے دوران سینئر صحافی طلعت حسین نے بطور کنسلٹنٹ ادارے سے ایک روپیہ بھی معاوضہ وصول نہیں کیا تھا۔ ان کا یہ کام خالصتاً پروفیشنل بنیادوں پر اور قومی ادارے کی بہتری کے لیے ایک رضاکارانہ شراکت داری تھی، جس پر متعلقہ ادارہ آج بھی ان کا معترف ہے۔

عالمی جگ ہنسائی کا تذکرہ
فواد چوہدری کے اس طنز کے جواب میں سوشل میڈیا صارفین نے انہیں ماضی کا وہ مشہور زمانہ معاشی نظریہ یاد دلایا جس میں انہوں نے وزیرِ اطلاعات کی حیثیت سے ٹیلی ویژن پر انتہائی سنجیدگی کے ساتھ دعویٰ کیا تھا کہ بنی گالہ سے پی ایم ہاؤس تک ہیلی کاپٹر کا سفر صرف 50 سے 55 روپے فی کلومیٹر میں ہوتا ہے۔
ناقدین کا کہنا ہے کہ اس کارٹون لاجک اور مضحکہ خیز بیان کے بعد عالمی سطح پر ملک کی جگ ہنسائی ہوئی تھی اور عوام آج بھی سوال کرتے ہیں کہ پی ٹی آئی کے دور میں ہیلی کاپٹر کا سواری کا خرچہ عام ٹیکسی سے بھی سستا کیسے ہو گیا تھا۔
طرزِ حکمرانی کے بجائے صرف میمز کا ترکہ
ناقدین کے مطابق فواد چوہدری نے بطور وزیرِ اطلاعات قوم کو حقیقی معلومات، اچھی گورننس یا ادارہ جاتی اصلاحات دینے کے بجائے صرف ‘اسٹینڈ اپ کامیڈی’ اور سوشل میڈیا میمز فراہم کیے۔ کبھی خلا میں یو ایف او دیکھنے کے دعوے تو کبھی سائنس کے انوکھے عجوبے بیان کرنے والے سابق وزیر کا اپنا پورا سیاسی کیریئر ہی وفاداریاں بدلنے، کیمروں اور مائیکروفونز کے گرد گھومتا رہا ہے۔ صارفین کا کہنا ہے کہ جس سیاستدان کی اپنی کریڈبلٹی اور اصول پسندی صفر ہو، وہ دوسروں کو پروفیشنل انٹیگریٹی کا درس نہیں دے سکتا۔
اصول پسندی اور تضادات کا موازنہ
سیاسی مبصرین کے مطابق ایک طرف طلعت حسین کی قومی ادارے کے لیے بغیر کسی معاوضے کے خدمات ہیں اور دوسری طرف فواد چوہدری کی وہ سیاست ہے جو صرف وائرل بیانات پر کھڑی ہے۔ کل وہ جس قیادت کو وژنری کہتے تھے، آج اسی سے فاصلہ اختیار کر چکے ہیں، اور کل جس جماعت کے ترجمان تھے، آج اسی پر تنقید کر رہے ہیں۔
یہی وجہ ہے کہ جب فواد چوہدری کسی پر طنز کرنے کی کوشش کرتے ہیں، تو عوام کو ان کی باتوں میں کوئی ٹھوس دلیل نظر آنے کے بجائے صرف تفریح اور کامیڈی ہی محسوس ہوتی ہے۔
دیکھیے: بھارتی الزامات مسترد، افغانستان میں دہشت گرد ٹھکانوں اور کابل دہلی گٹھ جوڑ پر بے نقاب