فیض آباد پر جاری سیاسی دھرنے اور سڑکوں کی بندش کے نتیجے میں ایک انتہائی دلخراش اور ہولناک المیہ رونما ہوا ہے۔ گزشتہ روز وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کی قیادت میں پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے احتجاج کے باعث پیدا ہونے والے شدید ٹریفک جام کی وجہ سے وقت پر ہسپتال نہ پہنچ پانے کے باعث ایک معصوم بچی جاں بحق ہو گئی تھی، جس کے صدمے میں آج اس کے مجبور اور غمزدہ باپ نے فیض آباد پل سے چھلانگ لگا کر خودکشی کر لی ہے۔
عینی شاہدین اور خاندانی ذرائع کے مطابق متوفی باپ اپنی بیمار بیٹی کو بچانے کے لیے گھر سے نکلا تھا، تاہم سیاسی دھرنے اور راستوں کی بندش کے باعث وہ گھنٹوں ٹریفک میں پھنسا رہا۔ بروقت طبی امداد نہ ملنے کے سبب بچی راستے ہی میں دم توڑ گئی۔
بیٹی کی ناگہانی موت کے بعد مذکورہ شخص شدید ذہنی اور جذباتی صدمے کا شکار تھا اور اس کا حوصلہ جواب دے چکا تھا۔ آج اس نے اسی مقام پر پہنچ کر پل سے نیچے چھلانگ لگا دی جہاں اس کی بیٹی کی سانسیں رکی تھیں، جس کے نتیجے میں وہ موقع پر ہی جاں بحق ہو گیا۔
اس اندوہناک واقعے کے بعد عوامی اور سیاسی حلقوں میں شدید غم و غصے کی لہر دوڑ گئی ہے اور دھرنوں کی سیاست کو “عوام دشمن اور انتشار پسند” قرار دیا جا رہا ہے۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ اقتدار کی اس جنگ اور سیاسی محاذ آرائی میں جب عام انسان کی سانسیں رکنے لگیں تو یہ واضح ہو جاتا ہے کہ بعض سیاسی قوتوں کے نزدیک انسانی جانوں سے زیادہ اپنے سیاسی مقاصد عزیز ہیں۔
تجزیہ کاروں کے مطابق خیبر پختونخوا اس وقت پہلے ہی غربت، بے روزگاری، صحت کے سنگین بحران اور بنیادی سہولیات کی عدم دستیابی جیسے مسائل سے دوچار ہے، لیکن اس کے باوجود صوبائی حکومت کی جانب سے ترقی، تعلیم اور روزگار کو ترجیح دینے کے بجائے تمام تر توانائیاں مسلسل دھرنوں، احتجاج اور سیاسی محاذ آرائی پر صرف کی جا رہی ہیں۔ عوام میں یہ تاثر تیزی سے مضبوط ہو رہا ہے کہ صوبے کے حقیقی مسائل حل کرنے کے بجائے انتشار کو ایک سیاسی ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے۔
اس سانحے کا سب سے تکلیف دہ پہلو یہ ہے کہ دھرنے کی اس سیاست نے صرف ایک فرد کی جان نہیں لی بلکہ ایک پورے خاندان کی امید، زندگی اور مستقبل کو ہمیشہ کے لیے تباہ کر دیا ہے۔ سڑکیں بند کرنے والی قیادت شاید اگلے جلسے کی تیاریوں میں مصروف ہو، لیکن یہ دائمہ المیہ اس بے رحم سیاست کا وہ چہرہ ہے جو عوام کے درد پر کھڑا ہے۔ اس واقعے نے ملک بھر کے دانشوروں اور شہریوں کو یہ سوچنے پر مجبور کر دیا ہے کہ آخر کب تک عام پاکستانی ان سیاسی کھیلوں کی قیمت اپنی جانیں دے کر ادا کرتے رہیں گے۔