آئل اینڈ گیس ریگولیٹری اتھارٹی (اوگرا) نے ملک بھر میں مائع قدرتی گیس (ایل این جی) کی قیمتوں میں 28 فیصد تک کا نمایاں اضافہ کر دیا ہے، جس کا باقاعدہ نوٹیفکیشن بھی جاری کر دیا گیا ہے۔ اوگرا کی جانب سے ماہِ مئی کے لیے جاری کردہ نوٹیفکیشن کے مطابق دونوں بڑی گیس کمپنیوں کے سسٹم پر قیمتوں میں ساڑھے تین ڈالر فی ایم ایم بی ٹی یو تک کا اضافہ کیا گیا ہے، جس کے بعد گیس کی قیمتیں ملکی تاریخ کی بلند ترین سطح کے قریب پہنچ گئی ہیں۔
نوٹیفکیشن کے تفصیلی اعداد و شمار کے مطابق، سوئی نادرن گیس پائپ لائنز لمیٹڈ (ایس این جی پی ایل) کے سسٹم پر ایل این جی کی قیمت میں 3.43 ڈالر فی ایم ایم بی ٹی یو کا اضافہ کیا گیا ہے، جس کے بعد نئی قیمت 16.98 ڈالر فی ایم ایم بی ٹی یو مقرر کی گئی ہے۔
دوسری جانب سوئی سدرن گیس کمپنی (ایس ایس جی سی) کے سسٹم پر ایل این جی کی قیمت میں 3.51 ڈالر فی ایم ایم بی ٹی یو کا بڑا اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے، جس کے تحت کراچی اور اطراف کے علاقوں کے لیے ایل این جی کی نئی قیمت 16.04 ڈالر فی ایم ایم بی ٹی یو مقرر ہو گئی ہے۔
ایل این جی کی قیمتوں میں ہونے والے اس 28 فیصد اضافے کے نتیجے میں ملک میں بجلی کی پیداواری لاگت بڑھنے کا شدید خدشہ ہے، کیونکہ پاکستان کا پاور سیکٹر بجلی بنانے کے لیے درآمدی ایل این جی پر کثرت سے انحصار کرتا ہے۔
معاشی ماہرین کا کہنا ہے کہ عالمی منڈی میں توانائی کے بحران اور مقامی سطح پر گیس کی قیمتوں میں اس حالیہ اضافے سے ناصرف صنعتی شعبے کی پیداواری لاگت بڑھے گی بلکہ آنے والے دنوں میں گھریلو صارفین کے لیے بھی بجلی اور گیس کے بلوں میں مزید اضافے کا سبب بن سکتی ہے۔
دیکھیے: ایٹمی دہشت گردی کا سنگین خطرہ؛ افغانستان میں محفوظ پناہ گاہوں پر اقوام متحدہ کی تشویش