اقوامِ متحدہ میں افغانستان کے قائم مقام مستقل مندوب نصیر احمد فائق نے کابل میں قائم طالبان حکومت کی قانونی حیثیت کو کھلے عام چیلنج کرتے ہوئے عالمی ادارے میں افغانستان کی نشست پر ان کے دعوے کو مکمل طور پر مسترد کر دیا ہے۔ اس اہم سفارتی موقف کے بعد طالبان حکومت کو عالمی سطح پر تسلیم کیے جانے کی کوششوں کو ایک بار پھر بڑا دھچکا لگا ہے۔
بین الاقوامی میڈیا رپورٹس کے مطابق قائم مقام افغان مندوب نصیر احمد فائق نے اپنے تازہ ترین بیان میں واضح کیا کہ طالبان کی موجودہ انتظامیہ افغانستان کے عوام کی حقیقی نمائندہ حکومت نہیں ہے، اس لیے وہ اقوامِ متحدہ جیسے اعلیٰ ترین عالمی فورم پر ملک کی مستقل نشست حاصل کرنے کا کوئی قانونی یا اخلاقی حق نہیں رکھتی۔ انہوں نے طالبان کے اس نشست پر اب تک کیے جانے والے تمام دعووں کو یکسر مسترد کر دیا۔
Afghanistan’s acting permanent representative to the United Nations, Nasir Ahmad Faiq, has openly challenged the Taliban regime’s legitimacy and rejected its claim to Afghanistan’s seat at the United Nations.#Afghanistan #UN #Taliban #DiplomacyCrisis #PakistanTV pic.twitter.com/lYb7zQ4zrq
— Pakistan TV (@PakTVGlobal) May 22, 2026
سفارتی ماہرین کا کہنا ہے کہ نصیر احمد فائق کا یہ بیان ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب طالبان حکومت دنیا بھر سے خود کو بطورِ ریاست تسلیم کروانے کے لیے سیاسی اور سفارتی دباؤ بڑھا رہی ہے۔ اقوامِ متحدہ میں موجودہ افغان مشن کی جانب سے اس سخت موقف کے بعد کابل انتظامیہ کے لیے عالمی برادری میں تنہائی ختم کرنے اور باقاعدہ سفارتی رسائی حاصل کرنے کی راہ میں مشکلات مزید بڑھنے کا اندیشہ ہے۔
دیکھیے: عسکریت پسندوں میں شدید پھوٹ؛ جماعت الاحرار کا ٹی ٹی پی پر 18 ارکان کے قتل کا الزام