بھارت میں مودی حکومت اور مقتدرہ کے خلاف نوجوانوں کی ایک انوکھی اور طاقتور ڈیجیٹل تحریک نے جنم لیا ہے جس نے سیاسی اور سماجی حلقوں میں ہلچل مچا دی ہے۔ بھارت کے چیف جسٹس کی جانب سے بے روزگار نوجوانوں کو مبینہ طور پر کاکروچ قرار دیے جانے کے بعد ملک کی جنریشن زی نے اس توہین آمیز لفظ کو احتجاجی ہتھیار اور اپنی نئی شناخت میں بدل دیا ہے۔ نوجوانوں نے سوشل میڈیا پر باقاعدہ “کاکروچ جنتا پارٹی” کے نام سے ایک مہم کا آغاز کر دیا ہے، جس نے مقبولیت میں مودی کی حکمران جماعت بھارتیہ جنتا پارٹی (بی جے پی) کو بھی پچھاڑ دیا ہے۔
بی جے پی کو شکست
سوشل میڈیا کے لہراتے ہوئے رجحانات کے مطابق اس احتجاجی مہم کی مقبولیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ ‘کاکروچ جنتا پارٹی’ نے انسٹاگرام پر صرف4 دن کے اندر 8.8 ملین (88 لاکھ) فالوورز حاصل کر لیے ہیں، جبکہ اس کے مقابلے میں مودی کی مقتدر حکومتی جماعت بی جے پی کے فالوورز کی تعداد 8.7 ملین (87 لاکھ) پر رکی ہوئی ہے۔ سرکاری وسائل اور بھاری فنڈنگ سے چلنے والے بی جے پی کے ڈیجیٹل نیٹ ورک کے مقابلے میں نوجوانوں کی اس خودساختہ تحریک کی یہ فتح بھارتی سیاست میں ایک غیر معمولی تبدیلی کی مظہر ہے۔
طنز اور حقیقی غصہ
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس ڈیجیٹل مزاح اور طنز کے پیچھے بھارتی نوجوانوں کا وہ حقیقی غصہ اور مایوسی موجود ہے جو طویل عرصے سے مودی حکومت کی پالیسیوں کے خلاف پنپ رہی تھی۔ بھارت اس وقت 9.9 فیصد کی خطرناک حد تک پہنچی ہوئی نوجوانوں کی بے روزگاری کی شرح، پے در پے امتحانی اسکینڈلز اور تعلیمی بدانتظامی کا شکار ہے۔ ایک محتاط اندازے کے مطابق، ملک بھر میں 19 سے 25سال کی عمر کے 4 لاکھ سے زائد نوجوان خود کو نظام کی جانب سے مکمل طور پر نظر انداز شدہ اور لاوارث سمجھتے ہیں، جن کے زخموں پر مقتدرہ کے ایسے بیانات نے نمک کا کام کیا ہے۔
حکمران جماعت سے بڑھتا فاصلہ
اس تحریک کے ذریعے کاکروچ جنتا پارٹی نے ثابت کر دیا ہے کہ اب “سست اور بے روزگاروں کی آواز” مودی حکومت کے سرکاری اور درباری میڈیا چینلز سے زیادہ بلند ہو چکی ہے۔ سی جے پی نے نظام کی جانب سے پھینکیں گئے توہین آمیز الفاظ کو اپنی طاقت بنا کر بی جے پی کے روایتی قوم پرستانہ بیانیے کو براہِ راست چیلنج کیا ہے۔
یہ صورتحال مودی حکومت اور ملک کے مستقبل یعنی نوجوان نسل کے درمیان بڑھتے ہوئے گہرے فاصلے اور تضاد کو واضح کرتی ہے، جہاں اب نوجوان روایتی سیاست سے ہٹ کر اپنے حقوق کے لیے ایکا کر رہے ہیں۔