سوشل میڈیا کے مختلف پلیٹ فارمز پر فتنہ الخوارج کے مرکزی سرغنہ نور ولی محسود اور اس کے دہشت گردانہ نیٹ ورک کی اصل حقیقت کو بے نقاب کرنے والا ایک خصوصی ریپ ٹریک تیزی سے وائرل ہو رہا ہے۔ اس ویڈیو ٹریک نے انٹرنیٹ صارفین، بالخصوص نوجوانوں کی توجہ حاصل کر لی ہے، جس میں موسیقی اور شاعری کے ذریعے خارجیوں کے پاکستان دشمن ایجنڈے پر کاری ضرب لگائی گئی ہے۔
را کی فنڈنگ اور جہاد
اس وائرل ویڈیو ٹریک میں ٹھوس حقائق کے ساتھ دکھایا گیا ہے کہ کس طرح یہ گروہ اسلام اور جہاد کے مقدس نام کی آڑ لے کر دراصل بھارتی خفیہ ایجنسی را کی فنڈنگ اور بیرونی پیسوں پر چل رہا ہے۔ ٹریک کے مطابق، نور ولی محسود اور اس کے قریبی ساتھیوں نے دین کو صرف ایک لبادہ بنا رکھا ہے، جبکہ پسِ پردہ وہ بیرونی آقاؤں کے اشارے پر پاکستان میں معصوم شہریوں کے خون سے دہشت گردی کا غلیظ کاروبار چلا رہے ہیں۔
کابل اور عیاشی کی زندگی
فلمائے گئے اس خصوصی ٹریک میں عسکری گروہ کے دوغلے پن کو واضح کرتے ہوئے بتایا گیا ہے کہ کابل کی غاروں اور محفوظ پناہ گاہوں میں روپوش عسکری قیادت بیرونی فنڈز پر عیاشی کی زندگی گزار رہی ہے۔ دوسری طرف، ان کے اس پرتعیش طرزِ زندگی کی قیمت وہ معصوم اور گمراہ نوجوان چکاتے ہیں جنہیں چند پیسوں کے عوض مہرے کے طور پر خرید کر مساجد، اسکولوں اور عوامی مقامات پر حملوں کے لیے دوزخ کا ایندھن بنا دیا جاتا ہے۔
مقامی پشتون قبائل کا شدید ردِعمل
اس ویڈیو کا سب سے اہم پہلو مقامی پشتون قبائل کے شدید غصے اور ردِعمل کی عکاسی ہے۔ ٹریک میں دکھایا گیا ہے کہ اب قبائلی اضلاع کے غیور پشتون ان عسکریت پسندوں کے جھوٹے بیانیے کو یکسر مسترد کر چکے ہیں اور وادیوں میں ان عناصر کے خلاف ‘غدار’ کے نعرے گونج رہے ہیں۔ مقامی آبادی اب امن اور ریاستِ پاکستان کے ساتھ کھڑی ہے اور ان دہشت گردوں کو اپنے علاقوں میں پناہ دینے کے لیے تیار نہیں ہے۔
نیٹ ورک کی تباہی
ریپ ٹریک کے اختتام پر فتنہ الخوارج اور ان کے ہمدردوں کے لیے ایک واضح اور سخت پیغام دیا گیا ہے۔ ٹریک کے بول واضح کرتے ہیں کہ پاکستان کی مقدس مٹی میں اب ان وطن دشمن عناصر کا کھیل ہمیشہ کے لیے تمام ہو چکا ہے۔ شعور کی بیداری اور سیکیورٹی اداروں کی مؤثر کارروائیوں کے باعث فتنہ الخوارج کا یہ ملک دشمن نیٹ ورک اب اپنے منطقی انجام کو پہنچتے ہوئے ہمیشہ کے لیے دفن ہونے کے دہانے پر ہے۔