پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے رہنما ڈاکٹر شہباز گل کی ایک تازہ ویڈیو نے سوشل میڈیا پر نیا شدید تنازع کھڑا کر دیا ہے، جس کے بعد ان پر بغیر تصدیق کے اور جانتے بوجھتے ہوئے ملکی سلامتی کے خلاف بھارتی بیانیے کو فروغ دینے کا الزام عائد کیا جا رہا ہے۔ ناقدین کی جانب سے یہ سوالات اٹھائے جا رہے ہیں کہ شہباز گل ریاست مخالف ایجنڈے میں آخر کہاں تک جا سکتے ہیں، جہاں وہ ایسے بھارتی دعوؤں کو ہوا دے رہے ہیں جنہیں خود بھارتی میڈیا کے علاوہ دنیا بھر میں کہیں کوئی اہمیت نہیں دی جاتی۔
برطانوی اخبار اور حقائق
شہباز گل نے اپنی ویڈیو میں دعویٰ کیا تھا کہ مظفرآباد میں حمزہ برہان نامی شخص کو بھارتی خفیہ ایجنسی نے پاکستان میں داخل ہو کر نشانہ بنایا، اور انہوں نے اس من گھڑت دعوے کے لیے معتبر برطانوی اخبار ‘دی گارڈین’ کا حوالہ دیا۔ تاہم حقائق کی جانچ پڑتال سے یہ بات واضح ہو گئی ہے کہ یہ خبر کسی برطانوی اخبار کی نہیں بلکہ ایک بھارتی اخبار ‘سنڈے گارڈین’ کی تھی۔ شہباز گل نہ صرف اخبار کا اصل ماخذ بتانا بھول گئے، بلکہ انہوں نے جاں بحق ہونے والے شخص کا نام بھی غلط بتایا، جن کا اصل نام حمزہ احمد ڈار تھا نہ کہ حمزہ برہان۔
سکیورٹی اداروں کی کارکردگی
سیاسی و عوامی حلقوں کے مطابق شہباز گل اپنی ویڈیو میں یہ تذکرہ کرنا بھی دانستہ طور پر بھول گئے کہ مذکورہ واقعے کا اصل قاتل پہلے ہی قانون نافذ کرنے والے اداروں اور پولیس کی حراست میں ہے، جس سے تفتیش کا عمل تیزی سے جاری ہے۔ ملکی سیکیورٹی اور انٹیلی جنس ایجنسیوں کا ٹریک ریکارڈ گواہ ہے کہ کوئی بھی قاتل یا تخریب کار جرم کے بعد قانون کی گرفت سے زیادہ دیر بچ نہیں سکا ہے۔ ماضی میں پیش آنے والے دہشت گردی یا سنگین جرائم کے ۹۹ فیصد واقعات میں پولیس اور سیکیورٹی اداروں نے مجرموں کی فوری شناخت کر کے انہیں قانون کے کٹہرے میں کھڑا کیا ہے، لیکن شہباز گل نے اس حقیقت کو یکسر چھپایا۔
ڈالرز اور ویوز
سوشل میڈیا مبصرین کا کہنا ہے کہ شہباز گل دراصل بھولے نہیں ہیں، بلکہ ڈالرز کی کمائی اور سوشل میڈیا ویوز کی چاہت نے انہیں ملکی مفاد سے بیگانہ کر دیا ہے، یہی وجہ ہے کہ ملکی شہداء کا ذکر کرتے ہوئے بھی ان کی زبان لڑکھڑا جاتی ہے۔ ان کے اکاؤنٹس پر موجود بھارتی صارفین کے تعریفی کمنٹس اور داد اس بات کا واضح ثبوت ہیں کہ بھارتی بیانیے کو ہٹ ہٹ کر چلانے سے انہیں کتنا مالی اور ڈیجیٹل فائدہ پہنچ رہا ہے۔
ایسے عناصر پر تنقید کرتے ہوئے سوشل میڈیا صارفین نے شاعرانہ انداز میں غم و غصے کا اظہار کیا ہے کہ جو شخص دشمن سے داد لینے کی خاطر اپنے ہی ملک پر تہمتیں لگائے، ایسے سخن فروش کے لیے معاشرے میں کوئی عزت باقی نہیں رہتی۔