بلوچستان سے رکن قومی اسمبلی جمال رئیسانی نے کہا ہے کہ کم عمر لڑکیوں اور خواتین کو مسلح کارروائیوں میں استعمال کرنا بلوچستان کی روایات اور سماجی اقدار کی کھلی خلاف ورزی ہے۔ اسلام آباد میں ایک اہم پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں نے دعویٰ کیا کہ کالعدم بلوچ عسکری تنظیموں اور بعض سماجی و سیاسی حلقوں کے درمیان گہرے روابط موجود ہیں، جبکہ خواتین کو مسلح سرگرمیوں میں شامل کرنا بلوچ روایات اور قبائلی اقدار کے سراسر منافی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ کالعدم تنظیم بی ایل اے اور بی وائی سی نے اس مہم میں تمام حدود پار کر دی ہیں اور بعض کالعدم مسلح گروہ تیزی سے خواتین کو سیکیورٹی فورسز اور مختلف تنصیبات کے خلاف حملوں کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔
نواب اکبر بگٹی کا حوالہ
جمال رئیسانی نے پریس کانفرنس کے دوران گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ کالعدم تنظیم بی ایل اے کے کمانڈر بشیر زیب کا نام مختلف دہشتگردانہ واقعات میں سامنے آتا رہا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ بلوچ معاشرے کی قدیم روایات میں خواتین کو جنگی مقاصد کے لیے استعمال کرنے کی کوئی گنجائش موجود نہیں ہے۔
اس سلسلے میں انہوں نے سابق بلوچ رہنما نواب اکبر بگٹی کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ نواب اکبر بگٹی نے بھی اپنے دور میں یہ اصولی مؤقف اختیار کیا تھا کہ بلوچ خواتین کو کسی بھی صورت جنگ کا حصہ نہیں بنایا جائے گا۔ انہوں نے الزام عائد کیا کہ حالیہ برسوں میں بعض خودکش حملوں اور عسکری کارروائیوں میں خواتین کی شمولیت کے واضح شواہد سامنے آئے ہیں، جس پر سنجیدہ توجہ دینے کی ضرورت ہے۔
نوجوانوں کو گمراہ کرنے کی کوشش
رکن قومی اسمبلی کا کہنا تھا کہ دشمن اب صرف روایتی ہتھیاروں کے ذریعے نہیں بلکہ سوشل میڈیا، ہیش ٹیگز، ویڈیوز اور منظم پروپیگنڈا مہمات کے ذریعے بھی بلوچستان کے نوجوانوں کو متاثر کرنے کی کوشش کر رہا ہے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ انٹرنیٹ پر ایک منظم نیٹ ورک مخصوص بیانیے کو فروغ دے کر نوجوان نسل کی سوچ پر اثر انداز ہو رہا ہے اور بعض افراد اور گروہ سوشل میڈیا کے ذریعے کالعدم تنظیموں کے بیانیے کو تقویت دے رہے ہیں۔
ان کے مطابق سکیورٹی اداروں اور ریاستی اداروں کے پاس اس حوالے سے مختلف ڈیجیٹل رپورٹس اور شواہد موجود ہیں جن کا باریک بینی سے جائزہ لیا جا رہا ہے۔
سیاسی حل اور ریاستی اقدامات
جمال رئیسانی نے پریس کانفرنس کے اختتام پر کہا کہ حکومت دہشتگردی اور انتہا پسندی کے خلاف مؤثر قانون سازی اور اقدامات جاری رکھے ہوئے ہے اور بلوچستان کے نوجوانوں کو تشدد کے راستے سے دور رکھنے کے لیے ریاستی سطح پر مختلف ترقیاتی و اصلاحاتی پروگرام بھی شروع کیے گئے ہیں۔
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ بلوچستان کے دیرینہ مسائل کا حل صرف اور صرف سیاسی مکالمے، جمہوری عمل اور آئینی طریقہ کار میں ہی مضمر ہے، جبکہ تشدد اور مسلح کارروائیاں نہ صرف صوبے بلکہ پورے ملک کے امن اور استحکام کے لیے شدید نقصان دہ ہیں۔ واضح رہے کہ پریس کانفرنس میں لگائے گئے ان الزامات پر اب تک متعلقہ فریقین کا کوئی مؤقف سامنے نہیں آ سکا ہے۔