اوٹاوا: سوشل میڈیا پر کینیڈا کی موجودہ امیگریشن پالیسی اور تارکینِ وطن کی ریکارڈ آمد کے خلاف ایک نئی اور شدید بحث کا آغاز ہو گیا ہے، جس نے ملک کے سماجی اور آبادیاتی توازن کو ہلا کر رکھ دیا ہے۔ انٹرنیٹ پر وائرل ہونے والی حالیہ پوسٹس میں یہ سنگین دعویٰ کیا گیا ہے کہ بڑے پیمانے پر ہونے والی مائیگریشن کے باعث کینیڈا کے بڑے شہر، بالخصوص ٹورنٹو، تیزی سے تبدیل ہو رہے ہیں اور وہاں کے مقامی کینیڈین شہری اب خود اپنے ہی ملک میں اقلیت بن چکے ہیں۔
کینیڈا اور بھارتی کالونی؟
اس صورتحال پر سوشل میڈیا صارفین کی جانب سے شدید غم و غصے اور تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ انٹرنیٹ پر یہ بیانیہ تیزی سے مقبول ہو رہا ہے کہ بھارتی تارکینِ وطن کی بے تحاشا آمد کے باعث کینیڈا اب ایک “بھارتی کالونی” کی شکل اختیار کرتا جا رہا ہے۔ صارفین کا کہنا ہے کہ ایک ہی خطے سے بڑے پیمانے پر ہجرت کے نتیجے میں کینیڈا کا روایتی ثقافتی اور سماجی توازن مکمل طور پر بگڑ چکا ہے، جو مقامی آبادی کے لیے ایک بڑے بحران کی علامت ہے۔
عالمی برادری کے لیے سبق
سوشل میڈیا بحث میں یہ مؤقف بھی سامنے آ رہا ہے کہ دنیا کے دیگر ممالک کو کینیڈا کی موجودہ صورتحال کو ایک مثال کے طور پر دیکھنا چاہیے۔ صارفین نے دیگر عالمی حکومتوں پر زور دیا ہے کہ وہ کینیڈا کے حالات سے سبق سیکھتے ہوئے اپنے مائیگریشن قوانین کو فوری طور پر سخت کریں تاکہ وہ اپنے ممالک کو اس قسم کے سنگین آبادیاتی اور ثقافتی بحران سے محفوظ رکھ سکیں۔
واضح رہے کہ اس تیز رفتار ہجرت نے پہلے ہی کینیڈا میں رہائش، روزگار کی کمی اور بنیادی ڈھانچے پر دباؤ کے حوالے سے ایک سنگین بحران پیدا کر رکھا ہے۔