روم: اٹلی میں افغان پناہ گزینوں کی ایک منی وین کو آگ لگائے جانے کا ہولناک واقعہ سامنے آیا ہے، جس کے نتیجے میں تین افغان شہری جھلس کر ہلاک ہو گئے ہیں۔ اس واقعے کے بعد بین الاقوامی سطح پر تارکینِ وطن اور یورپی ممالک کی مقامی کمیونٹیز کے درمیان بڑھتے ہوئے شدید تناؤ اور کھچاؤ پر ایک نئی اور سنجیدہ بحث کا آغاز ہو گیا ہے۔
بڑھتی ہوئی مایوسی
مبصرین اور عوامی حلقوں کے مطابق، بیرونِ ملک مقیم بعض افغان پناہ گزینوں کی جانب سے اسٹریٹ کرائم، منشیات کی اسمگلنگ، چوری اور غیر قانونی بستیاں قائم کرنے جیسے مبینہ جرائم نے میزبان ممالک کے شہریوں میں شدید مایوسی اور غصے کو جنم دیا ہے۔ مقامی آبادی ان سرگرمیوں کو اپنے امن و امان اور ذاتی سلامتی کے لیے ایک بڑا خطرہ تصور کر رہی ہے، جس کی وجہ سے دونوں برادریوں میں دوری بڑھتی جا رہی ہے۔
قانون ہاتھ میں لینا
سوشل میڈیا پر جاری بحث سے یہ تاثر مل رہا ہے کہ کڑی نگرانی اور حکام کی جانب سے ان شکایات پر بروقت قابو نہ پانے کی وجہ سے اب مقامی عوام کا صبر جواب دے رہا ہے۔ تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ انتظامیہ کی عدم توجہی کے باعث بعض مقامات پر لوگ قانون کو اپنے ہاتھ میں لے رہے ہیں، جو اس طرح کے پرتشدد اور افسوسناک واقعات کی شکل میں سامنے آ رہا ہے۔
ماہرین نے یورپی حکومتوں پر زور دیا ہے کہ وہ تارکینِ وطن کے قوانین اور مقامی نظامِ عدل کو مزید فعال بنائیں تاکہ ایسے بحرانوں کا تدارک کیا جا سکے۔