اسلام آباد: سوشل میڈیا اور عالمی سکیورٹی حلقوں میں کالعدم تنظیم تحریکِ طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) اور افغان طالبان کا خطرناک اسٹریٹجک گٹھ جوڑ مکمل طور پر بے نقاب ہو گیا ہے۔ حالیہ سامنے آنے والی ویڈیو سے یہ بات ثابت ہو گئی ہے کہ افغان طالبان کی جانب سے ٹی ٹی پی کے دہشت گردوں کو جدید ترین ہتھیاروں اور آلات کی باقاعدہ فراہمی کی جا رہی ہے، جس نے خطے کے امن کو داؤ پر لگا دیا ہے۔
ثبوت منظرِ عام پر
سوشل میڈیا اور دفاعی تجزیہ کاروں کی جانب سے جاری کردہ تازہ ترین ویڈیو سے یہ واضح ہوتا ہے کہ افغانستان ایک بار پھر دہشت گردوں کے لیے سب سے محفوظ پناہ گاہ بن چکا ہے۔ ماہرین اور مبصرین کے مطابق، افغان سرزمین پر ان دہشت گرد گروہوں کو ملنے والی یہی کھلی سہولت کاری اور گٹھ جوڑ ہی پورے خطے بالخصوص پاکستان میں ہونے والی حالیہ دہشت گردانہ سرگرمیوں اور بدامنی کے پیچھے کارفرما ہے۔
The Afghan Taliban are providing weapons to the TTP. #Afghanistan has become a safe haven for terrorists, and their facilitation is behind terrorist activities taking place across the region.#furry pic.twitter.com/KGeIa2Irvb
— TorkhamToll (@911y3) June 4, 2026
ان ناقابلِ تردید ثبوتوں نے افغان عبوری حکومت کے ان دعوؤں کی قلعی کھول دی ہے جس میں وہ اپنی سرزمین کسی دوسرے ملک کے خلاف استعمال نہ ہونے کا راگ الاپتے رہے ہیں۔
سکیورٹی کے لیے خطرہ
اس سنگین انکشاف کے بعد سوشل میڈیا پر صارفین اور خطے کے عوامی حلقوں کی جانب سے گہری تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کابل انتظامیہ پر سخت تنقید کی جا رہی ہے۔ عوامی سطح پر یہ مطالبہ زور پکڑ رہا ہے کہ سرحدی سلامتی اور خطے کے دیرپا امن کے لیے اب محض بیانات کافی نہیں، بلکہ افغان حکومت کو اس دہشت گرد گٹھ جوڑ کو توڑنے اور اپنی سرزمین کا استعمال روکنے کے لیے فوری اور ٹھوس زمینی اقدامات کرنے ہوں گے، بصورتِ دیگر اس کے نتائج پورے خطے کی سلامتی کے لیے سنگین ہو سکتے ہیں۔