حیفہ کے محلے کبابیر میں منعقدہ سالانہ جلسے پر اسرائیلی صدر کے تہنیتی پیغامات نے قادیانیت اور صیہونیت کے دہائیوں پر محیط فکری، سیاسی اور عملی گٹھ جوڑ کو ایک بار پھر بے نقاب کر دیا ہے۔

September 23, 2026

افواج پاکستان کے ایئر ڈیفنس سسٹم نے پاکستانی حدود میں داخل ہونے والے افغان طالبان کے تمام 8 ڈرونز کو کامیابی سے مار گرا کر تباہ کر دیا۔

September 23, 2026

بلوچستان میں پاکستان نیوی اور کوسٹ گارڈز کی مشترکہ کارروائی، بڑی مقدار میں شراب اور غیر قانونی ادویات ضبط کر لی گئیں۔

September 23, 2026

داعش خراسان کے سربراہ ثناء اللہ غفاری کی افغانستان کے صوبہ کنڑ میں موجودگی سامنے آئی ہے، اقوام متحدہ کی رپورٹ میں بھی کنڑ کو اس کا ممکنہ ٹھکانہ قرار دیا گیا تھا۔

September 23, 2026

حکام نے تحریک انصاف کے احتجاج کے تناظر میں ہسپتالوں کو بستر خالی کرانے سے متعلق سوشل میڈیا دعوؤں کی سختی سے تردید کرتے ہوئے انہیں مکمل جھوٹ قرار دے دیا۔

September 23, 2026

نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے او آئی سی اجلاس میں افغانستان میں کالعدم تنظیموں کی موجودگی پر تشویش کا اظہار کرتے ہوئے طالبان سے فوری اور قابلِ تصدیق کارروائی کا مطالبہ کیا ہے۔

September 23, 2026

ملا عمر کی میراث ماسکو میں نیلام: افغان طالبان اور روس کے عسکری تعاون پر شدید تنقید

ملا عمر کے بیٹے ملا یعقوب کا روس کے ساتھ عسکری تعاون کا معاہدہ طالبان کے نظریاتی زوال کا منہ بولتا ثبوت بن گیا۔
ملا عمر کے بیٹے ملا یعقوب کا روس کے ساتھ عسکری تعاون کا معاہدہ طالبان کے نظریاتی زوال کا منہ بولتا ثبوت بن گیا۔

ملا یعقوب کا دورہ ماسکو اور روس کے ساتھ دفاعی سودا؛ سوویت جنگ کے افغان شہدا کی قربانیوں سے انحراف پر گہرے سوالات۔

June 4, 2026

کابل/ماسکو: افغان طالبان کے بانی ملا عمر کی سیاسی و نظریاتی میراث کو ان کے اپنے ہی بیٹے اور موجودہ طالبان وزیرِ دفاع ملا یعقوب نے ماسکو میں جا کر داؤ پر لگا دیا ہے۔ تاریخی طور پر جس ملا عمر نے سوویت روس کے خلاف جنگ لڑی اور اپنی پوری تحریک کی شناخت سوویت غاصبانہ قبضے کے خلاف جہاد پر قائم کی تھی، آج ان کے بیٹے ملا یعقوب اسی سابق قابض طاقت روس کے ساتھ عسکری و دفاعی تعاون کے لیے مذاکرات کر رہے ہیں۔ سیاسی مبصرین کے مطابق یہ کھلا تضاد اب طالبان کے حتمی نظریاتی زوال اور دیوالیہ پن کی واضح دلیل بن چکا ہے، جہاں ماضی کے بنیادی اصولوں کو یکسر فراموش کر دیا گیا ہے۔

افغانوں کی توہین

دفاعی اور سیاسی حلقوں کے مطابق، ماضی میں لاکھوں افغان شہریوں نے سوویت جنگ کی قیمت اپنی جانوں، املاک کی تباہی، مٹی سے بے دخلی اور نسلوں پر محیط گہرے صدمے کی صورت میں ادا کی تھی۔ ملا یعقوب کا روس کے ساتھ یہ حالیہ رابطہ ان لاکھوں افغانوں کے ورثے اور قربانیوں کی کھلی توہین ہے، جس نے افغانوں کے آزادی کے خون آلود نعروں کو محض اپنی بقا اور بیرونی عسکری حمایت حاصل کرنے کے ایک سیاسی سودے میں تبدیل کر دیا ہے۔

طالبان نے دہائیوں تک خود کو افغان خودمختاری اور مزاحمتی تحریک کا واحد محافظ قرار دے کر پیش کیا، مگر آج یہی قیادت اس روسی ریاست کے ساتھ پینگیں بڑھا رہی ہے جس کے ٹینکوں نے افغانستان کو روندا، جس کے بموں نے افغان دیہات تباہ کیے اور جس کی مداخلت نے ملک کو نسلوں تک نہ مٹنے والے زخم دیے۔

اقتدار اور بقا

اس غیر معمولی صورتحال نے طالبان کے پروپیگنڈا کرنے والوں کے لیے ایک انتہائی مشکل اور سنگین سوال کھڑا کر دیا ہے کہ کیا ان کا جہاد صرف اقتدار کے حصول تک ایک سیاسی نعرہ تھا؟ کیونکہ اب طالبان قیادت اسی روسی ریاست کے ساتھ دفاعی معاہدوں اور تعاون پر آمادہ نظر آتی ہے۔ روس کی طرف یہ جھکاؤ اس حقیقت کو بے نقاب کرتا ہے کہ یہ تحریک کسی اصولی آزادی کی قوت نہیں بلکہ ایک ایسا عملی طاقت کا ڈھانچہ ہے جو صرف اپنی بقا اور اسلحے کے حصول کے لیے اپنے سابق بدترین دشمن سے بھی تعلقات قائم کرنے کو تیار ہے۔

اسٹریٹجک تضادات

ایک اور سنگین اسٹریٹجک تضاد یہ ہے کہ طالبان روس کے ساتھ تعلقات بڑھا رہے ہیں جبکہ روس خود بین الاقوامی فورمز پر افغانستان کے اندر 20 سے زائد دہشت گرد تنظیموں اور 23 ہزار سے زائد مسلح جنگجوؤں کی موجودگی پر بارہا شدید تشویش ظاہر کر چکا ہے۔ ایک طرف روس افغانستان سے دہشت گردی کے خطرات کی بات کرتا ہے اور دوسری طرف طالبان ان کے ساتھ عسکری شراکت داری کے خواہشمند ہیں یہ تضاد پوری دنیا کے سامنے عیاں ہو چکا ہے۔

ماہرین کے مطابق جو چیز کبھی آزادی کی جنگ کے طور پر پیش کی جاتی تھی، وہ اب اصولوں سے خالی اقتدار، غیر مستقل نظریے اور اپنی ہی تاریخ سے الگ ایک مفاد پرست سیاسی نظام کی شکل اختیار کر چکی ہے۔

متعلقہ مضامین

حیفہ کے محلے کبابیر میں منعقدہ سالانہ جلسے پر اسرائیلی صدر کے تہنیتی پیغامات نے قادیانیت اور صیہونیت کے دہائیوں پر محیط فکری، سیاسی اور عملی گٹھ جوڑ کو ایک بار پھر بے نقاب کر دیا ہے۔

September 23, 2026

افواج پاکستان کے ایئر ڈیفنس سسٹم نے پاکستانی حدود میں داخل ہونے والے افغان طالبان کے تمام 8 ڈرونز کو کامیابی سے مار گرا کر تباہ کر دیا۔

September 23, 2026

بلوچستان میں پاکستان نیوی اور کوسٹ گارڈز کی مشترکہ کارروائی، بڑی مقدار میں شراب اور غیر قانونی ادویات ضبط کر لی گئیں۔

September 23, 2026

داعش خراسان کے سربراہ ثناء اللہ غفاری کی افغانستان کے صوبہ کنڑ میں موجودگی سامنے آئی ہے، اقوام متحدہ کی رپورٹ میں بھی کنڑ کو اس کا ممکنہ ٹھکانہ قرار دیا گیا تھا۔

September 23, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *