وزیراعظم آزاد کشمیر راجا فیصل ممتاز راٹھور نے کہا ہے کہ حکومت اب بھی عوامی ایکشن کمیٹی کے ساتھ تمام تصفیہ طلب مسائل مذاکرات اور افہام و تفہیم کے ذریعے حل کرنے کے لیے تیار ہے، تاہم اگر کہیں بھی قانون ہاتھ میں لیا گیا تو سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔
نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے وزیراعظم آزاد کشمیر نے واضح کیا کہ عوامی ایکشن کمیٹی کا احتجاج پرامن نہیں ہے۔ انہوں نے خبردار کیا کہ ہندوستان، پاکستان اور کشمیر کا ازلی دشمن ہے جو ہمیشہ ایسے نازک حالات سے فائدہ اٹھانے کی تلاش میں رہتا ہے، اس لیے ہمیں ملک میں ایسی افراتفری پیدا کرنے سے گریز کرنا چاہیے جس سے دشمن کو موقع ملے۔ ان کا کہنا تھا کہ آزاد کشمیر کے موجودہ نظام کے پیچھے اسلاف کی بے شمار قربانیاں شامل ہیں اور موجودہ تعمیر و ترقی اسی نظام کی مرہونِ منت ہے۔
راجا فیصل ممتاز راٹھور نے حقوق کے نام پر بار بار ریاست کو بند کرنے کے طرزِ عمل پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ آزاد کشمیر میں عوام کو جس رعایتی نرخ پر آٹا اور بجلی فراہم کی جا رہی ہے، اس کی مثال پاکستان کے کسی دوسرے صوبے میں نہیں ملتی۔
انہوں نے ماضی کی بدامنی کا ذکر کرتے ہوئے افسوس کا اظہار کیا کہ سابقہ افراتفری کے دوران 14 افراد اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے؛ یہ مناسب طریقہ نہیں کہ پہلے لاشیں گریں اور پھر مذاکرات کی میز پر بیٹھا جائے۔
وزیراعظم نے انکشاف کیا کہ عوامی ایکشن کمیٹی کے بعض اراکین خود اعتراف کرتے ہیں کہ مطالبات تسلیم ہونے کے بعد بھی وہ لانگ مارچ کریں گے، جو ان کی نیت پر سوالیہ نشان ہے۔ انہوں نے بتایا کہ قمر زمان کائرہ نے مذاکرات کے لیے ایک ہفتے کی مہلت مانگی تھی لیکن کمیٹی نے اسے بھی مسترد کر دیا۔
راجا فیصل ممتاز راٹھور نے مشورہ دیا کہ اگر ایکشن کمیٹی واقعی عوامی مقبولیت رکھتی ہے تو اسے انتخابات میں حصہ لے کر جمہوری طریقے سے خود کو ثابت کرنا چاہیے۔
مہاجرین کی نشستوں کے معاملے پر بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ مسلم لیگ (ن) ان نشستوں کو کم کرنے پر آمادہ تھی جبکہ پاکستان پیپلز پارٹی مخصوص نشستوں کے ذریعے نمائندگی دینے کے حق میں ہے، اور اس معاملے کا حل بھی بیٹھ کر نکالا جا سکتا تھا۔ انہوں نے تمام فریقین پر زور دیا کہ ریاست کے تشخص اور مفادات کے تحفظ کے لیے ذمہ داری کا مظاہرہ کریں۔