وزیراعظم پاکستان کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثناء اللہ نے آزاد جموں و کشمیر کے سیاسی و آئینی بحران پر سخت مؤقف اختیار کرتے ہوئے کہا ہے کہ اگر آزاد کشمیر اسمبلی میں مقیم پاکستان مہاجرین کی نشستیں ختم کردی جائیں تو بھارت اور ہم میں کیا فرق رہ جائے گا۔ انہوں نے واضح کیا کہ ان مہاجرین نے تحریکِ آزادیِ کشمیر کی خاطر لازوال قربانیاں دی ہیں جنہیں کسی صورت نظر انداز نہیں کیا جا سکتا۔
نجی ٹی وی سے گفتگو کرتے ہوئے رانا ثناء اللہ نے جموں و کشمیر جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کے طریقہ کار کو شدید تنقید کا نشانہ بنایا۔ انہوں نے کہا کہ ایکشن کمیٹی دھونس اور جتھہ کلچر کے ذریعے اپنے مطالبات منوانا چاہتی ہے جو کہ ممکن نہیں۔
انہوں نے کمیٹی کی نیت پر سوال اٹھاتے ہوئے کہا کہ عمر نذیر کشمیری کا یہ بیان کہ مطالبات تسلیم ہونے پر بھی 9 جون کا لانگ مارچ ہر صورت ہوگا اس بات کی زندہ مثال ہے کہ ان کا مقصد صرف انتشار پھیلانا ہے۔
مشیرِ وزیراعظم کا کہنا تھا کہ آئینی معاملات ہمیشہ اسمبلی کے اندر ہی حل ہو سکتے ہیں، حکومت نے اس سلسلے میں آل پارٹیز کانفرنس بھی بلائی لیکن ایکشن کمیٹی نے اس کا بائیکاٹ کر دیا۔ انہوں نے سنسنی خیز انکشاف کرتے ہوئے کہا کہ حکومت کو ایکشن کمیٹی کو ہونے والی فنڈنگ کے ذرائع کا اچھی طرح علم ہے۔
ان سے لانگ مارچ مؤخر کرنے اور انتخابات تک انتظار کرنے کی اپیل کی گئی تھی، تاہم انہوں نے صاف کہہ دیا کہ وہ کسی صورت آزاد کشمیر میں الیکشن ہونے ہی نہیں دیں گے۔
واضح رہے کہ جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی نے مہاجرین کی نشستیں ختم کرنے کے مطالبے پر 9 جون کو مظفرآباد کی طرف لانگ مارچ کا اعلان کر رکھا ہے۔ دوسری جانب حکومت نے امن و امان برقرار رکھنے کے لیے وفاق سے سیکیورٹی فورسز طلب کر لی ہیں جس کے بعد خطے میں حالات کشیدہ ہیں۔
اس نازک صورتحال کے پیشِ نظر سول سوسائٹی اور وکلا برادری نے حکومت اور ایکشن کمیٹی دونوں کو مشورہ دیا ہے کہ تصادم کسی مسئلے کا حل نہیں، اس لیے اب بھی وقت ہے کہ مذاکرات کے ذریعے بحران کا پرامن حل نکالا جائے۔