فرانس کے معتبر اور عالمی شہرت یافتہ جریدے لی مون نے سندھ طاس معاہدے کے حوالے سے ایک تفصیلی رپورٹ شائع کی ہے، جس میں خبردار کیا گیا ہے کہ اس تاریخی معاہدے کی یکطرفہ معطلی یا اس میں کسی بھی قسم کی مداخلت جنوبی ایشیا میں آبی سلامتی کے لیے ایک انتہائی خطرناک اور تباہ کن موڑ ثابت ہو سکتی ہے۔
جریدے نے اپنی خصوصی رپورٹ میں پاکستانی پنجاب کے سیلاب متاثرین کی آواز کو عالمی سطح پر اجاگر کرتے ہوئے خطے کے بگڑتے ہوئے موسمیاتی اور جغرافیائی حالات پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔
فرانسیسی جریدے کی رپورٹ کے مطابق سنہ 1960 میں طے پانے والا سندھ طاس معاہدہ ایک جامع بین الاقوامی دستاویز ہے، جسے کوئی بھی فریق یکطرفہ طور پر معطل یا ختم نہیں کر سکتا۔
رپورٹ میں واضح کیا گیا ہے کہ سندھ طاس کا پورا آبی نظام پاکستان کی زرعی معیشت، صنعتی شعبے اور کروڑوں کی آبادی کی بقا کے لیے بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔ اگر اس نظام میں کسی بھی قسم کا تعطل پیدا کیا گیا تو اس کے براہِ راست اثرات پاکستان کی غذائی اور معاشی سلامتی پر مرتب ہوں گے۔
سندھ طاس معاہدہ معطلی جنوبی ایشیا میں آبی سلامتی کیلئے خطرناک موڑ۔۔۔فرانسیسی جریدے لی موند
— PTV News (@PTVNewsOfficial) June 8, 2026
نے پاکستانی پنجاب کے سیلاب متاثرین کی آواز دنیا تک پہنچا دی۔۔رپورٹ کے مطابق سندھ طاس معاہدہ یکطرفہ طور پر معطل نہیں کیا جا سکتا۔۔۔سندھ طاس نظام پاکستان کی معیشت اور آبادی کیلئے بنیادی… pic.twitter.com/uHBwA7x832
لی موند نے بھارتی حکومت کے حالیہ رویوں اور بیانات کے تناظر میں لکھا ہے کہ نئی دہلی کا کوئی بھی ایسا اقدام جو معاہدے کی روح کے منافی ہو، بین الاقوامی دریائی قوانین اور نچلے بہاؤ کے ممالک کے حقوق کے لیے ایک انتہائی خطرناک مثال بن جائے گا۔
اس طرح کا کوئی بھی قدم نہ صرف خطے کے امن کو داؤ پر لگا دے گا بلکہ عالمی سطح پر پانی کے منصفانہ استعمال کے اصولوں کو بھی شدید نقصان پہنچائے گا۔
بین الاقوامی میڈیا کی اس اہم رپورٹ کے بعد عالمی سفارتی محاذ پر پاکستان کا مؤقف اخلاقی اور قانونی طور پر مزید مضبوط ہو کر ابھرا ہے۔
پاکستان طویل عرصے سے یہ مؤقف اپناتا آیا ہے کہ پانی ایک بنیادی انسانی ضرورت ہے، جسے کسی بھی صورت میں جنگ، سیاسی دباؤ، یا اسٹریٹجک انتقام کا ذریعہ نہیں بنایا جانا چاہیے۔ مبصرین کا کہنا ہے کہ فرانسیسی جریدے کی یہ رپورٹ عالمی برادری کی توجہ اس حساس معاملے کی طرف مبذول کرانے میں اہم کردار ادا کرے گی۔