امریکہ کی ایک وفاقی عدالت نے طالبان کے سابق کمانڈر حاجی نجیب اللہ کو امریکی شہریوں کے اغوا، سکیورٹی افواج پر حملوں اور دہشت گردی کی معاونت کے الزامات میں مجرم قرار دیتے ہوئے 42 سال قید کی سنگین سزا سنا دی ہے۔ امریکی محکمہ انصاف کے حکام نے اس فیصلے کو انصاف کی فراہمی اور دہشت گردی کے خلاف جنگ میں ایک بڑی کامیابی قرار دیا ہے۔
عدالتی دستاویزات اور امریکی محکمہ انصاف کے بیانات کے مطابق، حاجی نجیب اللہ پر الزام تھا کہ وہ سال 2008 میں افغانستان کے اندر امریکی جریدے نیویارک ٹائمز سے وابستہ نامور صحافی ڈیوڈ روڈ اور ان کے دو افغان معاونین کے اغوا کی مجرمانہ سازش میں براہِ راست ملوث تھا۔
اس کے علاوہ امریکی استغاثہ نے عدالت میں یہ ثابت کیا کہ ملزم ایک ایسے مہلک حملے کی منصوبہ بندی اور نفاذ میں بھی شامل تھا، جس کے نتیجے میں تین امریکی فوجی اور ان کا ایک افغان مترجم ہلاک ہوئے تھے۔
رپورٹس کے مطابق حاجی نجیب اللہ کو ایک طویل بین الاقوامی آپریشن کے بعد سال 2020 میں یوکرین سے گرفتار کیا گیا تھا، جہاں سے بعد میں انہیں باقاعدہ طور پر مقدمے کی سماعت کے لیے امریکہ منتقل کیا گیا۔
امریکی حکام کا کہنا ہے کہ طویل قانونی کارروائی کے بعد ملزم نے گزشتہ سال نیویارک کی عدالت میں اپنے خلاف عائد تمام سنگین الزامات بشمول یرغمال بنانے، اغوا کی سازش اور دہشت گرد تنظیموں کی معاونت کا اعتراف کر لیا تھا، جس کے بعد اب عدالت نے انہیں 42 سال قید کی سزا سنائی۔
واضح رہے کہ امریکی صحافی ڈیوڈ روڈ کو 2008 کے اواخر میں افغانستان میں رپورٹنگ کے دوران اس وقت اغوا کیا گیا تھا جب وہ ایک کتاب کی تحقیق کے سلسلے میں کابل کے نواح میں موجود تھے۔ وہ تقریباً سات ماہ تک طالبان کی قید میں رہے اور بالآخر 2009 میں پاکستان کے قبائلی علاقے میں واقع ایک کیمپ سے انتہائی ڈرامائی انداز میں فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے تھے۔
امریکی سیکیورٹی حکام کا کہنا ہے کہ یہ فیصلہ اس بات کا واضح پیغام ہے کہ امریکی شہریوں کو دنیا میں کہیں بھی نشانہ بنانے والے عناصر قانون کی گرفت سے بچ نہیں سکتے۔