افغانستان کے دارالحکومت کابل اور جنوبی صوبے قندھار کو ملانے والی مرکزی شاہراہ پر ایک ٹریفک حادثے میں طالبان کے ایک اہم فوجی کمانڈر ہلاک ہو گئے ہیں۔ سکیورٹی ذرائع کے مطابق حادثے کا شکار ہونے والی گاڑی کی تلاشی کے دوران اس میں سے افغان کرنسی (افغانی) کی ایک خطیر رقم برآمد ہوئی ہے۔
سرکاری سطح پر اس رقم کی موجودگی کی وجوہات پر تاحال خاموشی اختیار کی گئی ہے، تاہم اس واقعے نے افغانستان کے لیے مختص بین الاقوامی امدادی فنڈز کے غلط استعمال اور طالبان حکومت میں بڑھتی ہوئی مبینہ کرپشن کے حوالے سے ایک نئی بحث کو جنم دے دیا ہے۔
آزاد مبصرین کا دعویٰ ہے کہ ایک عسکری کمانڈر کی گاڑی سے اتنی بڑی رقم کا برآمد ہونا اس بات کا واضح اشارہ ہے کہ عالمی برادری کی جانب سے افغان عوام کے لیے بھیجی جانے والی انسانی ہمدردی کی امداد مستحقین تک پہنچنے کے بجائے طالبان کے بااثر حلقوں میں تقسیم ہو رہی ہے۔
عالمی امدادی اداروں کی رپورٹس
یہ واقعہ ایک ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب افغانستان کے لیے امریکی امداد کے نگران ادارے اسپیشل انسپکٹر جنرل فار افغانستان ریکنسٹرکشن (سگار) اور دیگر بین الاقوامی اداروں نے اپنی حالیہ رپورٹس میں طالبان کی جانب سے امدادی فنڈز میں بڑے پیمانے پر مداخلت کا انکشاف کیا ہے۔
سگار کی رپورٹس کے مطابق اگست 2021 میں کابل پر کنٹرول حاصل کرنے کے بعد سے طالبان نے مسلسل ایسے ہتھکنڈے اپنائے ہیں جن کے ذریعے اربوں ڈالر کی انسانی امداد کو اپنے مقاصد کے لیے استعمال کیا جا سکے۔ رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ طالبان نے امدادی تنظیموں پر دباؤ ڈالا کہ وہ فنڈز ان کے منظور شدہ چینلز کے ذریعے تقسیم کریں یا صرف مخصوص گروہوں کو فراہم کریں۔
اس انتظامی مداخلت کے باعث اقوام متحدہ کے ذیلی ادارے ورلڈ فوڈ پروگرام (ڈبلیو ایف پی) کو اس سے قبل غزنی سمیت کئی صوبوں میں اپنی سرگرمیاں اس لیے معطل کرنا پڑیں کیونکہ طالبان کے مقامی حکام امدادی سامان کی تقسیم کا عمل مکمل طور پر اپنے ہاتھ میں لینا چاہتے تھے، تاکہ اسے عام مستحقین کے بجائے اپنے حامیوں میں بانٹا جا سکے۔
رپورٹس میں یہ بھی واضح کیا گیا تھا کہ طالبان نے خواتین کو براہِ راست امداد حاصل کرنے سے روکا اور کئی علاقوں میں مستحق خاندانوں کے راشن کارڈز بلاک کر دیے، جس کے نتیجے میں لاکھوں افغان شہری بنیادی خوراک اور طبی سہولیات سے محروم ہو گئے۔
فنڈز کا غلط استعمال
بین الاقوامی برادری اور واشنگٹن میں حکومتی تبدیلیوں کے بعد افغان فنڈز کی نگرانی کو مزید سخت کیا گیا ہے۔ رپورٹس کے مطابق امریکہ کی جانب سے فراہم کردہ 3.8 ارب ڈالر سے زائد کی امداد کا ایک بڑا حصہ طالبان کے سخت قوانین، ٹیکسوں اور من پسند افراد کو ٹھیکے دیے جانے کی وجہ سے براہِ راست طالبان کی تحویل میں چلا گیا۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ کابل-قندھار شاہراہ پر برآمد ہونے والی رقم اسی سلسلے کی ایک کڑی ہو سکتی ہے۔ طالبان انتظامیہ پر یہ الزامات شدت اختیار کر رہے ہیں کہ وہ بیرونی امداد کو غریب افغان عوام تک پہنچانے کے بجائے اپنے کمانڈروں کی وفاداریاں برقرار رکھنے اور عسکری نیٹ ورک کو مضبوط کرنے کے لیے استعمال کر رہی ہے۔
اس صورتحال کے باعث کئی عالمی ڈونرز نے افغانستان کے لیے ترقیاتی اور انسانی ہمدردی کے فنڈز کو عارضی طور پر روکنے یا ان پر سخت شرائط عائد کرنے کا سلسلہ شروع کر دیا ہے، جس سے ملک میں جاری انسانی بحران کے مزید سنگین ہونے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔