پاکستان نے افغان طالبان حکومت کی جانب سے حالیہ فوجی کارروائیوں میں سویلین ہلاکتوں کے الزامات کو قطعی طور پر مسترد کر دیا ہے۔ اسلام آباد کا مؤقف ہے کہ کابل انتظامیہ کے یہ دعوے حقائق پر مبنی نہیں ہیں، بلکہ ان کا مقصد افغان سرزمین سے پاکستان کے خلاف ہونے والی مسلسل دہشت گردانہ سرگرمیوں سے عالمی توجہ ہٹانا ہے۔
ترجمان کے مطابق پاکستان نے طویل عرصے تک انتہائی صبر و تحمل کا مظاہرہ کیا اور پاک افغان سرحد پر امن و امان کے قیام اور مشترکہ سیکیورٹی میکانزم کو فعال کرنے کے لیے مسلسل کوششیں کیں۔
Crime
— Zabihullah (..ذبـــــیح الله م ) (@Zabehulah_M33) June 10, 2026
Last night, the Pakistani military once again violated Afghanistan's airspace and bombed civilian homes in the provinces of Kunar, Khost, and Paktika.
As a result of these attacks, 11 children, one woman, and one elderly man were killed, while 14 other women
2/1
تاہم افغان حکام اپنی بین الاقوامی ذمہ داریاں پوری کرنے کے بجائے پروپیگنڈے کا سہارا لے رہے ہیں۔ حالیہ مہینوں میں افغان سرزمیں کو استعمال کرتے ہوئے پاکستان میں سیکیورٹی فورسز اور شہریوں پر حملوں میں تیزی آئی ہے۔
رواں سال کے دوران سرحدی علاقوں میں دہشت گردی کے متعدد بڑے واقعات رپورٹ ہوئے ہیں۔ گزشتہ آٹھ جون کو حسن خيل کے مقام پر سرحدی چوکی پر ہونے والے حملے میں چھ سیکیورٹی اہلکار شہید، آٹھ زخمی اور سات لاپتہ ہوئے۔
اس سے قبل مئی میں بنوں میں پولیس چوکی پر ڈرونز اور بارود سے بھری گاڑیوں کے ذریعے کیے گئے حملے میں پندرہ افسران شہید ہوئے، جبکہ اپریل میں کار بم دھماکے کے نتیجے میں پانچ شہری جان سے گئے۔ اعداد و شمار کے مطابق، رواں سال صرف خیبر پختونخوا میں دہشت گردی کے باعث چھیاسی افراد شہید اور دو سو ساٹھ سے زائد زخمی ہو چکے ہیں۔
دوسری جانب، اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے حالیہ اجلاس میں بھی عالمی برادری نے افغان سرزمین کے دہشت گردی کے لیے استعمال ہونے پر شدید تشویش کا اظہار کیا ہے۔
علاقائی سیکیورٹی کی پیچیدہ صورتحال اور تزویراتی چیلنجز کے پیش نظر، پاکستانی حکام اب دہشت گرد تنظیموں کے نیٹ ورک، ان کے سہولت کاروں اور مالی معاونت کے ذرائع کو مستقل طور پر ختم کرنے کے لیے سخت اور حتمی اقدامات پر غور کر رہے ہیں۔