راولاکوٹ: آزاد کشمیر کے علاقے راولاکوٹ میں کالعدم جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی نے رات گئے اپنے دھرنے ختم کرنے کا اعلان کر دیا ہے، جس کی تصدیق کمشنر پونچھ سردار وحید نے کی ہے۔ دھرنے ختم ہونے کے بعد مظاہرین اپنے گھروں کو لوٹ گئے ہیں، جبکہ سیکیورٹی صورتحال کے پیشِ نظر پولیس اور رینجرز کے دستوں نے ان مقامات کا کنٹرول سنبھال لیا ہے۔
واضح رہے کہ جوائنٹ عوامی ایکشن کمیٹی کو 9 جون کے احتجاج سے قبل ہی حکومت کی جانب سے کالعدم تنظیم قرار دیا گیا تھا۔ تنظیم نے 9 جون کو احتجاج کی کال دی تھی، جس کے بعد مختلف علاقوں سے مظاہرین راولاکوٹ کے قریب جمع ہوئے تھے۔ اس احتجاج کے دوران ہونے والے پرتشدد واقعات میں 4 سیکیورٹی اہلکاروں سمیت ڈیڑھ درجن سے زائد افراد جاں بحق ہو چکے ہیں۔
کالعدم ایکشن کمیٹی کے ذمہ داران کا مؤقف ہے کہ دھرنے ایک حکمت عملی کے تحت ختم کیے گئے ہیں اور جلد ہی آئندہ کے لائحہ عمل کا اعلان کیا جائے گا۔ دوسری جانب، حکومت نے اس بار سخت ترین فیصلے کیے ہیں، جن کے تحت ایک سابقہ معاہدے کے تحت ختم کی جانے والی 177 ایف آئی آرز کو دوبارہ بحال کر دیا گیا ہے۔
علاوہ ازیں، کالعدم ایکشن کمیٹی کے دو اہم کور ممبرز شوکت نواز میر اور خواجہ مہران کے خلاف بغاوت کا مقدمہ قائم کر کے قانونی کارروائی کا آغاز کر دیا گیا ہے۔ دریں اثنا، وزیراعظم پاکستان کے مشیر برائے سیاسی امور رانا ثناء اللہ نے ایک اہم انکشاف کرتے ہوئے بتایا کہ کالعدم ایکشن کمیٹی انتخابات میں حصہ لینے کے لیے الحاقِ پاکستان کی لازمی شق کو ختم کرنے کا مطالبہ کر رہی تھی۔