اسلام آباد: پی ٹی وی نیوز کی ایک رپورٹ کے مطابق عالمی سطح پر بھارت کی مبینہ سفارتی اور سیاسی ناکامی کے اثرات نمایاں ہونا شروع ہو گئے ہیں۔ رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ امریکی محکمۂ دفاع (پینٹاگون) نے اپنی اہم عسکری کمانڈ انڈو پیسیفک کمانڈ کے نام سے انڈو کا لفظ باقاعدہ طور پر ہٹا دیا ہے اور اس کا سابقہ نام یعنی امریکی پیسیفک کمانڈ دوبارہ بحال کر دیا ہے۔
خطے پر اثرات
رپورٹ میں سفارتی اور دفاعی ماہرین کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ امریکی دفاعی کمانڈ کے نام میں اس اہم تبدیلی کے بعد جنوبی ایشیا کے خطے میں چین اور پاکستان کے جغرافیائی, معاشی اور عسکری اثر و رسوخ میں مزید اضافہ ہوگا۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ تبدیلی خطے کی بدلتی ہوئی جیو پولیٹیکل صورتحال کی عکاس ہے، جہاں طاقت کا توازن تیزی سے تبدیل ہو رہا ہے۔
معرکہ حق میں انڈیا کی شکست کے اثرات عالمی سطح پررونما ہونے لگے۔۔امریکی محکمہ جنگ نےانڈوپیسیفک کمانڈسے انڈو کا لفظ ہٹا کر پرانا نام یوایس پیسیفک کمانڈ بحال کردیا۔۔فیصلے سےجنوبی ایشیا میں چین اورپاکستان کاجغرافیائی، معاشی اورعسکری اثرورسوخ مزید بڑھےگا۔۔بھارت کے امریکاکیساتھ تعلقات… pic.twitter.com/z6ajamNeMP
— PTV News (@PTVNewsOfficial) June 18, 2026
پاک بھارت تعلقات اور امریکہ
رپورٹ کے مطابق موجودہ تناظر میں امریکہ اور بھارت کے باہمی تعلقات میں واضح سرد مہری دیکھی جا رہی ہے۔ اس سرد مہری کی ایک بڑی وجہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے بھارت پر عائد کیے جانے والے بھاری تجارتی محصولات بھی ہیں۔ تجارتی محاذ پر بڑھتے ہوئے اس تناؤ نے دونوں ممالک کے دفاعی اور اسٹریٹجک اشتراک پر بھی گہرے اثرات مرتب کیے ہیں۔
بھارتی سکیورٹی
دفاعی ماہرین کا اس صورتحال کا تفصیلی تجزیہ کرتے ہوئے کہنا ہے کہ ان تمام بین الاقوامی تبدیلیوں کے بعد عالمی برادری اب اس حتمی نتیجے پر پہنچ چکی ہے کہ جنگی جنون کا شکار بھارت اب پاکستان پر کسی قسم کا سیکیورٹی یا سفارتی دباؤ ڈالنے کی پوزیشن میں نہیں رہا۔
پینٹاگون کی جانب سے انڈو پیسیفک کمانڈ کے نام کی تبدیلی نے نئی دہلی کے ان اسٹریٹجک دعوؤں کی قلعی کھول دی ہے جن کے تحت وہ خود کو خطے کا ناگزیر کھلاڑی قرار دیتا تھا۔
ماہرین کے مطابق واشنگٹن کا یہ جھٹکا ظاہر کرتا ہے کہ بھارت کی یک طرفہ اور جارحانہ پالیسیوں کو اب عالمی سطح پر وہ پزیرائی حاصل نہیں رہی جو ماضی میں حاصل تھی۔
خود مختار پاکستانی پالیسی
ماہرین نے مزید اصرار کیا ہے کہ عالمی طاقتوں کے بدلتے ہوئے رویوں اور واشنگٹن۔نئی دہلی سرد مہری کے بعد یہ بات واضح ہو چکی ہے کہ بھارت اب پاکستان کو اپنی خواہشات اور شرائط کے مطابق فیصلے کرنے پر مجبور نہیں کر سکتا۔
پاکستان کا مضبوط دفاعی نظام، سی پیک کی صورت میں مضبوط معاشی شراکت داری اور شنگھائی تعاون تنظیم سمیت اہم عالمی فورمز پر متحرک کردار نے بھارت کے سفارتی تنہائی کے منصوبوں کو ناکام بنا دیا ہے۔
ماہرین کے مطابق اب عالمی برادری نئی دہلی کی علاقائی بالادستی کی خواہشات کے بجائے ایک متوازن اور حقیقت پسندانہ جیو پولیٹیکل اپروچ کو ترجیح دے رہی ہے، جس میں پاکستان کو نظرانداز کرنا ممکن نہیں۔