امریکہ اور ایران کے درمیان جاری امن مذاکرات میں مثبت پیش رفت اور روڈ میپ پر اتفاق کی خبروں کے بعد عالمی معیشت پر مثبت اثرات مرتب ہونا شروع ہو گئے ہیں۔ عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں نمایاں کمی دیکھی گئی ہے، جبکہ دنیا بھر کی بیشتر اسٹاک مارکیٹوں میں مندی کا رجحان ختم ہو کر تیزی ریکارڈ کی گئی ہے۔
بین الاقوامی خبر رساں ادارے اے ایف پی کے مطابق سرمایہ کاروں نے امریکا اور ایران کے درمیان ہونے والی پیش رفت کو مشرقِ وسطیٰ میں طویل کشیدگی کے خاتمے کی امید کے طور پر دیکھا ہے۔ اس مثبت سفارتی ماحول کے باعث تیل کی عالمی قیمتوں پر دباؤ کم ہوا اور کاروباری برادری کے اعتماد میں واضح بہتری آئی۔
خام تیل کی قیمتوں میں کمی
رپورٹس کے مطابق، عالمی منڈی میں خام تیل کے دونوں بڑے بینچ مارک کنٹریکٹس کی قیمتوں میں ابتدائی کاروبار کے دوران ہی گراوٹ دیکھی گئی۔ عالمی معیار مانے جانے والے برینٹ خام تیل کی فی بیرل قیمت میں 1 ڈالر سے زائد کی کمی ریکارڈ کی گئی، جس کے بعد برینٹ خام تیل کی قیمت 79.44 ڈالر فی بیرل کی سطح پر آگئی ہے۔
دوسری جانب ایشیا، یورپ اور دیگر خطوں کی بیشتر اسٹاک مارکیٹوں میں سرمایہ کاروں کی جانب سے نئی سرمایہ کاری کے باعث انڈیکسز میں اضافہ دیکھا گیا۔
معاشی ماہرین کا تجزیہ
معاشی ماہرین اور توانائی کے امور کے تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اگر امریکا اور ایران کے درمیان آئندہ 60 روز میں مستقل امن معاہدہ طے پا جاتا ہے، تو اس سے عالمی توانائی منڈی کو طویل مدتی استحکام ملے گا۔ ایران پر سے پابندیاں ہٹنے کی صورت میں مارکیٹ میں تیل کی رسد میں نمایاں بہتری آئے گی، جس سے عالمی معیشت پر موجود مہنگائی اور دباؤ کے اثرات کم ہوں گے۔
تجزیہ کاروں نے مزید کہا کہ آنے والے دنوں میں برگن اسٹاک میں جاری تکنیکی مذاکرات کے نتائج نہ صرف تیل کی قیمتوں کو متاثر کریں گے بلکہ عالمی اسٹاک مارکیٹوں، توانائی کے شعبے اور مشرقِ وسطیٰ کی مجموعی جیوپولیٹیکل صورتِ حال پر بھی گہرے اور نمایاں اثرات مرتب کریں گے۔