کرم سیکٹر میں پاک افغان سرحد پر فائرنگ کا تبادلہ ہوا۔ پاکستانی فورسز نے مختلف چوکیوں سے جوابی کارروائی کی۔

September 22, 2026

آپریشن شعبان 2 کے تحت بلوچستان کے ساران تنگی میں سکیورٹی فورسز کی کارروائی، 6 دہشتگرد ہلاک اور 9 مشتبہ افراد گرفتار ہوگئے۔

September 22, 2026

خیبر پختونخوا میں آئینی مشینری کی ناکامی، امن و امان کے بگاڑ اور سرکاری وسائل کے ضیاع پر وفاقی حکومت آئین کے آرٹیکل 234 کے تحت انتظامی کنٹرول سنبھال سکتی ہے۔

September 22, 2026

خیبر پختونخوا میں بدامنی اور شہداء کے جنازوں سے صوبائی قیادت کی لاتعلقی پر سوالات اٹھ گئے۔

September 22, 2026

بنوں کے شہریوں نے خطے کو الگ صوبہ بنانے اور بنوں کو ہی صدر مقام کا درجہ دینے کا مطالبہ کیا ہے۔

September 22, 2026

خیبر پختونخوا میں پی ٹی آئی رہنماؤں اور اراکین اسمبلی پر احتجاج میں عوامی لاتعلقی کے بعد خود ساختہ گمشدگی اور اغوا کے ڈرامے رچانے کے الزامات عائد کیے گئے ہیں۔

September 22, 2026

طالبان دور میں میڈیا پر بڑھتا دباؤ، 677 افغان صحافی جلاوطنی پر مجبور

طالبان کے اقتدار میں آنے کے بعد سے اب تک 677 افغان صحافی ملک چھوڑ کر مختلف ممالک میں پناہ لینے پر مجبور ہو چکے ہیں، جبکہ متعدد صحافی اب بھی حراست میں ہیں۔
آر ایس ایف کے مطابق طالبان حکومت کی پابندیوں اور دباؤ کے باعث 677 افغان صحافی جلاوطن ہو چکے ہیں جبکہ کئی صحافی اب بھی حراست میں ہیں۔

آر ایس ایف کے مطابق طالبان حکومت کی پابندیوں اور دباؤ کے باعث 677 افغان صحافی جلاوطن ہو چکے ہیں جبکہ کئی صحافی اب بھی حراست میں ہیں۔

June 22, 2026

کابل: افغانستان میں طالبان کے دوبارہ اقتدار سنبھالنے کے بعد سے آزادیِ صحافت کو شدید خطرات اور چیلنجز کا سامنا ہے، جس کے باعث ملک سے وابستہ صحافیوں کی جلاوطنی میں تشویشناک حد تک اضافہ ریکارڈ کیا گیا ہے۔ عالمی سطح پر میڈیا کی آزادی کے لیے کام کرنے والی تنظیم رپورٹرز ود آؤٹ بارڈرز نے افغان صحافت کی ابتر صورتِ حال پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔

آر ایس ایف کی جانب سے جاری کردہ تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق سال 2021 میں طالبان کے برسرِاقتدار آنے کے بعد سے اب تک کم و بیش 677 افغان صحافی دنیا کے 28 مختلف ممالک میں پناہ لینے پر مجبور ہو چکے ہیں۔

اعداد و شمار

تنظیم کی رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ طالبان انتظامیہ کے بڑھتے ہوئے دباؤ، سخت سنسرشپ اور ممکنہ جانی خطرات کے باعث صرف سال 2022 کے دوران 183 صحافیوں نے افغانستان سے ہجرت کی۔ اسی طرح سال 2025 میں بھی یہ سلسلہ جاری رہا اور مزید 82 صحافی ملک چھوڑنے پر مجبور ہوئے۔

آر ایس ایف کا مؤقف ہے کہ موجودہ کٹھن حالات میں افغان صحافیوں کے پاس یا تو پیشہ ورانہ صحافت ترک کرنے کا راستہ بچا ہے، یا پھر وہ جلاوطنی اور قید و بند کی صعوبتیں جھیل رہے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق، اس وقت بھی کم از کم پانچ صحافی طالبان کی حراست میں موجود ہیں۔

شدید تشویش

رپورٹرز ود آؤٹ بارڈرز کی جنوبی ایشیا ڈیسک کی سربراہ سیلیا مرسیئر نے صورتِ حال کی سنگینی پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ افغانستان کا مقامی میڈیا اس وقت منظم جبر، کڑی پابندیوں اور حکام کے بڑھتے ہوئے کنٹرول کی لپیٹ میں ہے۔ آزادانہ رپورٹنگ کے تمام راستے مسدود کیے جا چکے ہیں۔

صرف یہی نہیں، بلکہ معروضی حالات پر نظر رکھنے والے آزاد مبصرین کا بھی کہنا ہے کہ موجودہ افغان معاشرے میں حقائق اور سچائی بیان کرنے کی قیمت انتہائی بھاری ہو چکی ہے۔ صحافیوں کو اپنے فرائض کی ادائیگی کے بدلے خاموشی اختیار کرنی پڑتی ہے، یا پھر قید اور جلاوطنی کا عذاب سہنا پڑتا ہے، جو خطے میں آزاد صحافت کے مستقبل کے لیے ایک بڑا المیہ ہے۔



دیکھیے: امریکہ ایران مذاکرات: 60 روز میں حتمی امن معاہدے پر اتفاق، پاکستان کی ثالثی رنگ لے آئی

متعلقہ مضامین

کرم سیکٹر میں پاک افغان سرحد پر فائرنگ کا تبادلہ ہوا۔ پاکستانی فورسز نے مختلف چوکیوں سے جوابی کارروائی کی۔

September 22, 2026

آپریشن شعبان 2 کے تحت بلوچستان کے ساران تنگی میں سکیورٹی فورسز کی کارروائی، 6 دہشتگرد ہلاک اور 9 مشتبہ افراد گرفتار ہوگئے۔

September 22, 2026

خیبر پختونخوا میں آئینی مشینری کی ناکامی، امن و امان کے بگاڑ اور سرکاری وسائل کے ضیاع پر وفاقی حکومت آئین کے آرٹیکل 234 کے تحت انتظامی کنٹرول سنبھال سکتی ہے۔

September 22, 2026

خیبر پختونخوا میں بدامنی اور شہداء کے جنازوں سے صوبائی قیادت کی لاتعلقی پر سوالات اٹھ گئے۔

September 22, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *