"> کنڑ میں طالبان کی مبینہ پراپیگنڈا مہم؛ شہریوں کو اغوا کر کے جھوٹے بیانات دلوانے کا انکشاف - HTN Urdu
مولانا فضل الرحمان کی سیاست، مذہب کا سیاسی استعمال

اصولوں کی سیاست یا مفادات کا کھیل

مذہب، عسکری پالیسی اور جمہوریت کو اقتدار کی سیڑھی بنانے والے مولانا فضل الرحمان کی سیاست میں دوہرے معیار، سیاسی یوٹرنز اور مفاد پرستی کے تضادات نمایاں ہیں۔

کنڑ میں طالبان کی مبینہ پراپیگنڈا مہم؛ شہریوں کو اغوا کر کے جھوٹے بیانات دلوانے کا انکشاف

افغانستان کے صوبہ کنڑ میں مقامی باشندوں نے طالبان پر شہریوں کو اغوا کر کے زبردستی پروپیگنڈا ویڈیوز میں شامل کرنے کا الزام عائد کیا ہے۔
افغانستان کے صوبے کنڑ میں مقامی باشندوں نے طالبان فورسز پر معصوم شہریوں کو اغوا کرنے اور انہیں زبردستی اپنی پراپیگنڈا ویڈیوز میں فضائی حملوں کے متاثرین کے طور پر پیش کرنے کا سنگین الزام عائد کیا ہے۔

افغان صوبے کنڑ میں طالبان کی جانب سے شہریوں کے اغوا اور انہیں جبری میڈیا مہم کے لیے استعمال کرنے کے الزامات سامنے آئے ہیں، جس پر مقامی آبادی میں شدید خوف و ہراس پھیل گیا ہے۔

June 29, 2026

کابل: افغانستان کے مشرقی صوبے کنڑ سے سنگین الزامات سامنے آئے ہیں، جہاں مقامی شہریوں نے دعویٰ کیا ہے کہ طالبان فورسز نے عام شہریوں کو اغوا کرنے کے بعد انہیں مبینہ طور پر تنازعات سے وابستہ من گھڑت بیانیے اور پراپیگنڈا ویڈیوز کے لیے استعمال کیا ہے۔

افغان میڈیا ذرائع کے مطابق صوبہ کنڑ کے متعدد دیہات، بشمول شاہ رخ پٹرو کے رہائشیوں نے تصدیق کی ہے کہ طالبان فورسز نے عام شہریوں کو ان کے گھروں سے حراست میں لیا۔

عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ اغوا کیے گئے افراد کو شدید دباؤ اور بدسلوکی کا نشانہ بنایا گیا، اور انہیں زبردستی ایسی ویڈیوز میں شامل ہونے پر مجبور کیا گیا جن میں انہیں فضائی حملوں کے متاثرین کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔ ان ویڈیوز کا بنیادی مقصد طالبان کی میڈیا مہم کو تقویت دینا تھا۔

ان واقعات نے مقامی برادریوں میں شدید تشویش پیدا کر دی ہے، اور عوام کی جانب سے مسلح افواج کے اس عمل کو انفارمیشن وارفیئر (اطلاعاتی جنگ) اور عام شہریوں کے استحصال سے تعبیر کیا جا رہا ہے۔

مقامی باشندوں کا کہنا ہے کہ ان کے پیاروں کی گمشدگی اور اغوا کے بعد سے خاندان گہرے خوف اور غیر یقینی صورتحال کا شکار ہیں، کیونکہ حراست میں لیے گئے افراد کے ٹھکانے یا حالت کے بارے میں کوئی واضح معلومات فراہم نہیں کی جا رہیں۔

علاقائی رہنماؤں اور برادری کے ارکان نے اس صورتحال پر شفافیت اور جوابدہی کا مطالبہ کرتے ہوئے متعلقہ حکام اور انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیموں سے اپیل کی ہے کہ وہ ان سنگین الزامات کی فوری تحقیقات کریں اور متاثرہ سکیورٹی صورتحال میں عام شہریوں کے تحفظ کو یقینی بنائیں۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ رپورٹس جنگ زدہ علاقوں میں سویلین آبادی کی کمزوری، ان پر دباؤ، اور مسلح عناصر کی جانب سے ان کے سیاسی استعمال کے بڑھتے ہوئے خطرات کی عکاسی کرتی ہیں۔

دیکھیے: غیر قانونی افغان شہریوں کی 11 جولائی سے گرفتاری کا حکم؛ نوٹیفکیشن جاری

متعلقہ مضامین

وادی تیراہ میں 4 دہشت گرد ہلاک اور 8 زخمی ہو گئے، جبکہ لکی مروت میں کوہاٹ پولیس لائنز حملے کا ماسٹر مائنڈ زاہد گل مارا گیا۔

October 16, 2026

روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے افغانستان میں دہشت گرد گروہوں کی موجودگی کو خطے کے لیے خطرہ قرار دے کر افغان طالبان کے پاکستان مخالف الزامات کو مسترد کر دیا۔

October 16, 2026

محسن نقوی کا دعویٰ ہے کہ گورنر راج میں حصہ اور گورنر شپ نہ ملنے پر ایک سیاسی جماعت کے سربراہ ناراض ہیں۔ انہوں نے سابق فاٹا کے وسائل اور خیبرپختونخوا کی سکیورٹی صورت حال پر بھی بات کی۔

October 16, 2026

دفاعی تجزیہ کار میجر جنرل ریٹائرڈ طارق رشید کا کہنا ہے کہ افغانستان میں چھوڑے گئے اربوں روپے کے امریکی ہتھیار پاکستان میں دہشت گردی پھیلانے کے لیے استعمال ہو رہے ہیں۔

October 16, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *