کابل: افغانستان کے مشرقی صوبے کنڑ سے سنگین الزامات سامنے آئے ہیں، جہاں مقامی شہریوں نے دعویٰ کیا ہے کہ طالبان فورسز نے عام شہریوں کو اغوا کرنے کے بعد انہیں مبینہ طور پر تنازعات سے وابستہ من گھڑت بیانیے اور پراپیگنڈا ویڈیوز کے لیے استعمال کیا ہے۔
افغان میڈیا ذرائع کے مطابق صوبہ کنڑ کے متعدد دیہات، بشمول شاہ رخ پٹرو کے رہائشیوں نے تصدیق کی ہے کہ طالبان فورسز نے عام شہریوں کو ان کے گھروں سے حراست میں لیا۔
عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ اغوا کیے گئے افراد کو شدید دباؤ اور بدسلوکی کا نشانہ بنایا گیا، اور انہیں زبردستی ایسی ویڈیوز میں شامل ہونے پر مجبور کیا گیا جن میں انہیں فضائی حملوں کے متاثرین کے طور پر پیش کیا گیا ہے۔ ان ویڈیوز کا بنیادی مقصد طالبان کی میڈیا مہم کو تقویت دینا تھا۔
ان واقعات نے مقامی برادریوں میں شدید تشویش پیدا کر دی ہے، اور عوام کی جانب سے مسلح افواج کے اس عمل کو انفارمیشن وارفیئر (اطلاعاتی جنگ) اور عام شہریوں کے استحصال سے تعبیر کیا جا رہا ہے۔
مقامی باشندوں کا کہنا ہے کہ ان کے پیاروں کی گمشدگی اور اغوا کے بعد سے خاندان گہرے خوف اور غیر یقینی صورتحال کا شکار ہیں، کیونکہ حراست میں لیے گئے افراد کے ٹھکانے یا حالت کے بارے میں کوئی واضح معلومات فراہم نہیں کی جا رہیں۔
علاقائی رہنماؤں اور برادری کے ارکان نے اس صورتحال پر شفافیت اور جوابدہی کا مطالبہ کرتے ہوئے متعلقہ حکام اور انسانی حقوق کی بین الاقوامی تنظیموں سے اپیل کی ہے کہ وہ ان سنگین الزامات کی فوری تحقیقات کریں اور متاثرہ سکیورٹی صورتحال میں عام شہریوں کے تحفظ کو یقینی بنائیں۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ رپورٹس جنگ زدہ علاقوں میں سویلین آبادی کی کمزوری، ان پر دباؤ، اور مسلح عناصر کی جانب سے ان کے سیاسی استعمال کے بڑھتے ہوئے خطرات کی عکاسی کرتی ہیں۔
دیکھیے: غیر قانونی افغان شہریوں کی 11 جولائی سے گرفتاری کا حکم؛ نوٹیفکیشن جاری