کابل: افغانستان بھر میں طالبان کی فوجی یونٹس کی جانب سے بھاری اسلحہ، گولہ بارود اور دیگر عسکری سازوسامان کو شہری آبادیوں اور حساس عوامی مقامات پر منتقل کرنے کی اطلاعات سامنے آئی ہیں۔ افغان میڈیا کے نمائندوں کے مطابق طالبان فورسز نے یہ ہتھیار قریبی مساجد، ہسپتالوں اور اسکولوں میں چھپانے کا سلسلہ شروع کر دیا ہے۔
ذرائع کے مطابق طالبان کی اس فوجی نقل و حرکت کا مشاہدہ گزشتہ شب افغانستان کے مختلف علاقوں میں پاکستان کی جانب سے کیے گئے فضائی حملوں کے بعد کیا گیا۔
Taliban military units are relocating weapons and military equipment to civilian sites across Afghanistan.
— Afghan Times (@AfghanTimes7) June 29, 2026
According to correspondents of Afghan Times Taliban forces are shifting weapons, ammunition, and other military assets to nearby mosques, hospitals, and schools.
The… pic.twitter.com/aCdMFcixY4
دونوں پڑوسی ممالک کے درمیان سرحدی کشیدگی میں اچانک ہونے والے اس اضافے نے خطے کی صورتحال کو مزید حساس بنا دیا ہے۔ فضائی حملوں کے فوری بعد طالبان نے اپنی فوجی تنصیبات اور ذخائر کو ممکنہ نشانات سے بچانے کے لیے شہری انفراسٹرکچر کا رخ کیا۔
ان تازہ ترین اطلاعات کے بعد مقامی اور بین الاقوامی سطح پر شدید تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ ماہرین اور انسانی حقوق کے حلقوں نے خبردار کیا ہے کہ سویلین مقامات کو عسکری مقاصد کے لیے استعمال کرنا مسلح تنازعات سے متعلق بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی ہے۔
اس اقدام کے نتیجے میں نہ صرف عام شہریوں کے جان و مال کو شدید خطرات لاحق ہو گئے ہیں بلکہ اسپتالوں، اسکولوں اور عبادت گاہوں جیسے مقدس اور غیر فوجی مقامات کے بھی جنگ کی زد میں آنے کا اندیشہ پیدا ہو گیا ہے۔
دیکھیے: پاکستانی فضائی حملوں پر افغان طالبان کی بوکھلاہٹ؛ زمینی بدلہ لینے کی دھمکی دے دی