اسلام آباد: پاکستان نے کراچی میں ہونے والے حالیہ دہشت گرد حملے میں افغان شہریوں کے ملوث ہونے اور افغان سرزمین کے استعمال پر سخت ترین ایکشن لیتے ہوئے افغان طالبان حکومت سے شدید احتجاج کیا ہے۔
دفتر خارجہ کے ترجمان طاہر اندرابی کے مطابق گزشتہ شب افغان ناظم الامور کو وزارتِ خارجہ طلب کیا گیا، جہاں کراچی دہشت گرد حملے کے حوالے سے انہیں باقاعدہ طور پر سخت احتجاجی مراسلہ (ڈیمارش) تھمایا گیا۔
کابل میں بھی احتجاجی مراسلہ
ترجمان دفتر خارجہ نے میڈیا کے سوالات کا جواب دیتے ہوئے بتایا کہ سفارتی سطح پر اس معاملے کو انتہائی سنجیدگی سے اٹھایا گیا ہے اور اسی نوعیت کا ایک اور احتجاجی مراسلہ کابل میں متعین پاکستان کے سفیر عبید الرحمٰن نظامانی نے بھی افغان وزارتِ خارجہ کے حکام کے سامنے پیش کیا ہے۔
دونوں دارالحکومتوں میں بیک وقت کیے جانے والے اس سفارتی اقدام کا مقصد افغان حکام کو پاکستان کی تشویش اور سیکیورٹی صورتحال کی سنگینی سے آگاہ کرنا ہے۔
🔊PR No.1️⃣5️⃣6️⃣/2️⃣0️⃣2️⃣6️⃣
— Ministry of Foreign Affairs – Pakistan (@ForeignOfficePk) June 29, 2026
Statement by the Spokesperson https://t.co/eI70LICLBM
🔗⬇️ pic.twitter.com/QNdPCZk15B
افغان شہریوں کا ملوث ہونا
وزارتِ خارجہ کے مطابق یہ احتجاجی مراسلے ان ٹھوس شواہد اور حقیقت کی روشنی میں جاری کیے گئے ہیں کہ کراچی حملے کی کڑیاں براہِ راست افغانستان سے جڑتی ہیں۔ حملے کی کارروائی میں افغان شہری ملوث پائے گئے ہیں، جن میں سے سیکیورٹی فورسز نے ایک حملہ آور کو موقع پر ہی زندہ گرفتار بھی کیا ہے۔
ترجمان نے واضح کیا کہ یہ واقعہ ایک بار پھر اس بات کا بین ثبوت ہے کہ افغان سرزمین اور وہاں کے شہری پاکستان کے اندر دہشت گرد حملوں کی منصوبہ بندی، سہولت کاری اور کارروائیوں کے لیے مسلسل استعمال کیے جا رہے ہیں، جو دوطرفہ تعلقات اور خطے کے امن کے لیے انتہائی نقصان دہ ہے۔
دیکھیے: کراچی رینجرز کیمپ حملہ؛ گرفتار افغان خارجی کا افغانستان میں تربیت لینے کا اعتراف