"> کراچی حملے میں افغان شہریوں کے ملوث ہونے پر پاکستان کا کابل سے سخت احتجاج - HTN Urdu
مولانا فضل الرحمان کی سیاست، مذہب کا سیاسی استعمال

اصولوں کی سیاست یا مفادات کا کھیل

مذہب، عسکری پالیسی اور جمہوریت کو اقتدار کی سیڑھی بنانے والے مولانا فضل الرحمان کی سیاست میں دوہرے معیار، سیاسی یوٹرنز اور مفاد پرستی کے تضادات نمایاں ہیں۔

کراچی حملے میں افغان شہریوں کے ملوث ہونے پر پاکستان کا کابل سے سخت احتجاج

پاکستان نے کراچی دہشت گرد حملے میں افغان شہریوں کے ملوث ہونے اور ایک دہشت گرد کی زندہ گرفتاری پر افغان ناظمِ الامور کو طلب کر کے سخت احتجاجی مراسلہ دے دیا ہے۔
پاکستان نے کراچی دہشت گرد حملے میں افغان شہریوں کے ملوث ہونے اور ایک دہشت گرد کی زندہ گرفتاری پر افغان ناظمِ الامور کو طلب کر کے سخت احتجاجی مراسلہ دے دیا ہے۔

ترجمان دفتر خارجہ طاہر اندرابی کے مطابق کراچی حملے میں افغان شہریوں کے ملوث ہونے پر اسلام آباد اور کابل میں افغان طالبان حکومت کو سخت احتجاجی مراسلہ پیش کر دیا گیا ہے۔

June 29, 2026

اسلام آباد: پاکستان نے کراچی میں ہونے والے حالیہ دہشت گرد حملے میں افغان شہریوں کے ملوث ہونے اور افغان سرزمین کے استعمال پر سخت ترین ایکشن لیتے ہوئے افغان طالبان حکومت سے شدید احتجاج کیا ہے۔

دفتر خارجہ کے ترجمان طاہر اندرابی کے مطابق گزشتہ شب افغان ناظم الامور کو وزارتِ خارجہ طلب کیا گیا، جہاں کراچی دہشت گرد حملے کے حوالے سے انہیں باقاعدہ طور پر سخت احتجاجی مراسلہ (ڈیمارش) تھمایا گیا۔

کابل میں بھی احتجاجی مراسلہ

ترجمان دفتر خارجہ نے میڈیا کے سوالات کا جواب دیتے ہوئے بتایا کہ سفارتی سطح پر اس معاملے کو انتہائی سنجیدگی سے اٹھایا گیا ہے اور اسی نوعیت کا ایک اور احتجاجی مراسلہ کابل میں متعین پاکستان کے سفیر عبید الرحمٰن نظامانی نے بھی افغان وزارتِ خارجہ کے حکام کے سامنے پیش کیا ہے۔

دونوں دارالحکومتوں میں بیک وقت کیے جانے والے اس سفارتی اقدام کا مقصد افغان حکام کو پاکستان کی تشویش اور سیکیورٹی صورتحال کی سنگینی سے آگاہ کرنا ہے۔

افغان شہریوں کا ملوث ہونا

وزارتِ خارجہ کے مطابق یہ احتجاجی مراسلے ان ٹھوس شواہد اور حقیقت کی روشنی میں جاری کیے گئے ہیں کہ کراچی حملے کی کڑیاں براہِ راست افغانستان سے جڑتی ہیں۔ حملے کی کارروائی میں افغان شہری ملوث پائے گئے ہیں، جن میں سے سیکیورٹی فورسز نے ایک حملہ آور کو موقع پر ہی زندہ گرفتار بھی کیا ہے۔

ترجمان نے واضح کیا کہ یہ واقعہ ایک بار پھر اس بات کا بین ثبوت ہے کہ افغان سرزمین اور وہاں کے شہری پاکستان کے اندر دہشت گرد حملوں کی منصوبہ بندی، سہولت کاری اور کارروائیوں کے لیے مسلسل استعمال کیے جا رہے ہیں، جو دوطرفہ تعلقات اور خطے کے امن کے لیے انتہائی نقصان دہ ہے۔

دیکھیے: کراچی رینجرز کیمپ حملہ؛ گرفتار افغان خارجی کا افغانستان میں تربیت لینے کا اعتراف

متعلقہ مضامین

وادی تیراہ میں 4 دہشت گرد ہلاک اور 8 زخمی ہو گئے، جبکہ لکی مروت میں کوہاٹ پولیس لائنز حملے کا ماسٹر مائنڈ زاہد گل مارا گیا۔

October 16, 2026

روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے افغانستان میں دہشت گرد گروہوں کی موجودگی کو خطے کے لیے خطرہ قرار دے کر افغان طالبان کے پاکستان مخالف الزامات کو مسترد کر دیا۔

October 16, 2026

محسن نقوی کا دعویٰ ہے کہ گورنر راج میں حصہ اور گورنر شپ نہ ملنے پر ایک سیاسی جماعت کے سربراہ ناراض ہیں۔ انہوں نے سابق فاٹا کے وسائل اور خیبرپختونخوا کی سکیورٹی صورت حال پر بھی بات کی۔

October 16, 2026

دفاعی تجزیہ کار میجر جنرل ریٹائرڈ طارق رشید کا کہنا ہے کہ افغانستان میں چھوڑے گئے اربوں روپے کے امریکی ہتھیار پاکستان میں دہشت گردی پھیلانے کے لیے استعمال ہو رہے ہیں۔

October 16, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *