"> یوناما کی خاموشی اور دوہرے معیار پر شدید تنقید
مولانا فضل الرحمان کی سیاست، مذہب کا سیاسی استعمال

اصولوں کی سیاست یا مفادات کا کھیل

مذہب، عسکری پالیسی اور جمہوریت کو اقتدار کی سیڑھی بنانے والے مولانا فضل الرحمان کی سیاست میں دوہرے معیار، سیاسی یوٹرنز اور مفاد پرستی کے تضادات نمایاں ہیں۔

بنوں حملے میں ملوث افغان دہشت گرد کی تعزیتی تقریب پر یوناما کی خاموشی پر شدید تنقید

بنوں کینٹ حملے میں ملوث افغان دہشت گرد کی افغانستان میں تعزیتی تقریب پر یوناما کی خاموشی نے عالمی ادارے کی غیر جانبداری پر سوالات کھڑے کر دیے ہیں، جبکہ اس کے دوہرے معیار پر بھی تنقید کی جا رہی ہے۔
بنوں حملے میں ملوث افغان دہشت گرد کی تعزیتی تقریب

بنوں کینٹ حملے کے دہشت گرد عثمان اللہ کی افغانستان میں سرِعام تعریف پر یوناما کی خاموشی اور دوہرے معیار پر شدید تنقید کی جا رہی ہے۔

July 3, 2026

پاکستان میں سرحد پار سے ہونے والی دہشت گردی اور افغانستان میں ملوث عناصر کی اعلانیہ پذیرائی پر اقوامِ متحدہ کے امدادی مشن برائے افغانستان (یوناما) کی مجرمانہ خاموشی اور دوہرے معیار کے خلاف شدید تحفظات کا اظہار کیا جا رہا ہے۔

تفصیل کے مطابق 15 جولائی 2024 کو بھارت کی مبینہ سرپرستی میں سرگرم دہشت گردوں نے پاکستان کے شہر بنوں میں واقع بنوں کینٹ پر بزدلانہ حملہ کیا تھا۔ اس حملے میں ملوث اور ہلاک ہونے والے دہشت گردوں میں سے 1 کی شناخت افغان شہری عثمان اللہ کامران کے نام سے ہوئی تھی۔

افغانستان میں تعزیتی اجتماع

عثمان اللہ کی ہلاکت کے بعد 19 جولائی 2024 کو افغانستان کے صوبہ پکتیا کے ضلع جانی خیل کے گاؤں اورگورہ میں اس کے گھر پر باقاعدہ ایک بڑے تعزیتی اجتماع منعقد کرنے کا سرِعام اعلان کیا گیا، جبکہ اس اجتماع کی تشہیر کے لیے عثمان اللہ کے پوسٹرز بھی کھلے عام آویزاں کیے گئے۔

سکیورٹی اور سیاسی تجزیہ کاروں نے سوال اٹھایا ہے کہ سرحد پار دہشت گردی میں ملوث ایک واضح شناخت شدہ دہشت گرد کی افغان سرزمین پر کھلے عام پذیرائی اور تمجید کے اس سنگین واقعے پر یوناما کی مذمت کہاں غائب تھی؟

یوناما کا یکطرفہ بیانیہ

یہ امر انتہائی تشویشناک ہے کہ جب بھی پاکستان اپنی دفاعی خود مختاری کے تحت دہشت گردی کے خلاف کوئی کارروائی کرتا ہے، تو یوناما فوری طور پر متحرک ہو کر افغان طالبان حکومت کے شہری ہلاکتوں پر مبنی یکطرفہ بیانیے کو دہرانا شروع کر دیتا ہے، لیکن جب پاکستان میں معصوم شہریوں اور سکیورٹی فورسز پر حملے کرنے والے دہشت گردوں کی افغانستان میں سرِعام تعزیت اور حوصلہ افزائی کی جاتی ہے، تو عالمی ادارہ مکمل طور پر آنکھیں بند کر لیتا ہے۔

یوناما پر شدید تنقید

ماہرین کے مطابق، دہشت گردی کی کاروائیوں سے منسلک افراد کی اس طرح سرِعام تمجید بھی اسی درجے کی بین الاقوامی توجہ، مذمت اور باریک بینی سے جانچ کی مستحق ہے۔ یوناما کی جانب سے مخصوص واقعات کا انتخاب کر کے انہیں دستاویزی شکل دینا اور دیگر سنگین معاملات پر مجرمانہ خاموشی اختیار کرنا اس کی غیر جانبداری پر اعتماد کو شدید ٹھیس پہنچاتا ہے۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ دہشت گرد عناصر کی پشت پناہی پر یوناما کی یہ انتخابی خاموشی درحقیقت ان کے عزائم کی چشم پوشی اور بالواسطہ تائید کے مترادف ہے، جس کا عالمی برادری کو فوری نوٹس لینا چاہیے۔

دیکھیے: پکتیکا حملہ: جماعت الاحرار اور طالبان کے ارکان کی نمازِ جنازہ میں شرکت، شہری ہلاکتوں کا دعویٰ جھوٹا ثابت

متعلقہ مضامین

وادی تیراہ میں 4 دہشت گرد ہلاک اور 8 زخمی ہو گئے، جبکہ لکی مروت میں کوہاٹ پولیس لائنز حملے کا ماسٹر مائنڈ زاہد گل مارا گیا۔

October 16, 2026

روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے افغانستان میں دہشت گرد گروہوں کی موجودگی کو خطے کے لیے خطرہ قرار دے کر افغان طالبان کے پاکستان مخالف الزامات کو مسترد کر دیا۔

October 16, 2026

محسن نقوی کا دعویٰ ہے کہ گورنر راج میں حصہ اور گورنر شپ نہ ملنے پر ایک سیاسی جماعت کے سربراہ ناراض ہیں۔ انہوں نے سابق فاٹا کے وسائل اور خیبرپختونخوا کی سکیورٹی صورت حال پر بھی بات کی۔

October 16, 2026

دفاعی تجزیہ کار میجر جنرل ریٹائرڈ طارق رشید کا کہنا ہے کہ افغانستان میں چھوڑے گئے اربوں روپے کے امریکی ہتھیار پاکستان میں دہشت گردی پھیلانے کے لیے استعمال ہو رہے ہیں۔

October 16, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *