"> جماعت الاحرار کے سربکف مہمند کی جنازے میں شرکت، ثبوت سامنے آ گئے
مولانا فضل الرحمان کی سیاست، مذہب کا سیاسی استعمال

اصولوں کی سیاست یا مفادات کا کھیل

مذہب، عسکری پالیسی اور جمہوریت کو اقتدار کی سیڑھی بنانے والے مولانا فضل الرحمان کی سیاست میں دوہرے معیار، سیاسی یوٹرنز اور مفاد پرستی کے تضادات نمایاں ہیں۔

پکتیکا حملہ: جماعت الاحرار اور طالبان کے ارکان کی نمازِ جنازہ میں شرکت، شہری ہلاکتوں کا دعویٰ جھوٹا ثابت

پکتیکا میں پاکستانی فضائی حملے کے ہلاک شدگان کی نمازِ جنازہ میں کالعدم جماعت الاحرار کے اہم رہنما سربکف مہمند کی شرکت نے عام شہریوں کی ہلاکت کے دعوؤں کو یکسر باطل ثابت کر دیا ہے۔
جماعت الاحرار کے رہنما کی نمازِ جنازہ میں شرکت سے گٹھ جوڑ بے نقاب

پکتیکا فضائی حملے میں ہلاک ارکان کی نمازِ جنازہ کی تصویر منظرِ عام پر آ گئی، جس میں جماعت الاحرار کے رہنما اور طالبان کی شرکت نے دہشت گردوں کی موجودگی کو ثابت کر دیا ہے۔

July 2, 2026

افغانستان کے علاقے پکتیکا میں پاکستان کی جانب سے کیے گئے حالیہ انٹیلی جنس بیسڈ درست فضائی حملے کے حوالے سے ایسے ٹھوس اور ناقابلِ تردید شواہد منظرِ عام پر آئے ہیں، جنہوں نے اس کارروائی میں صرف عام شہریوں کی ہلاکت کے تمام تر دعوؤں اور پراپیگنڈے کو یکسر مسترد کر دیا ہے۔

حاصل شدہ شواہد اور منظرِ عام پر آنے والی تصویر سے یہ حقیقت روزِ روشن کی طرح عیاں ہو گئی ہے کہ مذکورہ کارروائی میں براہِ راست دہشت گرد تنظیم کے ارکان کو نشانہ بنایا گیا تھا۔

رپورٹ کے مطابق پکتیکا فضائی حملے میں ہلاک ہونے والے افراد کی باقاعدہ نمازِ جنازہ ادا کی گئی، جو دراصل کالعدم دہشت گرد گروپ جماعت الاحرار کے فعال ارکان تھے۔ اس جنازے کی سب سے اہم اور چشم کشا بات یہ تھی کہ اس میں جماعت الاحرار کا مہمند چیپٹر کا سرکردہ خارجی رہنما سربکف مہمند بذاتِ خود شریک تھا، جسے صفوں کے درمیان واضح طور پر دیکھا جا سکتا ہے۔

سربکف مہمند جیسے ہائی پروفائل دہشت گرد کی اس جنازے میں موجودگی ان دعوؤں کو براہِ راست ملیا میٹ کرتی ہے جن میں یہ تاثر دینے کی کوشش کی جا رہی تھی کہ حملے کا شکار ہونے والے افراد محض عام مقامی شہری تھے۔

دفاعی ماہرین اور علاقائی امور کے تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ جب طالبان انتظامیہ کے ارکان اور جماعت الاحرار کے اعلیٰ قیادت کے نمائندے ایک ہی صف میں کھڑے ہو کر ان ہلاک شدگان کا جنازہ پڑھ رہے ہیں، تو اب کسی اور ثبوت کی ضرورت باقی نہیں رہتی۔

یہ صورتحال نہ صرف ہلاک ہونے والوں کے خوارجی اور دہشت گردانہ پس منظر کو ثابت کرتی ہے، بلکہ اس امر کی بھی تصدیق کرتی ہے کہ وہاں کی موجودہ افغان حکومت ان خوارجیوں کے ساتھ نہ صرف براہِ راست کھڑی ہے بلکہ انہیں محفوظ پناہ گاہیں اور سرپرستی بھی فراہم کر رہی ہے۔

دیکھیے: افغانستان میں کارروائی پر بھارتی وزارتِ خارجہ کے بیان کو پاکستان نے سختی سے مسترد کر دیا

متعلقہ مضامین

وادی تیراہ میں 4 دہشت گرد ہلاک اور 8 زخمی ہو گئے، جبکہ لکی مروت میں کوہاٹ پولیس لائنز حملے کا ماسٹر مائنڈ زاہد گل مارا گیا۔

October 16, 2026

روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے افغانستان میں دہشت گرد گروہوں کی موجودگی کو خطے کے لیے خطرہ قرار دے کر افغان طالبان کے پاکستان مخالف الزامات کو مسترد کر دیا۔

October 16, 2026

محسن نقوی کا دعویٰ ہے کہ گورنر راج میں حصہ اور گورنر شپ نہ ملنے پر ایک سیاسی جماعت کے سربراہ ناراض ہیں۔ انہوں نے سابق فاٹا کے وسائل اور خیبرپختونخوا کی سکیورٹی صورت حال پر بھی بات کی۔

October 16, 2026

دفاعی تجزیہ کار میجر جنرل ریٹائرڈ طارق رشید کا کہنا ہے کہ افغانستان میں چھوڑے گئے اربوں روپے کے امریکی ہتھیار پاکستان میں دہشت گردی پھیلانے کے لیے استعمال ہو رہے ہیں۔

October 16, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *