افغانستان کے علاقے پکتیکا میں پاکستان کی جانب سے کیے گئے حالیہ انٹیلی جنس بیسڈ درست فضائی حملے کے حوالے سے ایسے ٹھوس اور ناقابلِ تردید شواہد منظرِ عام پر آئے ہیں، جنہوں نے اس کارروائی میں صرف عام شہریوں کی ہلاکت کے تمام تر دعوؤں اور پراپیگنڈے کو یکسر مسترد کر دیا ہے۔
حاصل شدہ شواہد اور منظرِ عام پر آنے والی تصویر سے یہ حقیقت روزِ روشن کی طرح عیاں ہو گئی ہے کہ مذکورہ کارروائی میں براہِ راست دہشت گرد تنظیم کے ارکان کو نشانہ بنایا گیا تھا۔
رپورٹ کے مطابق پکتیکا فضائی حملے میں ہلاک ہونے والے افراد کی باقاعدہ نمازِ جنازہ ادا کی گئی، جو دراصل کالعدم دہشت گرد گروپ جماعت الاحرار کے فعال ارکان تھے۔ اس جنازے کی سب سے اہم اور چشم کشا بات یہ تھی کہ اس میں جماعت الاحرار کا مہمند چیپٹر کا سرکردہ خارجی رہنما سربکف مہمند بذاتِ خود شریک تھا، جسے صفوں کے درمیان واضح طور پر دیکھا جا سکتا ہے۔
سربکف مہمند جیسے ہائی پروفائل دہشت گرد کی اس جنازے میں موجودگی ان دعوؤں کو براہِ راست ملیا میٹ کرتی ہے جن میں یہ تاثر دینے کی کوشش کی جا رہی تھی کہ حملے کا شکار ہونے والے افراد محض عام مقامی شہری تھے۔
دفاعی ماہرین اور علاقائی امور کے تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ جب طالبان انتظامیہ کے ارکان اور جماعت الاحرار کے اعلیٰ قیادت کے نمائندے ایک ہی صف میں کھڑے ہو کر ان ہلاک شدگان کا جنازہ پڑھ رہے ہیں، تو اب کسی اور ثبوت کی ضرورت باقی نہیں رہتی۔
یہ صورتحال نہ صرف ہلاک ہونے والوں کے خوارجی اور دہشت گردانہ پس منظر کو ثابت کرتی ہے، بلکہ اس امر کی بھی تصدیق کرتی ہے کہ وہاں کی موجودہ افغان حکومت ان خوارجیوں کے ساتھ نہ صرف براہِ راست کھڑی ہے بلکہ انہیں محفوظ پناہ گاہیں اور سرپرستی بھی فراہم کر رہی ہے۔
دیکھیے: افغانستان میں کارروائی پر بھارتی وزارتِ خارجہ کے بیان کو پاکستان نے سختی سے مسترد کر دیا