پاکستان میں سرحد پار سے ہونے والی دہشت گردی اور افغانستان میں ملوث عناصر کی اعلانیہ پذیرائی پر اقوامِ متحدہ کے امدادی مشن برائے افغانستان (یوناما) کی مجرمانہ خاموشی اور دوہرے معیار کے خلاف شدید تحفظات کا اظہار کیا جا رہا ہے۔
تفصیل کے مطابق 15 جولائی 2024 کو بھارت کی مبینہ سرپرستی میں سرگرم دہشت گردوں نے پاکستان کے شہر بنوں میں واقع بنوں کینٹ پر بزدلانہ حملہ کیا تھا۔ اس حملے میں ملوث اور ہلاک ہونے والے دہشت گردوں میں سے 1 کی شناخت افغان شہری عثمان اللہ کامران کے نام سے ہوئی تھی۔
افغانستان میں تعزیتی اجتماع
عثمان اللہ کی ہلاکت کے بعد 19 جولائی 2024 کو افغانستان کے صوبہ پکتیا کے ضلع جانی خیل کے گاؤں اورگورہ میں اس کے گھر پر باقاعدہ ایک بڑے تعزیتی اجتماع منعقد کرنے کا سرِعام اعلان کیا گیا، جبکہ اس اجتماع کی تشہیر کے لیے عثمان اللہ کے پوسٹرز بھی کھلے عام آویزاں کیے گئے۔
سکیورٹی اور سیاسی تجزیہ کاروں نے سوال اٹھایا ہے کہ سرحد پار دہشت گردی میں ملوث ایک واضح شناخت شدہ دہشت گرد کی افغان سرزمین پر کھلے عام پذیرائی اور تمجید کے اس سنگین واقعے پر یوناما کی مذمت کہاں غائب تھی؟
یوناما کا یکطرفہ بیانیہ
یہ امر انتہائی تشویشناک ہے کہ جب بھی پاکستان اپنی دفاعی خود مختاری کے تحت دہشت گردی کے خلاف کوئی کارروائی کرتا ہے، تو یوناما فوری طور پر متحرک ہو کر افغان طالبان حکومت کے شہری ہلاکتوں پر مبنی یکطرفہ بیانیے کو دہرانا شروع کر دیتا ہے، لیکن جب پاکستان میں معصوم شہریوں اور سکیورٹی فورسز پر حملے کرنے والے دہشت گردوں کی افغانستان میں سرِعام تعزیت اور حوصلہ افزائی کی جاتی ہے، تو عالمی ادارہ مکمل طور پر آنکھیں بند کر لیتا ہے۔
یوناما پر شدید تنقید
ماہرین کے مطابق، دہشت گردی کی کاروائیوں سے منسلک افراد کی اس طرح سرِعام تمجید بھی اسی درجے کی بین الاقوامی توجہ، مذمت اور باریک بینی سے جانچ کی مستحق ہے۔ یوناما کی جانب سے مخصوص واقعات کا انتخاب کر کے انہیں دستاویزی شکل دینا اور دیگر سنگین معاملات پر مجرمانہ خاموشی اختیار کرنا اس کی غیر جانبداری پر اعتماد کو شدید ٹھیس پہنچاتا ہے۔
تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ دہشت گرد عناصر کی پشت پناہی پر یوناما کی یہ انتخابی خاموشی درحقیقت ان کے عزائم کی چشم پوشی اور بالواسطہ تائید کے مترادف ہے، جس کا عالمی برادری کو فوری نوٹس لینا چاہیے۔