ساٹھ برس سے زائد عرصے تک دو خودمختار ریاستوں کے درمیان سرحد پار آبی وسائل کی تقسیم کا پائیدار ترین ذریعہ رہنے والا سندھ طاس معاہدہ اس وقت ایک تزویراتی دوراہے پر پہنچ چکا ہے۔ چیرمین واٹر اینڈ پاور ڈویلپمنٹ اتھارٹی (واپڈا) لیفٹیننٹ جنرل (ریٹائرڈ) محمد سعید نے اپنے ایک خصوصی تجزیے میں انتباہ جاری کیا ہے کہ مئی 2025 میں بھارت کی جانب سے معاہدے کو یکطرفہ طور پر معطل کرنے کا اقدام بین الاقوامی قوانین کی صریح خلاف ورزی ہے، جس کے پاکستان کے لیے انتہائی سنگین تزویراتی اور معاشی نتائج برآمد ہو رہے ہیں۔
قوانین کی خلاف ورزی
رپورٹ کے مطابق جنیوا میں اقوام متحدہ کے زیرِ اہتمام منعقدہ حالیہ واٹر کنونشن میں جہاں دنیا بھر کے ممالک پر مشترکہ دریائی طاسوں کے شفاف انتظام کے لیے ایک پانی، ایک وژن کے اصول پر زور دیا گیا، وہیں بھارت اس کے بالکل برعکس سمت میں گامزن ہے۔
مئی 2025 کے بعد سے نئی دہلی نے نہ صرف مغربی دریاؤں پر بالائی علاقوں میں بنیادی ڈھانچے کی تعمیر تیز کر دی ہے، بلکہ رنبیر کینال کی توسیع اور چناب۔بیاس لنک ٹنل جیسے منصوبوں پر تیز رفتار عمل درآمد کے لیے بولیاں بھی طلب کر لی ہیں، جو پاکستان کے طویل المدتی آبی تحفظ کے لیے براہِ راست خطرہ ہیں۔
ملکی زراعت پر منفی اثرات
چیرمین واپڈا کا کہنا ہے کہ پاکستان کا پورا آبپاشی نظام، جو ساڑھے تین کروڑ ایکڑ اراضی کو سیراب کرتا ہے اور ملک کی 90 فیصد سے زائد غذائی پیداوار کا ضامن ہے، وہ بالائی علاقوں سے آنے والے پانی کے یقینی اور قابلِ پیش گوئی تسلسل پر منحصر ہے۔ ب
ھارت نے معاہدے کے برعکس ہائیڈرولوجیکل معلومات کی فراہمی بند کر دی ہے، جس کے باعث 2025 کے سیلابی موسم میں پاکستان کا پیش گوئی کا نظام شدید متاثر ہوا اور انسانی جانوں سمیت اہم انفراسٹرکچر کو نقصان پہنچا۔ یہ اقدامات پائیدار ترقی کے عالمی اہداف خصوصاً 6.5 کی بھی خلاف ورزی ہیں۔
دریائے چناب کی اہمیت
تبصرے میں واضح کیا گیا ہے کہ پاکستان کے تحفظات محض کسی ایک ڈیم یا سالانہ ملنے والے پانی کے حجم تک محدود نہیں، بلکہ اصل خطرہ متعدد بالائی منصوبوں کی مجموعی صلاحیت ہے جو مستقبل میں پاکستان آنے والے پانی کے کنٹرول کو بھارت کے ہاتھ میں دے دے گی۔
جغرافیائی ساخت کے لحاظ سے دریائے چناب اس تنازع میں غیر معمولی اہمیت کا حامل ہے، کیونکہ مرالہ کے مقام پر سالانہ اوسطاً 2 کروڑ 50 لاکھ ایکڑ فٹ پانی لانے والا یہ دریا پاکستان کے سب سے زیادہ زرعی پیداوار دینے والے خطوں کو سیراب کرتا ہے۔
چونکہ اس دریا کا پورا کیچمنٹ ایریا بھارت کے زیرِ انتظام علاقے میں ہے، اس لیے بالائی کنٹرول میں تبدیلی پورے سندھ طاس آبپاشی نظام کو مفلوج کر سکتی ہے۔ یہ صورتحال اب محض آبی انتظام کا مسئلہ نہیں بلکہ پاکستان کی قومی بقا کا معاملہ بن چکی ہے، جس کے لیے قانونی، سفارتی اور انتظامی سطح پر مضبوط اور مربوط حکمتِ عملی کی ضرورت ہے۔