لاہور کونسل آف کمپلینٹس نے جیو ٹی وی نشریات بحالی کیس میں مذہبی علامات کے استعمال کا معاملہ شرعی رائے کے لیے اسلامی نظریاتی کونسل کو بھجوا دیا ہے۔

July 6, 2026

چیرمین واپڈا نے خبردار کیا ہے کہ بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدہ کی یکطرفہ معطلی اور مغربی دریاؤں پر تعمیراتی سرگرمیاں پاکستان کے آبی، غذائی اور معاشی تحفظ کے لیے سنگین تزویراتی خطرہ ہیں۔

July 6, 2026

خوست میں طالبان کمانڈروں کی جانب سے خواتین کی مبینہ بے حرمتی اور فوجی عدالت کی طرف سے متاثرہ خاندان کو دھمکیوں نے افغان نظامِ انصاف کو بے نقاب کر دیا ہے۔

July 5, 2026

ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کی نمازِ جنازہ میں پاکستانی وفد کی شرکت کو ماہرین نے اسلام آباد کی متوازن خارجہ پالیسی اور علاقائی استحکام کی کوششوں کا تسلسل قرار دیا ہے۔

July 4, 2026

افغانستان میں طالبان کی پابندیوں کے بعد لڑکیوں کے لیے آن لائن تعلیم ہی واحد راستہ تھی، مگر غربت اور انٹرنیٹ کی کمی بڑی رکاوٹ بن گئی ہیں۔

July 3, 2026

بلوچستان کے ضلع ژوب میں کوئٹہ سے پشاور جانے والی مسافر بس گہری کھائی میں گرنے سے 40 مسافر جاں بحق ہو گئے۔

July 3, 2026

بھارتی آبی منصوبے پاکستان کی بقا کے لیے سنگین خطرہ ہیں: چیئرمین واپڈا

چیرمین واپڈا نے خبردار کیا ہے کہ بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدہ کی یکطرفہ معطلی اور مغربی دریاؤں پر تعمیراتی سرگرمیاں پاکستان کے آبی، غذائی اور معاشی تحفظ کے لیے سنگین تزویراتی خطرہ ہیں۔
چیرمین واپڈا نے خبردار کیا ہے کہ بھارت کی جانب سے سندھ طاس معاہدہ کی یکطرفہ معطلی اور مغربی دریاؤں پر تعمیراتی سرگرمیاں پاکستان کے آبی، غذائی اور معاشی تحفظ کے لیے سنگین تزویراتی خطرہ ہیں۔

سندھ طاس معاہدہ کی معطلی اور دریائے چناب پر بھارتی منصوبے پاکستان کے آبپاشی نظام اور قومی بقا کے لیے بڑا چیلنج بن چکے ہیں

July 6, 2026

ساٹھ برس سے زائد عرصے تک دو خودمختار ریاستوں کے درمیان سرحد پار آبی وسائل کی تقسیم کا پائیدار ترین ذریعہ رہنے والا سندھ طاس معاہدہ اس وقت ایک تزویراتی دوراہے پر پہنچ چکا ہے۔ چیرمین واٹر اینڈ پاور ڈویلپمنٹ اتھارٹی (واپڈا) لیفٹیننٹ جنرل (ریٹائرڈ) محمد سعید نے اپنے ایک خصوصی تجزیے میں انتباہ جاری کیا ہے کہ مئی 2025 میں بھارت کی جانب سے معاہدے کو یکطرفہ طور پر معطل کرنے کا اقدام بین الاقوامی قوانین کی صریح خلاف ورزی ہے، جس کے پاکستان کے لیے انتہائی سنگین تزویراتی اور معاشی نتائج برآمد ہو رہے ہیں۔

قوانین کی خلاف ورزی

رپورٹ کے مطابق جنیوا میں اقوام متحدہ کے زیرِ اہتمام منعقدہ حالیہ واٹر کنونشن میں جہاں دنیا بھر کے ممالک پر مشترکہ دریائی طاسوں کے شفاف انتظام کے لیے ایک پانی، ایک وژن کے اصول پر زور دیا گیا، وہیں بھارت اس کے بالکل برعکس سمت میں گامزن ہے۔

مئی 2025 کے بعد سے نئی دہلی نے نہ صرف مغربی دریاؤں پر بالائی علاقوں میں بنیادی ڈھانچے کی تعمیر تیز کر دی ہے، بلکہ رنبیر کینال کی توسیع اور چناب۔بیاس لنک ٹنل جیسے منصوبوں پر تیز رفتار عمل درآمد کے لیے بولیاں بھی طلب کر لی ہیں، جو پاکستان کے طویل المدتی آبی تحفظ کے لیے براہِ راست خطرہ ہیں۔

ملکی زراعت پر منفی اثرات

چیرمین واپڈا کا کہنا ہے کہ پاکستان کا پورا آبپاشی نظام، جو ساڑھے تین کروڑ ایکڑ اراضی کو سیراب کرتا ہے اور ملک کی 90 فیصد سے زائد غذائی پیداوار کا ضامن ہے، وہ بالائی علاقوں سے آنے والے پانی کے یقینی اور قابلِ پیش گوئی تسلسل پر منحصر ہے۔ ب

ھارت نے معاہدے کے برعکس ہائیڈرولوجیکل معلومات کی فراہمی بند کر دی ہے، جس کے باعث 2025 کے سیلابی موسم میں پاکستان کا پیش گوئی کا نظام شدید متاثر ہوا اور انسانی جانوں سمیت اہم انفراسٹرکچر کو نقصان پہنچا۔ یہ اقدامات پائیدار ترقی کے عالمی اہداف خصوصاً 6.5 کی بھی خلاف ورزی ہیں۔

دریائے چناب کی اہمیت

تبصرے میں واضح کیا گیا ہے کہ پاکستان کے تحفظات محض کسی ایک ڈیم یا سالانہ ملنے والے پانی کے حجم تک محدود نہیں، بلکہ اصل خطرہ متعدد بالائی منصوبوں کی مجموعی صلاحیت ہے جو مستقبل میں پاکستان آنے والے پانی کے کنٹرول کو بھارت کے ہاتھ میں دے دے گی۔

جغرافیائی ساخت کے لحاظ سے دریائے چناب اس تنازع میں غیر معمولی اہمیت کا حامل ہے، کیونکہ مرالہ کے مقام پر سالانہ اوسطاً 2 کروڑ 50 لاکھ ایکڑ فٹ پانی لانے والا یہ دریا پاکستان کے سب سے زیادہ زرعی پیداوار دینے والے خطوں کو سیراب کرتا ہے۔

چونکہ اس دریا کا پورا کیچمنٹ ایریا بھارت کے زیرِ انتظام علاقے میں ہے، اس لیے بالائی کنٹرول میں تبدیلی پورے سندھ طاس آبپاشی نظام کو مفلوج کر سکتی ہے۔ یہ صورتحال اب محض آبی انتظام کا مسئلہ نہیں بلکہ پاکستان کی قومی بقا کا معاملہ بن چکی ہے، جس کے لیے قانونی، سفارتی اور انتظامی سطح پر مضبوط اور مربوط حکمتِ عملی کی ضرورت ہے۔

متعلقہ مضامین

لاہور کونسل آف کمپلینٹس نے جیو ٹی وی نشریات بحالی کیس میں مذہبی علامات کے استعمال کا معاملہ شرعی رائے کے لیے اسلامی نظریاتی کونسل کو بھجوا دیا ہے۔

July 6, 2026

خوست میں طالبان کمانڈروں کی جانب سے خواتین کی مبینہ بے حرمتی اور فوجی عدالت کی طرف سے متاثرہ خاندان کو دھمکیوں نے افغان نظامِ انصاف کو بے نقاب کر دیا ہے۔

July 5, 2026

ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کی نمازِ جنازہ میں پاکستانی وفد کی شرکت کو ماہرین نے اسلام آباد کی متوازن خارجہ پالیسی اور علاقائی استحکام کی کوششوں کا تسلسل قرار دیا ہے۔

July 4, 2026

افغانستان میں طالبان کی پابندیوں کے بعد لڑکیوں کے لیے آن لائن تعلیم ہی واحد راستہ تھی، مگر غربت اور انٹرنیٹ کی کمی بڑی رکاوٹ بن گئی ہیں۔

July 3, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *