ایران کے سپریم لیڈر آیت اللہ خامنہ ای کی نمازِ جنازہ میں پاکستانی وفد کی اعلیٰ سطحی شرکت نے جہاں علاقائی سفارت کاری میں متوازن روابط کی اہمیت کو اجاگر کیا ہے، وہاں بعض حلقوں کی جانب سے اسے جانبدارانہ رنگ دینے کی کوششیں بھی کی جا رہی ہیں۔
تاہم سفارتی ماہرین اور اسٹریٹجک تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ پاکستان کا یہ اقدام کسی فریق کی حمایت یا جانبداری کا ثبوت نہیں، بلکہ خطے میں تناؤ کو کم کرنے، ثالثی کا کردار ادا کرنے اور ذمہ دارانہ ہمسائیگی کی دیرینہ پالیسی کا تسلسل ہے۔ پاکستان اور ایران جغرافیائی، مشترکہ تاریخ اور صدیوں پر محیط تہذیبی و ثقافتی روابط کے ذریعے ایک دوسرے سے جڑے ہوئے ہیں۔ برصغیر پاک و ہند پر فارسی زبان، ادب اور تعمیرات کے گہرے اثرات رہے ہیں، اور اس مشترکہ پس منظر کے باعث قومی سوگ کے اس موقع پر ایرانی عوام کے ساتھ یکجہتی کا اظہار ایک فطری اور منطقی سفارتی عمل ہے۔
مزید برآں، پاکستان میں ایران کے بعد دنیا کی دوسری بڑی شیعہ آبادی مقیم ہے، جن کے لیے آیت اللہ خامنہ ای ایک اہم مذہبی حیثیت کے حامل تھے، جس نے اس شرکت کے سماجی و عوامی پہلو کو مزید تقویت دی ہے۔
سفارتی ذرائع کے مطابق جنازے کی تقریبات میں صرف پاکستان ہی نہیں بلکہ سعودی عرب، قطر اور ترکی سمیت خطے کے دیگر اہم ممالک کی قیادت اور اعلیٰ حکام بھی شریک ہوئے ہیں، جو اس بات کی غمازی کرتا ہے کہ دکھ کی اس گھڑی میں روابط برقرار رکھنا بین الاقوامی سفارت کاری کا بنیادی اصول ہے۔ ماضی میں بھی پاکستان نے ہمیشہ سعودی عرب اور ایران سمیت تمام علاقائی ممالک کے درمیان خلیج کو پاٹنے اور مذاکرات کو فروغ دینے کے لیے تعمیری سفارت کاری کا استعمال کیا ہے۔
اگر ماضی قریب کی علاقائی کشیدگی کے دوران اسلام آباد کی جانب سے دانشمندانہ سفارت کاری کے ذریعے فریقین کو جوابی اقدامات سے باز رکھنے کی کوششیں نہ کی جاتیں، تو خطے کی صورتحال مزید سنگین رخ اختیار کر سکتی تھی۔ پاکستان کا یہ متوازن اور تعمیری رویہ اسے ایک قابلِ اعتماد ثالث کے طور پر قائم رکھتا ہے۔
ایران کے ساتھ مستحکم روابط جہاں سرحدی سلامتی اور علاقائی استحکام کے لیے ناگزیر ہیں، وہاں یہ آبنائے ہرمز جیسے اہم ترین عالمی بحری راستوں کو بحرانوں سے محفوظ رکھنے کی کوششوں کو بھی تقویت دیتے ہیں۔ لہٰذا، پاکستان کی اس اعلیٰ سطحی شرکت کو کسی مخصوص فریق کے ساتھ وابستگی کے طور پر دیکھنا بین الاقوامی تعلقات اور اسلام آباد کی متوازن خارجہ پالیسی کی بنیادی روح کو نظر انداز کرنے کے مترادف ہے۔