بھارتی سوشل میڈیا نے اے آئی کے ذریعے ڈی جی آئی ایس پی آر کی جعلی ویڈیو بنا کر پاکستان کو بدنام کرنے کی ناکام کوشش کی ہے۔

August 21, 2026

مستونگ کے علاقے کھڈکوچہ میں باغ پر دھماکے سے 6 مزدور جاں بحق اور 3 زخمی، علاقے کو گھیرے میں لے لیا گیا۔

August 21, 2026

پاکستان نے غزہ پر اسرائیلی حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے عالمی برادری سے جنگ بندی پر عملدرآمد اور کشیدگی روکنے کے لیے مؤثر دباؤ ڈالنے کا مطالبہ کیا ہے۔

August 21, 2026

شارجہ بندرگاہ کے قریب پاناما کے جہاز پر 8 پاکستانی ملاح 11 ماہ سے عارضی سفری اجازت نامے نہ ملنے کے باعث محصور ہیں، جس سے شدید انسانی بحران جنم لے رہا ہے۔

August 21, 2026

اقوام متحدہ کی رپورٹ کے مطابق طالبان کے دعوؤں کے باوجود افغانستان میں ٹی ٹی پی اور القاعدہ سمیت 20 کے قریب دہشت گرد تنظیمیں سرگرم ہیں۔

August 21, 2026

وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ کے مطابق عمران خان کا طبی معائنہ پمز ہسپتال میں ہوا، صحت مند قرار دیے جانے پر اڈیالہ جیل منتقل، ہمشیرہ عظمیٰ خان بھی ہمراہ رہیں۔

August 21, 2026

خوست میں دو طالبات سے مبینہ جنسی زیادتی، طالبان کمانڈروں پر سنگین الزامات

خوست میں طالبان کمانڈروں کی جانب سے خواتین کی مبینہ بے حرمتی اور فوجی عدالت کی طرف سے متاثرہ خاندان کو دھمکیوں نے افغان نظامِ انصاف کو بے نقاب کر دیا ہے۔
خوست میں طالبان کمانڈروں کی جانب سے خواتین کی مبینہ بے حرمتی اور فوجی عدالت کی طرف سے متاثرہ خاندان کو دھمکیوں نے افغان نظامِ انصاف کو بے نقاب کر دیا ہے۔

خوست میں طالبان کمانڈروں کے سنگین جرم پر فوجی عدالت کی جانب سے متاثرین کو دھمکیاں؛ افغانستان میں احتساب کی عدم موجودگی پر شدید تنقید۔

July 5, 2026

افغانستان کے صوبے خوست سے سامنے آنے والے ایک انتہائی دلخراش واقعے نے طالبان کے نام نہاد عدالتی نظام اور کمانڈروں کو حاصل مبینہ استثنا کو ایک بار پھر بے نقاب کر دیا ہے۔ رپورٹس کے مطابق، خوست کے ضلع دہ مند کے ایک متاثرہ خاندان نے الزام عائد کیا ہے کہ طالبان کے دو بااثر کمانڈروں نے رات کے وقت ان کے گھر پر چھاپے کے دوران دو بیٹیوں کو جنسی زیادتی کا نشانہ بنایا۔

افسوسناک امر یہ ہے کہ جب متاثرہ خاندان نے انصاف کے حصول کے لیے طالبان کی فوجی عدالت سے رجوع کیا، تو انہیں انصاف فراہم کرنے کے بجائے خاموش رہنے اور جان سے مارنے کی دھمکیاں دی گئیں۔ اس واقعے نے یہ واضح کر دیا ہے کہ موجودہ افغان نظام میں آواز اٹھانے والے مظلوموں کو سزا دی جاتی ہے جبکہ بااثر مسلح افراد قانون اور احتساب سے بالاتر ہیں۔

سفارتی اور انسانی حقوق کے ماہرین کا کہنا ہے کہ طالبان کمانڈر اپنے اختیارات کی آڑ میں انسانی اقدار اور اخلاقی اصولوں کی سنگین خلاف ورزیاں کر رہے ہیں۔ موجودہ صورتحال یہ ظاہر کرتی ہے کہ نام نہاد اخلاقی ضوابط صرف بے اختیار اور عام شہریوں پر نافذ ہوتے ہیں، جبکہ مسلح طالبان اہلکار ان سے مکمل مستثنیٰ ہیں۔
ہر وہ کمانڈر جو سنگین جرائم کے بعد بھی تحقیقات سے بچ نکلتا ہے، وہ افغان خواتین کو یہی پیغام دے رہا ہے کہ طالبان کی وردی تحفظ کے بجائے جرائم کو چھپانے کی ایک ڈھال بن چکی ہے۔ درحقیقت، طالبان انتظامیہ کو اپنے کمانڈروں کے جرائم سے زیادہ ان کے بے نقاب ہونے کا خوف ہے، کیونکہ ایسے واقعات ان کے عدالتی دعوؤں کو شدید نقصان پہنچاتے ہیں۔ جو حکومت انصاف مانگنے والوں کو خوف زدہ کرے، وہ حکمرانی کا اخلاقی جواز کھو دیتی ہے اور اس کی عدالتیں انصاف کے بجائے اقتدار کے تحفظ کا ذریعہ بن جاتی ہیں۔

تجزیہ کاروں کے مطابق، طالبان قیادت اپنے ماتحت کمانڈروں کے ان جرائم سے لاتعلقی اختیار نہیں کر سکتی، کیونکہ یہ افراد حکومت کے فراہم کردہ اسلحے، اختیار اور سرپرستی کے بل بوتے پر کارروائیاں کرتے ہیں۔

یہی وجہ ہے کہ ایسی حکومت کو بین الاقوامی سطح پر تسلیم کیے جانے کا کوئی جواز باقی نہیں رہتا، جو بیرونِ ملک قانونی حیثیت کا مطالبہ تو کرے لیکن اپنے ہی شہریوں کو بنیادی انصاف فراہم کرنے سے انکار کر دے۔ افغان خواتین کی موجودہ کسمپرسی کی وجہ اختیار کی کمی نہیں، بلکہ ایک ایسا نظام ہے جس نے تمام طاقت ایسے افراد کو سونپ دی ہے جو خود کو ہر قانون سے بالا سمجھتے ہیں۔

اس سنگین صورتحال پر بین الاقوامی سطح پر بھی شدید تحفظات کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ اسٹریٹجک ماہرین اس کا ذمہ دار دوحہ معاہدے اور زلمے خلیل زاد کی پالیسیوں کو قرار دیتے ہیں، جس کے نتیجے میں افغانستان کو ایک ایسے نظام کے رحم و کرم پر چھوڑ دیا گیا جہاں جبر، خوف اور احتساب سے استثنا حکمرانی کا بنیادی حصہ بن چکے ہیں، اور لاکھوں افغان شہری ایک بے بس زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔

متعلقہ مضامین

بھارتی سوشل میڈیا نے اے آئی کے ذریعے ڈی جی آئی ایس پی آر کی جعلی ویڈیو بنا کر پاکستان کو بدنام کرنے کی ناکام کوشش کی ہے۔

August 21, 2026

مستونگ کے علاقے کھڈکوچہ میں باغ پر دھماکے سے 6 مزدور جاں بحق اور 3 زخمی، علاقے کو گھیرے میں لے لیا گیا۔

August 21, 2026

پاکستان نے غزہ پر اسرائیلی حملوں کی شدید مذمت کرتے ہوئے عالمی برادری سے جنگ بندی پر عملدرآمد اور کشیدگی روکنے کے لیے مؤثر دباؤ ڈالنے کا مطالبہ کیا ہے۔

August 21, 2026

شارجہ بندرگاہ کے قریب پاناما کے جہاز پر 8 پاکستانی ملاح 11 ماہ سے عارضی سفری اجازت نامے نہ ملنے کے باعث محصور ہیں، جس سے شدید انسانی بحران جنم لے رہا ہے۔

August 21, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *