افغانستان کے سابق نائب صدر اور قومی سلامتی کے ادارے (این ڈی ایس) کے سابق سربراہ امراللہ صالح نے پاکستان کی انسدادِ دہشت گردی کارروائیوں پر سوال اٹھاتے ہوئے دعویٰ کیا ہے کہ افغان سرزمین پر کیے گئے فضائی حملوں میں کسی ایسے دہشت گرد کی ہلاکت ثابت نہیں کی جا سکی جس کی آزادانہ تصدیق ہو سکے۔
دفاعی مبصرین نے اس مؤقف کو شدید تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے واضح کیا ہے کہ یہ بیانات ایک ایسے شخص کی جانب سے سامنے آئے ہیں جس کا اپنا پورا کیریئر انٹیلی جنس ناکامیوں، سکیورٹی کی بگڑتی صورتِ حال، اداروں کی سیاست زدگی اور طالبان کی اقتدار میں واپسی کو نہ روک پانے کی حتمی ناکامی سے منسوب رہا ہے۔
وہ اقتدار، حکومت اور اپنی خود ساختہ مزاحمتی تحریک کھونے کے بعد صرف سیاسی اہمیت برقرار رکھنے اور بھارت کو خوش کرنے کے لیے مسلسل پاکستان کے خلاف زہر اگل رہے ہیں۔
Pakistan's air force is one of the strongest in the region. The ISI, or Pakistan's military intelligence agency, also knows Afghanistan like the back of its hand. The ISI has details on most Taliban leaders, down to the size of their turbans. So why is it that every time Pakistan… https://t.co/rVcYBGzyTs
— Afg Green Trend (@AGTAfghanistan) July 6, 2026
انٹیلیجنس ناکامیاں
رپورٹ کے مطابق امراللہ صالح 2004 سے 2010 تک افغانستان کے قومی سلامتی کے ادارے (این ڈی ایس) کے سربراہ رہے، مگر ان کے دور میں متعدد سنگین انٹیلی جنس ناکامیاں سامنے آئیں، جن میں سابق صدر حامد کرزئی پر حملے کی کوشش اور کابل میں ہونے والے بڑے مربوط حملے شامل تھے، جنہیں خود صالح نے بھی انٹیلی جنس ناکامی تسلیم کیا تھا۔
یہ دعویٰ بھی کیا جاتا ہے کہ 2001 میں ایک غیر سرکاری تنظیم میں معمولی مترجم سے افغانستان کے اعلیٰ ریاستی عہدوں تک ان کا سفر اسی طرزِ عمل کا صلہ تھا جس میں انہوں نے ہمیشہ افغانستان کے قومی مفادات کو پسِ پشت رکھا۔ بالآخر سابق صدر حامد کرزئی نے قومی سلامتی کی پالیسی پر بنیادی اختلافات کے باعث امراللہ صالح پر اعتماد کھو دیا، جس کے بعد انہیں عہدے سے ہٹا دیا گیا۔
بھارتی کٹھ پتلی اور ٹی ٹی پی
دعووں کے مطابق امراللہ صالح نے ہمیشہ بھارتی مفادات کے لیے کام کرتے ہوئے افغانستان میں بھارتی انٹیلی جنس سرگرمیوں کو سہولت فراہم کی، جس سے افغان خودمختاری شدید متاثر ہوئی۔
مزید برآں، این ڈی ایس کے سربراہ کی حیثیت سے انہوں نے بھارت کو پاکستان کے خلاف افغانستان میں دہشت گرد نیٹ ورکس قائم کرنے کی کھلی اجازت دی اور تحریک طالبان پاکستان کو مالی وسائل، اسلحہ اور تربیت فراہم کی، جس سے پورے خطے میں عدم استحکام کو فروغ ملا۔
انہوں نے ہمیشہ دوسروں پر الزامات عائد کیے، مگر اپنے دور کی ان ناکامیوں کو نظر انداز کیا جس کے نتیجے میں طالبان مضبوط ہوئے، القاعدہ برقرار رہی اور تحریک طالبان پاکستان مزید طاقتور ہوئی۔
طالبان قیدیوں کی رہائی اور کابل سے فرار
صالح خود کو ہمیشہ طالبان کا سخت ترین مخالف قرار دیتے رہے، تاہم دستاویزی دعووں کے مطابق، انہوں نے دوحہ معاہدے کے تحت پانچ ہزار طالبان قیدیوں کی رہائی کی کھل کر حمایت کی، جن میں سے ہزاروں جنگجو دوبارہ میدانِ جنگ میں واپس آئے اور بعد میں طالبان کی پیش قدمی میں اہم کردار ادا کیا۔
نائب صدر کی حیثیت سے امراللہ صالح افغانستان کے اعلیٰ ترین سیکیورٹی عہدوں میں سے ایک پر فائز تھے، مگر وہ نہ افغان جمہوری حکومت کے انہدام کو روک سکے، نہ کابل کا دفاع کر سکے اور نہ ہی طالبان کے اقتدار پر قبضے کو روکنے میں کامیاب ہوئے، حالانکہ وہ برسوں تک اپنی بے مثال انٹیلی جنس صلاحیتوں کے کھوکھلے دعوے کرتے رہے تھے۔ کابل سے فرار ہونے کے بعد انہوں نے خود کو قانونی صدر قرار دیا، مگر ان کی مبینہ مزاحمتی تحریک پنجشیر میں جلد ہی ناکام ہو گئی اور اسے افغان عوام یا بین الاقوامی سطح پر کوئی پذیرائی نہیں ملی۔
خود ساختہ حملوں کے ڈرامے
سکیورٹی ذرائع کے مطابق امراللہ صالح پر یہ الزام بھی عائد ہے کہ انہوں نے اپنی گرتی ہوئی ساکھ بہتر بنانے اور بیرونی سرپرستوں کو متاثر کرنے کے لیے اپنے اوپر حملوں کے ڈرامے رچائے، جبکہ جولائی 2021 میں عید کی نماز کے دوران صدارتی محل پر حملے کی منصوبہ بندی کا الزام بھی ان پر عائد کیا جاتا ہے۔
دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ اربوں ڈالر خرچ ہونے کے باوجود افغان ریاست کا نظام بکھر گیا اور اب امراللہ صالح ناکام انٹیلی جنس، ناکام حکمرانی، ناکام انسدادِ دہشت گردی اور ناکام مزاحمت کی عبرت ناک علامت بن چکے ہیں۔ وہ شخص جو انٹیلی جنس اور سیاست کی ہر جنگ ہار گیا، اب محض توجہ حاصل کرنے کے لیے ان قوتوں پر تنقید کر رہا ہے جو ان خطرات سے مردانہ وار نمٹ رہی ہیں جنہیں شکست دینے میں وہ خود بری طرح ناکام رہا تھا۔