"> شام سے دہشت گردوں کی افغانستان منتقلی پر جیمز ٹاؤن فاؤنڈیشن کی رپورٹ

شام سے دہشت گردوں کی افغانستان منتقلی؛ بین الاقوامی سکیورٹی کے لیے سنگین خطرہ قرار

جیمز ٹاؤن فاؤنڈیشن کی رپورٹ کے مطابق شام میں کریک ڈاؤن کے بعد غیر ملکی دہشت گرد تیزی سے افغانستان منتقل ہو رہے ہیں، جو خطے کے لیے ایک نیا تزویراتی خطرہ ہے۔
جیمز ٹاؤن فاؤنڈیشن کی رپورٹ کے مطابق شام میں کریک ڈاؤن کے بعد غیر ملکی دہشت گرد تیزی سے افغانستان منتقل ہو رہے ہیں، جو خطے کے لیے ایک نیا تزویراتی خطرہ ہے۔

شام سے دہشت گردوں کی افغانستان منتقلی اور داعش و القاعدہ کے گٹھ جوڑ پر مبنی جیمز ٹاؤن فاؤنڈیشن کی حالیہ اسٹڈی کے اہم ترین انکشافات۔

July 6, 2026

عالمی تھنک ٹینک جیمز ٹاؤن فاؤنڈیشن کی جانب سے 3 جولائی 2026 کو شائع ہونے والی ایک حالیہ اسٹڈی کے مطابق شام کی نئی انتظامیہ کی جانب سے غیر ملکی جنگجوؤں کے خلاف سخت سکیورٹی کریک ڈاؤن، گرفتاریوں کے خوف اور بڑھتی ہوئی پابندیوں کے باعث بین الاقوامی دہشت گردوں نے ایک منظم تزویراتی منتقلی کا آغاز کر دیا ہے۔

یہ عناصر محفوظ پناہ گاہوں اور سازگار ماحول کی تلاش میں تیزی سے افغانستان کا رخ کر رہے ہیں، جہاں طالبان حکومت کی مبینہ سرپرستی اور پہلے سے موجود مضبوط نیٹ ورک ان کے لیے سب سے موزوں آماجگاہ ثابت ہو رہا ہے۔ اگرچہ ان دعوؤں کی آزاد ذرائع سے تاحال تصدیق نہیں ہو سکی ہے، تاہم اسٹریٹجک حلقوں میں اس پیش رفت پر شدید تشویش کا اظہار کیا جا رہا ہے۔

دہشت گردوں کی تعداد

رپورٹ کے مطابق افغانستان اس وقت دنیا میں بین الاقوامی دہشت گرد تنظیموں کی سب سے بڑی آماجگاہ بن چکا ہے۔ روسی وزارتِ خارجہ کے حالیہ تخمینوں کا حوالہ دیتے ہوئے بتایا گیا ہے کہ اس وقت افغان سرزمین پر 20,000 سے 23,000 کے قریب دہشت گرد سرگرم ہیں۔

اس خوفناک نیٹ ورک میں 3,000 کے قریب داعش خراسان کے کارندے، 5,000 سے 7,000 تحریک طالبان پاکستان کے جنگجو، 1,500 سے زائد القاعدہ کے ارکان، 1,200 تک ترکستان اسلامک پارٹی کے عناصر، 500 اسلامک موومنٹ آف ازبکستان کے جنگجو اور تقریباً 250 جماعت انصار اللہ کے ارکان شامل ہیں۔ ان میں سے نصف سے زائد افراد غیر ملکی جنگجو ہیں، جو افغانستان کے عالمی دہشت گردی کے مرکز بننے کی تصدیق کرتے ہیں۔

القاعدہ اور داعش کا گٹھ جوڑ

روسی جائزوں کے مطابق اب تک تقریباً 8,500 سے 9,000 ازبک، تاجک، ترکمن، اویغور اور شمالی قفقاز سے تعلق رکھنے والے تجربہ کار جنگجو شام سے کامیابی کے ساتھ افغانستان منتقل ہو چکے ہیں۔ یہ منتقلی القاعدہ سے وابستہ قائم شدہ نیٹ ورکس کے ذریعے انجام دی جا رہی ہے، جہاں پہلے سے موجود سینئر کمانڈرز ان نئے آنے والے جنگجوؤں کو وصول کر کے مقامی انفراسٹرکچر میں ضم کر رہے ہیں۔

اس کے ساتھ ہی، شام کی جانب سے اویغور ٹی آئی پی کے 3,000 جنگجوؤں اور دیگر تنظیموں کے ارکان کو 84 ویں ڈویژن میں ضم کرنے کی کوشش کی گئی، تاہم جن جنگجوؤں نے اس انضمام سے انکار کیا وہ اب داعش خراسان اور القاعدہ جیسے گروہوں کی طرف راغب ہو رہے ہیں، جس سے ان تنظیموں کی مہم جوئی، بھرتیوں کے نظام اور قیادت کو مزید تقویت مل رہی ہے۔

طالبان کے وعدے اور زمینی حقائق

اقوامِ متحدہ کی سلامتی کونسل کی مانیٹرنگ ٹیم کی پے در پے رپورٹس بھی اس تزویراتی خطرے کی تصدیق کرتی ہیں، جن کے مطابق طالبان کے دورِ حکومت میں علاقائی اور عالمی دہشت گرد تنظیموں کو نہ صرف تحفظ حاصل ہے بلکہ انہیں نقل و حرکت اور کارروائیوں کی مکمل آزادی دی گئی ہے۔ یہ صورتحال معاہدہ دوحہ کے تحت دہشت گردی کے خاتمے کے لیے کیے گئے طالبان کے وعدوں کی صریح خلاف ورزی ہے۔

جولائی 2022 میں کابل کے ایک سرکاری مہمان خانے میں القاعدہ کے سربراہ ایمن الظواہری کی ہلاکت اور دوحہ معاہدے کے تحت رہا ہونے والے 5,000 کے قریب طالبان قیدیوں کا دوبارہ میدانِ جنگ میں شامل ہو جانا اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ طالبان کی انسدادِ دہشت گردی کی ضمانتیں اپنی ساکھ کھو چکی ہیں۔

علاقائی خطرات

رپورٹ میں مزید انکشاف کیا گیا ہے کہ داعش خراسان شام کی اندرونی تقسیم کا بھرپور فائدہ اٹھاتے ہوئے اپنے پروپیگنڈے کے ذریعے غیر ملکی جنگجوؤں کو افغانستان آنے پر اکسا رہی ہے اور خود کو دنیا بھر میں سرحدوں سے آزاد واحد اسلامی خلافت کے طور پر پیش کر رہی ہے۔

مشرقِ وسطیٰ اور وسطی ایشیا سے تعلق رکھنے والے ان ہزاروں تربیت یافتہ اور جنگ آزمودہ جنگجوؤں کی آمد سے داعش خراسان اور القاعدہ کی بیرونی حملوں کی صلاحیت میں غیر معمولی اضافہ متوقع ہے۔ یہ تزویراتی تبدیلی نہ صرف پاکستان بلکہ وسطی ایشیائی ریاستوں، روس اور مغربی ممالک کے سلامتی کے مفادات کے لیے ایک انتہائی سنگین اور بڑا خطرہ بن چکی ہے۔

متعلقہ مضامین

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سعودی عرب کو یمن کے حوثیوں کے خلاف کارروائیوں میں اسرائیلی مدد قبول کرنے کا مشورہ دیا ہے۔

October 17, 2026

وادی تیراہ میں 4 دہشت گرد ہلاک اور 8 زخمی ہو گئے، جبکہ لکی مروت میں کوہاٹ پولیس لائنز حملے کا ماسٹر مائنڈ زاہد گل مارا گیا۔

October 16, 2026

روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے افغانستان میں دہشت گرد گروہوں کی موجودگی کو خطے کے لیے خطرہ قرار دے کر افغان طالبان کے پاکستان مخالف الزامات کو مسترد کر دیا۔

October 16, 2026

محسن نقوی کا دعویٰ ہے کہ گورنر راج میں حصہ اور گورنر شپ نہ ملنے پر ایک سیاسی جماعت کے سربراہ ناراض ہیں۔ انہوں نے سابق فاٹا کے وسائل اور خیبرپختونخوا کی سکیورٹی صورت حال پر بھی بات کی۔

October 16, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *