"> ٹی ٹی پی دہشت گرد کے جنازے پر پاکستان کے خلاف جنگ کی اپیل؛ یوناما خاموش
مولانا فضل الرحمان کی سیاست، مذہب کا سیاسی استعمال

اصولوں کی سیاست یا مفادات کا کھیل

مذہب، عسکری پالیسی اور جمہوریت کو اقتدار کی سیڑھی بنانے والے مولانا فضل الرحمان کی سیاست میں دوہرے معیار، سیاسی یوٹرنز اور مفاد پرستی کے تضادات نمایاں ہیں۔

دہشت گرد کی سرعام ستائش پر یوناما کی خاموشی اور منافقت بے نقاب

کابل میں ٹی ٹی پی کے مارے گئے دہشت گرد کے جنازے کے دوران طالبان نواز عالم نے پاکستان کے خلاف جنگ کی کھلی اپیل کی ہے، جس پر ‘یوناما’ کی خاموشی پر سوالات اٹھ گئے ہیں۔
دہشت گرد کی سرعام ستائش پر یوناما کی خاموشی اور منافقت بے نقاب

کابل میں ٹی ٹی پی کے نامزد دہشت گرد کی سرعام تمجید اور پاکستان مخالف نعرے بازی؛ اقوامِ متحدہ کے ادارے یوناما کا دوہرا معیار اور منافقت بے نقاب۔

July 7, 2026

افغانستان کے دارالحکومت کابل کے ضلع گلدرہ میں ایک جنازے کے دوران طالبان انتظامیہ سے وابستہ معروف عالم دین مولوی شیر علی حماد نے عوامی اجتماع میں پاکستان کے خلاف جنگ کی کھلی اپیل کرتے ہوئے شدید پاکستان مخالف نعرے لگوائے ہیں۔

27 جنوری 2026 کو منعقدہ اس اجتماع میں افغان عالم نے ناصرف پاکستان بلکہ کرغزستان، تاجکستان اور ازبکستان کو بھی غیر اسلامی ریاستیں قرار دے کر خطے میں ایک نئے سیکیورٹی بحران کی بنیاد رکھ دی ہے، جس سے افغان سرزمين سے دہشت گردی کی برآمد کے خدشات سچ ثابت ہو رہے ہیں۔

اقیادت سے روابط

رپورٹ کے مطابق پاکستان کے خلاف اشتعال انگیزی کرنے والے مولوی شیر علی حماد کو افغان طالبان کے وزیرِ اعلیٰ تعلیم مولوی حبیب اللہ آغا کا انتہائی قریبی ساتھی سمجھا جاتا ہے۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ وہ حبیب اللہ آغا اور قندھاری شوریٰ کے تزویراتی نیٹ ورک کے ذریعے متعدد بار طالبان کے سپریم لیڈر ملا ہبت اللہ اخوندزادہ سے بھی براہِ راست ملاقاتیں کر چکے ہیں، جس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ پاکستان مخالف بیانیے کو افغان طالبان کے اعلیٰ ترین حلقوں کی خاموش سرپرستی حاصل ہے۔

ٹی ٹی پی دہشت گرد

یہ متنازع جنازہ افغان نژاد خارجی قاری ایوب عرف ذاکر کے لیے منعقد کیا گیا تھا، جو تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کا سرگرم رکن تھا اور پاک۔افغانستان سرحد کے قریب سیکیورٹی فورسز کے ساتھ جھڑپ میں مارا گیا تھا۔

مولوی شیر علی حماد نے اپنے خطاب میں سنسنی خیز انکشاف کیا کہ قاری ایوب ذاکر محض ایک جنگجو نہیں تھا بلکہ وہ ماضی میں افغان طالبان کی انتظامیہ میں ایک باقاعدہ سرکاری عہدے پر بھی فائز رہ چکا تھا، جو افغان طالبان اور ٹی ٹی پی کے درمیان گہرے تنظیمی روابط کا منہ بولتا ثبوت ہے۔

یوناما کی منافقت

دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ افغانستان میں تشدد کی کارروائیوں کے دوران مارے جانے والے ٹی ٹی پی کے دہشت گردوں کو کھلے عام خراجِ عقیدت پیش کیا جانا ایک معمول بن چکا ہے، جہاں ان کے جنازوں کو دہشت گردی کی تمجید اور سرحد پار حملوں پر اکسانے کے پلیٹ فارم کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔

اس کے برعکس جب بھی پاکستان اپنی دفاعی خود مختاری کے تحت دہشت گردوں کی ان محفوظ پناہ گاہوں کو نشانہ بناتا ہے، تو اقوامِ متحدہ کا امدادی مشن برائے افغانستان یوناما فوری طور پر اپنی تمام تر توجہ شہری ہلاکتوں کے یکطرفہ الزامات پر مرکوز کر دیتا ہے۔

اب یہ بنیادی سوال پوری شدت سے اٹھ رہا ہے کہ پڑوسی ریاست کے خلاف کھلے عام تشدد اور جنگ پر اکسانے کے ان سنگین واقعات پر یوناما کی مذمت کہاں غائب ہے اور ایک نامزد عالمی دہشت گرد کی عوامی سطح پر تمجید پر اقوامِ متحدہ کے اس ادارے کی تشویش کیوں دکھائی نہیں دیتی؟

متعلقہ مضامین

وادی تیراہ میں 4 دہشت گرد ہلاک اور 8 زخمی ہو گئے، جبکہ لکی مروت میں کوہاٹ پولیس لائنز حملے کا ماسٹر مائنڈ زاہد گل مارا گیا۔

October 16, 2026

روسی وزیر خارجہ سرگئی لاوروف نے افغانستان میں دہشت گرد گروہوں کی موجودگی کو خطے کے لیے خطرہ قرار دے کر افغان طالبان کے پاکستان مخالف الزامات کو مسترد کر دیا۔

October 16, 2026

محسن نقوی کا دعویٰ ہے کہ گورنر راج میں حصہ اور گورنر شپ نہ ملنے پر ایک سیاسی جماعت کے سربراہ ناراض ہیں۔ انہوں نے سابق فاٹا کے وسائل اور خیبرپختونخوا کی سکیورٹی صورت حال پر بھی بات کی۔

October 16, 2026

دفاعی تجزیہ کار میجر جنرل ریٹائرڈ طارق رشید کا کہنا ہے کہ افغانستان میں چھوڑے گئے اربوں روپے کے امریکی ہتھیار پاکستان میں دہشت گردی پھیلانے کے لیے استعمال ہو رہے ہیں۔

October 16, 2026

رائے دیں

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *