افغانستان کے دارالحکومت کابل کے ضلع گلدرہ میں ایک جنازے کے دوران طالبان انتظامیہ سے وابستہ معروف عالم دین مولوی شیر علی حماد نے عوامی اجتماع میں پاکستان کے خلاف جنگ کی کھلی اپیل کرتے ہوئے شدید پاکستان مخالف نعرے لگوائے ہیں۔
27 جنوری 2026 کو منعقدہ اس اجتماع میں افغان عالم نے ناصرف پاکستان بلکہ کرغزستان، تاجکستان اور ازبکستان کو بھی غیر اسلامی ریاستیں قرار دے کر خطے میں ایک نئے سیکیورٹی بحران کی بنیاد رکھ دی ہے، جس سے افغان سرزمين سے دہشت گردی کی برآمد کے خدشات سچ ثابت ہو رہے ہیں۔
اقیادت سے روابط
رپورٹ کے مطابق پاکستان کے خلاف اشتعال انگیزی کرنے والے مولوی شیر علی حماد کو افغان طالبان کے وزیرِ اعلیٰ تعلیم مولوی حبیب اللہ آغا کا انتہائی قریبی ساتھی سمجھا جاتا ہے۔
ذرائع کا کہنا ہے کہ وہ حبیب اللہ آغا اور قندھاری شوریٰ کے تزویراتی نیٹ ورک کے ذریعے متعدد بار طالبان کے سپریم لیڈر ملا ہبت اللہ اخوندزادہ سے بھی براہِ راست ملاقاتیں کر چکے ہیں، جس سے یہ واضح ہوتا ہے کہ پاکستان مخالف بیانیے کو افغان طالبان کے اعلیٰ ترین حلقوں کی خاموش سرپرستی حاصل ہے۔
ٹی ٹی پی دہشت گرد
یہ متنازع جنازہ افغان نژاد خارجی قاری ایوب عرف ذاکر کے لیے منعقد کیا گیا تھا، جو تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کا سرگرم رکن تھا اور پاک۔افغانستان سرحد کے قریب سیکیورٹی فورسز کے ساتھ جھڑپ میں مارا گیا تھا۔
مولوی شیر علی حماد نے اپنے خطاب میں سنسنی خیز انکشاف کیا کہ قاری ایوب ذاکر محض ایک جنگجو نہیں تھا بلکہ وہ ماضی میں افغان طالبان کی انتظامیہ میں ایک باقاعدہ سرکاری عہدے پر بھی فائز رہ چکا تھا، جو افغان طالبان اور ٹی ٹی پی کے درمیان گہرے تنظیمی روابط کا منہ بولتا ثبوت ہے۔
یوناما کی منافقت
دفاعی ماہرین کا کہنا ہے کہ افغانستان میں تشدد کی کارروائیوں کے دوران مارے جانے والے ٹی ٹی پی کے دہشت گردوں کو کھلے عام خراجِ عقیدت پیش کیا جانا ایک معمول بن چکا ہے، جہاں ان کے جنازوں کو دہشت گردی کی تمجید اور سرحد پار حملوں پر اکسانے کے پلیٹ فارم کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔
اس کے برعکس جب بھی پاکستان اپنی دفاعی خود مختاری کے تحت دہشت گردوں کی ان محفوظ پناہ گاہوں کو نشانہ بناتا ہے، تو اقوامِ متحدہ کا امدادی مشن برائے افغانستان یوناما فوری طور پر اپنی تمام تر توجہ شہری ہلاکتوں کے یکطرفہ الزامات پر مرکوز کر دیتا ہے۔
اب یہ بنیادی سوال پوری شدت سے اٹھ رہا ہے کہ پڑوسی ریاست کے خلاف کھلے عام تشدد اور جنگ پر اکسانے کے ان سنگین واقعات پر یوناما کی مذمت کہاں غائب ہے اور ایک نامزد عالمی دہشت گرد کی عوامی سطح پر تمجید پر اقوامِ متحدہ کے اس ادارے کی تشویش کیوں دکھائی نہیں دیتی؟